حامد سعید کاظمی کے لہجے کی تلخی!

حامد سعید کاظمی کے لہجے کی تلخی!
حامد سعید کاظمی کے لہجے کی تلخی!

  

علامہ احمد سعید کاظمی بہت بڑے جید عالم اور پرہیزگار تھے، ان کو ان کی علمی قابلیت، اہلیت اور کردار کی وجہ سے غزالیءدوراں کہا جاتا ہے۔ جمعیت علمائے پاکستان کے بانی صدر حضرت علامہ ابوالحسناتؒ اوران کے اکلوتے صاحبزادے امین الحسنات، سید خلیل احمد قادریؒ کے توسط اور حوالے سے ہم بھی ان سے متعارف تھے۔ ہمارے دوست اور بھائی ولی محمد واجد (مرحوم) چیف رپورٹر روزنامہ ”امروز“ ملتان ایک اور متعلق تھے کہ ہم ان کی معیت میں جب بھی غزالیءدوراں سے ملے تو علمی معلومات کے حصول کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی گفتگو بھی ہو جاتی تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ روزنامہ ”امروز“ لاہور میں فرائض کی ادائیگی کے دوران عائلی قوانین اور حدود کے حوالے سے دینی بحث چل نکلی۔ بڑے بڑے ثقہ بزرگوں نے اظہار خیال کیا اور مضامین بھی لکھے کہ عورت کی گواہی یا شہادت نصف ہے یا مکمل؟.... دوسرے، معنوں میں کیا خاتون کی گواہی مرد کے برابر ہوگی یا دوخواتین کی شہادت ایک مرد کے برابر ہوگی۔ یہ بحث طویل ہوتی چلی گئی اور روشن خیال حضرات نے بہت زیادہ اصرار کے ساتھ خاتون اور مرد کی گواہی برابر قرار دی ہے اور اچھے دلائل کے ساتھ مقالے لکھے۔ ہمیں یاد ہے کہ اس علمی بحث کے ساتھ ساتھ ہٹ دھرمی والا سلسلہ بھی چلتا رہا، تاہم مجموعی طور پر گفتگو دائرہ اخلاقی ہی کے اندر رہی۔ اس سلسلے میں دینی طبقے کا موقف یہی تھا کہ خاتون کی گواہی نصف کے برابر ہے۔ یہ سلسلہ جاری تھا کہ ہمارے ایڈیٹر نے ہمیں ہدایت کی کہ کسی ایسے عالم باعمل سے مضمون لکھوایا جائے جو اتھارٹی سمجھے جاتے ہوں، تاکہ اس طویل سلسلہ بحث کا اختتام ہو سکے۔ ہم نے اپنے بزرگ دوست خلیل احمد قادریؒ سے رجوع کیا تو انہوں نے غزالیءدوراں علامہ احمد سعید کاظمیؒ سے رجوع کرنے کے لئے کہا۔ وہ ان دنوں ملتان میں مقیم تھے اور ایک مدرسہ چلاتے تھے۔ ہم نے اپنے دوست، بھائی ولی محمد واجد سے بات کی اور پھر ملتان حاضر ہوگئے۔ علامہ احمد سعید کاظمی سے درخواست کی، وہ اس اپیل اور درد مندانہ درخواست کے نتیجے میں مان گئے اور اُنہوں نے امروز کے لئے تین یا چار اقساط پر ایک تفصیلی مضمون تحریر فرما دیا۔ یہ تحریر عورت کی شہادت پر حرف آخر ثابت ہوئی۔ قرآن و حدیث سے استفادے کے علاوہ دور جدید کے مفکرین اور مستشرتین کے خیالات و افکار سے بھی استفادہ کیا گیا تھا۔ چنانچہ علامہ کاظمیؒ نے عورت کی نصف شہادت پر مہر ثبت کر دی۔حضرت علامہ احمد سعید کاظمیؒ کے حوالے سے یہ واقعہ لکھنے کی وجہ ان کے صاحبزادے علامہ حامد سعید کاظمی کی فریاد نما تقریر بنی، جو انہوں نے جمعہ کو قومی اسمبلی میں کی۔ مولانا یا علامہ حامد سعید کاظمی، غزالیءدوران احمد سعید کاظمی کے صاحبزادے ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور ان کو وزیر جج و اوقاف بنایا گیا تھا۔ علامہ حامد کاظمی قریباً دو سال قبل حج سکینڈل میں ملوث کئے گئے۔ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری سوموٹو (از خود اختیارات) یہ کیس سنا اور تحقیقات کا حکم دیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں وزیر موصوف نہ صرف وزارت سے مستعفی ہوئے، بلکہ ان کو جیل جانا پڑا اور اب وہ قریباً ڈیڑھ سال سے اڈیالہ جیل میں حوالاتی ہیں، نہ تو تفتیش مکمل ہوئی اور نہ ہی ان کی ضمانت ہوئی، ان کی طرف سے بریت کی درخواستیں بھی مسترد ہو چکیں۔ سنا ہے کہ ان کی درخواست ضمانت بھی زیر سماعت ہے۔ یہ کس مرحلے پر ہے؟ ہمیں اس کا علم نہیں۔ بہر حال حامد سعید کاظمی قومی اسمبلی کے اجلاس کے وقت سپیکر کے حکم پر اجلاس میں شرکت کے لئے لائے جاتے ہیں۔آج کل قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے اور حامد سعید کاظمی کو پولیس کی حراست میں اڈیالہ جیل سے لایا گیا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر مولانا نے ایوان میں تقریر کی۔ ہمیں ان کی تقریر کے ان حصوں سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی کچھ لینا دینا ہے جو ان امور سے ہے جو حال ہی میں سوموٹو کیس کے نتیجے میں زیر سماعت ہیں کہ ہم زیر سماعت معاملات پر تجزیہ یا ریمارکس کے قائل نہیں ہیں۔ ہمیں تو حامد سعید کاظمی کی تقریر کے اس حصے نے متاثر کیا، جس میں انہوں نے فریادی لہجے میں کہا کہ اب تک ان کے خلاف کوئی ثوبت پیش نہیں کیا جاسکا، جو عبوری چالان پیش ہوا، اس میں بھی وہ مجرم نہیں گردانے گئے۔ اس کے باوجود وہ ڈیڑھ سال سے جیل میں ہیں اور ان کی ضمانت تک نہیں ہورہی۔ہمارے نزدیک یہ پہلو زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور ہم قیاس کرتے ہیں کہ ضابطہ فوجداری کے ترمیمی قوانین اور کئی بار کے اعلانات کے باوجود بھی حامد سعید کاظمی کم از کم ضمانت کے حق دار ہیں کہ ڈیڑھ سال ہونے کو آیا او رسابق وزیر حج ان کے خلاف نہ تو حتمی چالان پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کی ضمانت لی گئی، حالانکہ ایک سال گزر جانے کے بعد وہ ضمانت کے تو یقیناً حق دار ہیں۔ باقی رہی ان کے لہجے کی تلخی اور دوسرے خیالات تو یقیناً یہ اس طویل حراست ہی کا ردعمل ہے۔جہاں تک ہماری ذاتی رائے ہے تو ہمارے خیال اور یقین کے مطابق کیس کا فیصلہ شہادتوں کی بناءپر عدالت ہی نےکرنا ہے، لیکن جس خصوصی عدالت میں یہ معاملہ زیر سماعت ہے، وہ اب شہادتوں تک پہنچتی محسوس ہوتی ہے۔ حامد سعید کاظمی اوران کے وکلاءکے مطابق ان کی تمام درخواستیں جو ضمانت اور بریت کے حوالے سے پیش کی گئیں ،مسترد ہو چکی ہیں اور اب معاملہ اس سے اونچی یا بڑی عدالت کے سامنے ہے یا پھر بالآخر عدالت تک ہی پہنچے گا۔ہم اس سلسلے میں اپنے دوست وکلاءکی اس رائے سے متفق ہیں کہ سوموٹو عمل میں بہت زیادہ امتیاز اور احتیاط ہونا چاہئے ، کیونکہ سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت(عدالت عظمیٰ) ہے۔ یہ عدالت آخری اپیل کا فورم ہے۔ اس کے بعد کہیں اور اپیل نہیں ہو سکتی، چنانچہ جب کوئی معاملہ یہ عدالت عظمیٰ از خود اختیارات کے تحت خود سن لے یا اپنی تحویل میں لے لے تو پھر یہ آخری عدالت ہوتی ہے، اگر تو کیس وہیں کا وہیں نمٹ جائے تو بات ختم ہو جاتی ہے، اگر یہ نہ ہو اور عدالت عظمیٰ بادی النظر میں معاملے کو فوجداری نوعیت قرار دے کر مقدمہ چلانے یا تحقیق و تفتیش کے لئے نیچے بھیج دے تو پھر نفسیاتی طور پر ان حضرات کو انصاف یا قانونی رعایت ملنا مشکل ہو جاتا ہے، جن کے خلاف (بادی النظر میں) ریمارکس دئیے گئے ہوتے یا ان کے خلاف تحقیقات اور مقدمہ چلانے کا حکم دیا گیا ہوتا ہے۔ علامہ حامد سعید کاظمی کی تلخی کا سبب بھی یہی ہے کہ وہ ڈیڑھ سال سے جیل میں ہیں۔ اپنے تئیں وہ بے گناہ ہیں اور اب ان کا موقف ہے کہ ان کے خلاف کوئی بات اور کوئی الزام ثابت نہیں کیا جاسکا، ایسے میں ان کی ضمانت نہ ہونا، کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر ایک سال کے بعد بھی ان کو ضمانت پر رہائی مل جاتی تو پھر بھی، انہوں نے یہیں رہنا تھا اور آزاد رہ کر مقدمے کا سامنا کر سکتے تھے۔

