پنجاب کے بجٹ میں غریبوں کے لئے ریلیف

پنجاب کے بجٹ میں غریبوں کے لئے ریلیف
پنجاب کے بجٹ میں غریبوں کے لئے ریلیف

  



مرکزی حکومت کے بعد پنجاب کی صوبائی حکومت نے بھی 282ارب کا بجٹ پیش کر دیا ہے، مرکز اور صوبے دونوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کا پیش کردہ بجٹ عوام دوست ہے، آنے والا وقت بتائے گا، ان دعوو¿ں میں کتنی صداقت ہے، فی الحال ہم پنجاب حکومت کے بجٹ پر اپنے آج کے کالم کے متن کور کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ تازہ ترین صورت حال کو اپنے دامن میں لئے ہوئے یہی بجٹ ہے جبکہ مرکزی بجٹ پر کافی لے دے ہو چکی ہے، جس میں ہم اپنا نقطہ نظر پیش کر چکے ہیں، عوام کو اس وقت مہنگائی، بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، اس تناظر میں پنجاب حکومت کا نئی 80 ہزار آسامیاں پیدا کرنے کا اعلان خوش آئند ہے۔ مگر ان میں اضافہ ہونا چاہئے، پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا بڑا صوبہ ہے، 80 ہزار آسامیاں دیکھا جائے تو اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے، انہیں بڑھانا بہت ضروری ہے، اسی طرح مزدور کی کم از کم تنخواہ 9ہزار روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔چلیں مزدور کی اس سے اشک شوئی ہوئی ہے، مگر مہنگائی کے تناسب سے ابھی بھی گنجائش ہے کہ صوبائی حکومت مزدور کو تنخواہ کے حوالے سے مزید ریلیف دے سکتی ہے، حقیقت یہی ہے کہ اب مزدوروں، کسانوں اور بے وسیلہ لوگوں کی نظریں پنجاب حکومت پر لگی ہوئی ہیں کیونکہ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی جماعت تو گزشتہ 35برسوں میں عوام کو نہ تو روٹی دے سکی ہے اور نہ ہی کپڑا اور مکان، بلکہ اب تو صورت حال یہ ہے، جن کے پاس مکان تھے، ان کے مکانوں پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، سو عوام کا آخری سہارا اب پنجاب حکومت ہے۔اس وقت لوڈشیڈنگ نے عوام کو بہت پریشان کر رکھا ہے، اس عذاب کی وجہ سے کارخانے بندپڑے ہیں جبکہ مزدور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے ہوئے ہیں، اس موقع پر پنجاب حکومت کا یہ اعلان کہ پنجاب اپنے بجلی گھر لگائے گا، بہت حوصلہ افزا ہے، پنجاب اگر اپنے صوبے کی حد تک بجلی پیدا کرنے کی اہلیت حاصل کر لیتا ہے تو اس سے نہ صرف اسے مرکزی حکومت کی طرف بار بار دیکھنے سے نجات مل جائے گی بلکہ صوبے کی سطح تک بجلی کا نظام بہتر کرنے کا بھی موقع مل جائے گا۔پولیس میں 10ہزار نئی بھرتیوں کی بات بھی دو لحاظ سے بہتر ہے، پہلی بات یہ کہ لوگوں کو روزگار ملے گا، دوسری بات یہ کہ عوام کو سیکیورٹی کے حوالے سے ریلیف ملے گا جبکہ امن و امان کے لئے 60ارب روپے رکھے گئے ہیں، اس وقت امن و امان کا قیام انتہائی ضروری ہے، بدامنی کی وجہ سے انویسٹر ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں اور نیا انویسٹر کوئی ملک میں آ نہیں رہا، سرمایہ کار کا اعتماد بحال کرنے کے لئے امن و امان کی صورت حال بہتر کرنا ناگزیر ہے، غریب پرور سکیموں کے لئے 34ارب روپے رکھے گئے ہیں، اس سے یقینا غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی، ایک عام شہری کا معیار