مغرب کی ٹیکنالوجیکل روایات

مغرب کی ٹیکنالوجیکل روایات
مغرب کی ٹیکنالوجیکل روایات

  

ماضی کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھیں تو اس صداقت سے انکار نہیں کیا جا سکتاکہ اسلامی اقتدار کا گلوبل تاجِ خسروی اگر مسلمانوں سے مغرب نے چھینا تو اس کی سب سے بڑی وجہ مسلمانوں کا ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی علوم سے بچھڑجانا تھا۔عالم اسلام آج بھی بہت بُری طرح یہ سزا بھگت رہا ہے اور خدا جانے مستقبل میں کب تک بھگتتا رہے گا۔

مغرب کی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کچھ نئی ٹیکنالوجیکل روایات کا پیدا ہونا بھی ناگزیر تھا۔مجھے اہل مغرب کی یہ روائت بہت پسند ہے کہ وہ ہر نئی ایجاد کو اس وقت تک پردئہ اخفاء میں رکھتے ہیں،جب تک اس کا افشاناگزیر نہ ہو جائے یا جب تک اس کو فاش کرنا ملک و قوم کے وسیع تر مفادات کا تقاضا نہ بن جائے۔

ایک طویل عرصے سے مغربی ممالک میں ٹیکنالوجیکل رازوں کا افشا یا اخفا کسی حکومتی یا ادارتی (مثلاًعسکری) پریشر اور ان کے خوف کی وجہ سے نہیں، بلکہ صاحبِ ایجاد کی صوابدید اور ضمیر کی آواز پر منحصر ہے۔ مثلاً جب امریکہ نے پہلا ایٹمی تجربہ کیا اور جاپانی شہروں پر بم گرانے کے بعد اس تجربے کی حیرت انگیز کامیابی کا ثبوت مل گیا تو اس راز کے راز داں، سائنس دان میاں بیوی نے اپنے ضمیر کی آواز پر فیصلہ کیا کہ اگر بہت جلد ایٹمی راز دوسری سپرپاور (سوویت یونین) کونہ پہنچائے گئے تو جاپان کا تجربہ بہت سے دوسرے ممالک پر بھی دہرایا جائے گا۔یہ یک طرفہ معاملہ ہو جائے گا اور انسان کو خدائی صفات تک رسائی مل جائے گی۔امریکہ کا انسان، دنیا کے کسی بھی خطے میں جوہری توانائی کا استعمال کرکے ”خدا“ بننے کی کوشش کرے گا۔چنانچہ اس جوڑے نے یہ راز روس تک پہنچا دیئے اور اس طرح سوویت یونین نے بھی 1949ءمیں ایٹم بم کا تجربہ کرلیا۔یہ کام روزن برگ فیملی نے روپے پیسے کے حصول کے لئے نہیں، بلکہ نسلِ انسانی کو بچانے کے لئے کیا تھا۔دونوں میاں بیوی کو اگرچہ حکومت امریکہ نے پھانسی کی سزا دے دی تھی، لیکن انہوں نے جو روائت قائم کی، وہ قابلِ رشک تھی۔بعض اوقات ملک و قوم کی سطح سے اوپر اٹھ کر گلوبل لیول تک سوچنا اور عمل کرنا پڑتا ہے۔

دوسرا واقعہ جو میں قارئین کو یاد دلانا چاہتا ہوں اس کا تعلق بھی امریکہ سے ہے۔ کئی عشرے قبل جب پہلی بار راڈار ایجاد ہوا تھا تو اس نے دنیا کی تقدیر بدل دی تھی!....عسکری تاریخ گواہ ہے کہ اگر برطانیہ 1940ءمیں راڈار ایجاد نہ کرلیتا تو ہٹلر، جزائر برطانیہ کو روندنے کے لئے بالکل تیار تھا۔برطانیہ کو اگر کسی نے بچایا تو وہ انگلش چینل اور راڈار تھے۔”بیٹل آف برٹن“ کا سرسری مطالعہ کریں تو اس دعوے کا ثبوت مل جائے گا۔