ہمارے خیال میں یہ مسئلہءمعاملہ یا سوال اب اہمیت کا حامل ہے کہ کیا سوموٹو نوٹس اتنی ہی تیزی اور تعداد میں ضروری ہیں؟.... اور کیا جو معاملہ ایسے نوٹس یا نوٹسوں کی وجہ سے عدالت عظمیٰ سے ماتحت عدالتوں کی طرف بھیج دیا جاتا ہے، اس میں ملزم کو کسی قانونی رعایت کا حق حاصل ہوتا ہے یا نہیں؟ اور کیا ماتحت عدلیہ نفسیاتی دباو¿ کا شکار رہتی ہے؟....بہرحال ابھی تک علامہ حامد سعید کاظمی کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوا۔ وہ ڈیڑھ سال سے قید ہیں۔ اگر ان کو اس معاملے میں تین سال کی سزا بھی ہوگئی ہوتی تو آج سزا بھگت کر آزاد ہوتے؟.... ہمیں اپنے بزرگ حضرت غزالیءدوراں علامہ احمد سعید کاظمیؒ کے صاحبزادے سے ہمدردی ہے اور ہم اس کے سوا کچھ بھی تو نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس سے زیادہ اظہار خیال کر سکتے ہیں کہ ہمارے بھی پر جلتے!....   ٭

مزید :

کالم -