زندگی بلند کرنا بہت ضروری ہے، عوام کو رہائشی سہولتوں کے لئے 4نئی آشیانہ سکیموں کا شروع کرنا بھی اچھا اقدام ہے، بے گھر لوگوں کو گھر دینے کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کو آگے آنا چاہئے تھا، کیونکہ یہ تو ان کے نعرے کا حصہ بنی ہے بلکہ اسے انہوں نے اپنے سلوگن میں شامل کر رکھا ہے مگر پیپلز پارٹی جس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ چاروں صوبوں کی زنجیر ہے وہ عوام کو رہائشی سہولتیں دینے کے حوالے سے خاموش ہے بلکہ خاموش تماشائی ہے۔وزراءاور ارکان اسمبلی کے اخراجات میں 5فیصد کمی کا اعلان بھی حوصلہ افزا ہے، ہمارا ملک ایک ترقی پذیر ملک ہے، ہمیں سادگی اختیار کرنی چاہئے اور اس سادگی کا سب سے زیادہ اطلاق حکومتی عہدے داروں اور ممبران اسمبلی پر ہوتا ہے، سادگی اختیار کر کے خزانے پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے، ویسے بھی سادگی کا اپنا ایک حسن ہے، جس سے کسی بھی فرد کو محروم نہیں رہنا چاہئے جو لوگ سادگی اختیار نہیں کرتے، وہ یقینا حسن سے دور رہتے ہیں، ارکان اسمبلی کے اخراجات میں مزید کمی کرنی چاہئے تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ خوبصورت ہو جائیں۔شعبہ صحت پر 84ارب روپے خرچ کئے جائیں گے، اس سے یقینا علاج معالجے کی سہولتوں کو بہتر کیا جا سکے گا اور پھر ڈاکٹروں اور ہسپتال کے دیگر عملہ کے مسائل حل کرنے میں بھی مدد ملے گی،آئے روز ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی ہڑتالوں کا بھی کوئی حل نکالنا چاہئے۔ ان کے جائز مطالبات کو مان لینا ہی بہتر ہوگا، اب جو صحت کے حوالے سے اتنی کثیر رقم مختص کی گئی ہے، اس سے ہسپتال کے سٹاف اور ڈاکٹروں کے مطالبات مان لئے جائیں گے اور ان کے مسائل بھی حل ہوں گے۔ پنجاب حکومت تین نئے ڈیم بنانے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس کے لئے ایک ارب 87کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، یہ بہت اچھی بات ہے، ڈیموں سے جہاں بجلی پیدا کرنے کا کام لیا جاتا ہے، وہاں فصلوں کے لئے پانی بھی سٹور کیا جاتا ہے، ڈیم تو جتنے بھی ہوں کم ہیں، اس طرف بہت پہلے توجہ دینی چاہئے تھی مگر دیر آید درست آید کے مصداق یہ بھی غنیمت ہے کہ ڈیم بنانے کا خیال تو آیا جلد نہیں تو دیر سے ہی سہی۔یک بات جو کہ پنجاب میں خاص طور پر دیکھی جاتی ہے، وہ ہے عوام کا تعلیمی معیار بہتر کرنا، اس حوالے سے پنجاب حکومت اقدامات کرتی رہتی ہیں، موجودہ بجٹ میں غریب طلباءکے تعلیمی اخراجات حکومت برداشت کرے گی،مزید ایک لاکھ 25ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کئے جائیں گے، 50ہزار گریجویٹس کو 4ماہ تک 10ہزار روپے ماہانہ مشاہرے پر انٹرن شپ دی جائے گی جبکہ مزید 8 دانش سکول کھولے جائیں گے، پنجاب حکومت جانتی ہے کہ تعلیم کی اہمیت کم نہیں کی جا سکتی، جس ملک میں تعلیم کی فراوانی ہو وہ ملک ہمیشہ ترقی کی دوڑ میں نظر آتا ہے، بجلی اور تعلیم انسان کو پسماندگی سے دور رکھتے ہیں اور اجالوں میں جینے کا ڈھنگ سکھاتے ہیں، وزیراعلیٰ کا ان دونوں پہلوو¿ں پر مثبت اقدام اٹھانا ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے اور عوام امید لگائے بیٹھے ہیں کہ یہ قدم کب اٹھایا جائے گا اور ہم سرخرو ہوں گے۔ پنجاب کا یہ بجٹ وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن پڑھ رہے تھے اور میں یہ بڑے غور سے سن رہی تھی۔میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن کے جذبات بجٹ پیش کرتے ہوئے یوں لگ رہے تھے کہ وہ ن لیگ کے جیالوں کی طرح بجٹ پڑھنا چھوڑ کر شہباز شریف کے نعرے لگائیں، جو لوگ بجٹ تقریر سن رہے تھے ان میں ق لیگ، پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کے منہ پر تالے لگے ہوئے تھے، کبھی کبھی وہ تالے کھولنے کی کوشش کرتے تھے مگر چابی شاید غلط لگ جاتی تھی، بہرحال ان کے چہرے کے تاثرات اپوزیشن والے نہیں تھے، یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وفاق اور پنجاب دونوں بھائیوں نے مل کر کچھ ایسا ہی منصوبہ بنایا ہوگا، ق لیگ والے تو میاں مجتبیٰ شجاع کی تقریر پر غلطی سے تالیاں بھی بجا دیتے تھے، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن کی جذباتی تقریر میں مداخلت کرنے والا کوئی نہیں تھا، اس لئے وہ اس وقت کامیاب مقرر لگ رہے تھے، ان کے پیچھے قوسِ قزح کے رنگ ارکان اسمبلی خواتین کی صورت میں بکھرے ہوئے تھے، لال پیلے نیلے، فروزی، سفید، کالے دوپٹے نظر آ رہے تھے اور ان کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے، یقینا یہ سب رنگ ن لیگ کے تھے، جب بجٹ میں خواتین کے بارے میں کافی ریلیف دیا گیا، مثلاً نوکریاں، تعلیم، قرضے وغیرہ وغیرہ تو خواتین نعرے مارنے سے رہ نہ سکیں، انہوں نے بجٹ کوتالیوں کی گونج سے سراہا اور یہ تالیاں کافی دیر تک سنائی دیتی رہیں، ان تالیوں کو گونج میں، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی آواز کو اور اونچا کر دیا تاکہ ان کے بولے ہوئے الفاظ دب نہ جائیں۔اس دوران میری نظر وزیراعلیٰ پنجاب کے چہرے پر پڑی، وہ حسب عادت چہرے پر انگلی رکھے ہوئے مسکرا رہے تھے کیونکہ بجٹ پڑھنے والے نے بجٹ وزیراعلیٰ کی امیدوں سے زیادہ بلند کر دیا، وزیراعلیٰ اطمینان سے بجٹ سن رہے تھے اور ارکان اسمبلی کے چہروں پر بھی تھوڑی تھوڑی دیر بعد نظر پھیر رہے تھے، خاص طور پر اپوزیشن کی طرف۔ حیران کن بات یہ تھی کہ یہ بجٹ پرسکون ماحول میں پیش کیا گیا، آخر میں میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مبارک باد پیش کی، دیکھتے ہی دیکھتے ارکان اسمبلی کے چند سینئر لوگوں اور شہباز شریف نے میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن کے کندھے پر تھپکی دی اور انہیں بلند حوصلے سے بجٹ پڑھنے پر مبارک دی، سننے میں تویہ بجٹ کامیاب بجٹ تھا مگر دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا اس پر اسی طرح عمل کیا جائے گا، جس طرح یہ پیش کیا گیا ہے، آخر میں اپوزیشن کی چند خواتین اور مردوں سے بات ہوئی، ان سے پوچھا گیا کہ اس بجٹ میں کوئی شور شرابہ نہیں ہوا اور پھر یہ پوچھا گیا کہ یہ بجٹ آپ کو کیسے لگا، انہوں نے جواب دیا ہم تو جنازے میں آئے ہوئے تھے اور جنازے میں بولا نہیں کرتے، ساجدہ میر حسب عادت ایسے خوبصورت الفاظ بولنے کی عادی ہیں، جس پر میں مسکرائی اور اسمبلی سے باہر آ گئی۔

مزید : کالم