لیکن جونہی راڈار ایجاد ہوا، فوراً ہی اس کا توڑ معلوم کرنے کی تگ و دو ہونے لگی۔تقریباًدنیا کے سارے ممالک اس دوڑ میں شامل تھے، مگر کامیابی صرف امریکی کوشش و کاوش کا ثمر تھی۔تقریباً تین عشرے قبل امریکی فضائیہ نے سیٹلتھ ٹیکنالوجی دریافت کرلی تھی، لیکن اس راز کو آج تک سینے سے لگا رکھا ہے۔اس کا استعمال دوبار دیکھنے میں آیا ہے.... ایک بار 1990-91ءمیں عراق پر امریکی حملے (آپریشن ڈسٹ سٹارم) میں جب امریکی فضائیہ نے ایف 117اور بی ۔1، بی ۔2سیٹلتھ طیاروں کی مدد سے عراق پر حملے کا آغاز کیا تھا اور دسری بار حال ہی میں اسامہ بن لادن پر شب خون مار کر اسے ہلاک کرنے میں....

پچھلے دنوں شکاگو(امریکہ) میں ناٹو ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس ہوئی تھی، جس میں آخری لمحات میں شرکت کے لئے ہمارے صدر محترم کو بھی دعوت نامہ ملا تھا۔اسی روز ناٹو کے ایک فرانسیسی ائر مارشل نے اپنے ایک مضمون میں جو مغرب کے پرنٹ میڈیا میں چھپا(اور جس پر راقم السطور نے بھی ایک کالم اسی روزنامہ ”پاکستان“ میں تحریر کیا)یہ انکشاف کیاکہ لیبیا پر ناٹو کے فضائی حملوں کے دوران معلوم ہوا کہ ہماری فضائیہ کی کارکردگی کا غالب داردومدار ان معلومات اور اطلاعات پر تھا جو امریکہ نے اپنے خلائی سیاروں سے فراہم کرکے ہمیں پہنچائیں۔اگر امریکہ یہ معلومات ناٹو کو فراہم نہ کرتا تو معمر قذافی کی ائر ڈیفنس فورسز کو اتنے کم عرصے میں بے دست و پا اور برباد نہ کیا جا سکتا ۔

امریکہ ایک طویل عرصے سے اوپر خلاﺅں سے دنیا کے سارے ممالک کی ریکی کررہا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ ریکی (یا جاسوسی) اتنی حقیقی اور تفصیلی ہے کہ اس کو کام میں لا کر زمین پر کسی بھی جگہ ایک مربع میٹرتک درست فضائی نشانے لگائے جا سکتے ہیں۔یہ جو فاٹا پر آئے روز حملے ہوتے ہیں، یہ بھی خلائی جاسوسی سے حاصل کردہ ان معلومات کی بناءپر کئے جاتے ہیں جن کا کچھ ذکر ہم آگے چل کر کرنے والے ہیں....امریکہ کو کریڈٹ دینا چاہیے کہ اس نے خلائی سیاروں کی مدد سے حاصل کئے گئے کوآرڈی نیٹس(خطوط طول بلد اور عرض بلد) کو مسلح ڈرونوں میں استعمال کیا اور فاٹا جیسی مشکل اور کوہستانی سرزمین میں چھپے القاعدہ کے رہنماﺅں کو نشانہ بنایا۔ان حملوں میں جو بے گناہ شہری مارے جا چکے ہیں یا مارے جارہے ہیں، ان پر واویلا مچانے کی بجائے ہمیں بھی امریکی شہریوں پر جوابی ڈرون حملے کرنے چاہیے....اگر حساب برابر کرنا ہے تو اس کا تقاضا تو یہی ہے....اگر امریکہ اپنے وسیع و عریض ملک کے کروڑوں باشندوں کو فضائی، بحری اور بری حملے سے بے نیاز کرکے ان کو چین کی نیند فراہم کررہا ہے تو امریکیوں کی آنکھوں سے یہ نیندیں اڑائی بھی جا سکتی ہیں۔ لیکن جانِ من!اگر یہ ہمت نہ ہو تو خواہ مخواہ اچھلنے کودنے سے فائدہ؟

نہ جرات ہے نہ خنجر ہے تو”پھر یہ شوروغل“ کیسا؟

یہ مانا دردِ ناکامی گیا تیرا گزر حد سے

کچھ روز پہلے مجھے معلوم ہوا کہ ڈرونوں کو فاٹا اہداف کے کوارڈی نیٹس(Co-ordinates)امریکی سیاروں سے نہیں بلکہ ایک امریکی دوربین سے مل رہے ہیں....امریکہ کی ٹیکنالوجیکل روایات کی استواری ملاحظہ کریں کہ چند روز پہلے تک کسی کو بھی خبر نہیں تھی کہ اوپر فضاﺅں میں سیاروں کے علاوہ دوربینیں بھی ”نصب“ ہیں۔

آپ نے ہبل(Hubble)ٹیلی سکوپ کا نام تو سن رکھا ہوگا۔یہ امریکہ (NASA)کی ان دو دوربینوں میں سے ایک ہے جو خلاءمیں موجود”بلیک ہول“ (Black Hole)کا سراغ لگا رہی ہیں۔دوسری دوربین کانام سپٹزر(Sptizar)ہے۔ گزشتہ اتوار (10جون 2012ء) کو پروفیسر عطاءالرحمن صاحب (سابق وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ہائر ایجوکیشن) کا ایک مضمون روزنامہ”ڈان“ میں شائع ہوا جس میں وہ لکھتے ہیں:”1999ءمیں ناسا نے ایک آبزرویٹری (رصدگاہ) خلا میں بھیجی تھی کہ معلوم کرے کہ خلاءمیں بلیک ہول کی وجہ کیا ہے“....حال ہی میں اس ”چندرا آبزرویٹری“(Chandra)سے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق بالائی سپیس میں دو کروڑ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آندھیاں اور جھکڑ چل رہے ہیں جو ستاروں کو بلیک ہول کے نزدیک نہیں آنے دیتے۔اگر ستارے اس جگہ آ جاتے تو یہ کہکشاں بن جاتی، بلیک ہول نہ رہتی۔

یاد رہے کہ ہمارے نظام شمسی کی طرح کے ہزاروں نظام شمسی، خلاﺅں میں اسی دوربین کی مدد سے دیکھے جا سکتے ہیں۔پھر ان کے آگے کہکشائیں بکھری ہوئی ہیں۔زمین سے ان کا فاصلہ بے حدوحساب ہے۔ان کہکشاﺅں سے آگے اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔بلیک ہول اسی اندھیرے کو کہتے ہیں۔اس ”اندھیرے سوراخ“ میں کیا ہے ، اس کی خبر تاحال کسی انسان کو نہیں ہو سکی....اللہ اللہ ہبل جیسی دوربینوں کی رسائی کی حد دیکھئے اور پھر اس حد کی بے بضاعتی دیکھیں اور پھر واقعہ ءمعراج کو یاد کریں اور آنحضورﷺ کی رسائی ملاحظہ فرمائیں۔

بے حجابی سے تری ٹوٹانگاہوں کا طلسم

اک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں

عشق کی اک جست نے طے کردیا قصہ تمام

اس زمین و آسماں کو بیکراں سمجھا تھا میں

قارئین کرام! ایک این آر او(NRO) امریکہ میں بھی ہے۔اس کا مطلب ”نیشنل ری کانسلی ایشن آرڈیننس“ نہیں ، بلکہ ”نیشنل ریکانے سینس آفس“ ہے۔یہ وہ ”دفتر“ ہے کہ جو امریکی سیاروں کے ”بیڑے“ کو آپریٹ کرتا ہے۔پچھلے دنوں واشنگٹن کے ایک اخبار میں ایک چھوٹا سااشتہار شائع ہوا،جس میں اس دفتر کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی تھی کہ ہمارا ایک ”ہارڈوئر“ قابل فروخت ہے، کیا ناسا اس کی خرید میں دلچسپی رکھتا ہے؟

آج کل ڈاکٹر جان گرنس فیلڈ (John Gruns feld)ناسا کا ایڈمنسٹریٹر ہے۔یہ امریکہ کا ایک سابق خلا بازہے اور حال ہی میں ناسا میں پوسٹ ہو کر آیا ہے۔وہ جب یہ ’ہارڈوئر“ دیکھنے NROپہنچا تو دیکھا کہ وہ ایک دوربین ہے،جس کا سائز، ہبل دوربین کے سائز جتنا ہے، لیکن اس کو زمین سے خلاءکی طرف دیکھنے کے لئے نہیں، بلکہ خلاءسے زمین کی طرف دیکھنے کے لئے بنایا گیا تھا!.... ڈاکٹر گرنس فیلڈ کئی بار”ہبل“ کی مرمت کے لئے خلاءمیں جا چکا تھا، اس لئے وہ ان دوربینوں کی ساخت اور فنکشن سے بخوبی آگاہ تھا۔اس نے دیکھا کہ اس دوربین کی مدد سے ”بلیک ہول‘ ‘کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔اس دوربین کا قطر اگرچہ ہبل جتنا یعنی 94انچ ہے، لیکن اس کی لمبائی (Focal Length)،ہبل سے کم ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جب آنکھ اس دوربین کے عدسے سے باہر دیکھتی ہے تو منظرزیادہ پھیلتا اور زیادہ چوڑا ہوجاتا ہے،جبکہ ”ہبل“ میں ایسا نہیں،کیونکہ وہ دور خلاﺅں میں دیکھنے کے لئے بنائی گئی تھی جبکہ NROکی یہ دوربین ”زمین کو دیکھنے“ کے لئے بنائی گئی تھی۔

این آر او (NRO)والوں نے اس قسم کی نجانے کتنی اور دوربینیں خلا میں جاکر”لٹکا“ دی ہوں گی۔ان کی مدد سے جب زمین پر جھانکا جاتا ہے تو نہ صرف جنگل کا ایک ایک درخت نظر آتا ہے، بلکہ پتہ پتہ اور بوٹا بوٹا نگاہوں کے سامنے پھیل جاتا ہے۔ہر پتے کے اندر جو ننھی ننھی رگیں بنی ہوئی ہیں، وہ بھی صاف صاف دیکھی جا سکتی ہیں!یہی وہ نئی ٹیکنالوجی کی ”روایات“ ہیں ،جن کے طفیل ہمارے فاٹا کی ہر چاپائی پر بیٹھے ہر صاحبِ ریش کی داڑھی کے بال گنے جا سکتے ہیں۔”نیشنل ریکا نے سنس آفس“ ناسا کا حصہ نہیں۔یہ ایک خود مختار ادارہ ہے، اس کا اپنا بجٹ ہے اور اس کی معلومات جن اداروں کو ارسال کی جاتی ہیں، ان میں پینٹاگون پیش پیش ہے....امریکیوں نے اس قسم کی ایجادات کو سنبھال کر رکھنے کی جو روایات اپنا رکھی ہیں۔اور جن کا انکشاف صرف”حادثاتی“ طور پر ہی کیا جاتا ہے، وہ اگر قابل رشک نہیں ہوں گی تو اور کیا ہوں گی؟....اس لئے تو اقبال نے کہا تھا:

کھلے ہیں سب کے لئے غربیوں کے مے خانے

علومِ تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں

مزید :

کالم -