امریکی اور ناٹو افواج کے لئے رسد کی بحالی(3)

امریکی اور ناٹو افواج کے لئے رسد کی بحالی(3)
 امریکی اور ناٹو افواج کے لئے رسد کی بحالی(3)

  



اصل مسئلہ جنگ کو جاری رکھنا نہیں، جنگ کو ختم کرنا اور امن کے لئے حالات کو سازگار بنانا ہے، چاہے یہ بات کھلے الفاظ میں نہ کہی گئی ہو ،لیکن اس بارے میں دو آرا مشکل ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کے عوام کی عظیم اکثریت راے عامہ کے ہر جائزے میں یہ بات واضح کرچکی ہے کہ افغانستان میں امریکی اور ناٹو افواج کی حیثیت قابض افواج کی ہے اور جب تک بیرونی قبضہ ختم نہیں ہوتا، علاقے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اس لئے ہر وہ اقدام جو جنگ کو تقویت دینے والا ہو، ہمارے قومی مفاد اور علاقے کے سلامتی کے خلاف ہوگا۔

5- اس جنگ میں شرکت سے پاکستان نے پایا کم اور کھویا زیادہ ہے۔ جان، مال، عزت و آبرو اور آزادی اور قومی سلامتی، سب داﺅ پر لگ گئے ہیں۔ اس پر مستزاد ملک کے معاملات میں امریکا اور اس کی ایجنسیوں کی بلاواسطہ اور بالواسطہ مداخلت اور کھلے بندوں ہماری حاکمیت پر حملے اور سرحدوں کی خلاف ورزی ہے۔ ڈرون حملے جن میں اضافہ ہی ہوا ہے، امریکی فوجوں کی زمینی کارروائیاں، فضائی حدود کی پامالی اور ہماری سرزمین پر کھلے (overt) اور خفیہ (covert)، دونوں قسم کے اقدامات (operations) اس کا بین ثبوت ہیں۔ یہ سب ناقابلِ برداشت ہیں ،لیکن احتجاج کے باوجود نہ صرف یہ کہ امریکا اور اس کے اعوان و انصار نے اپنی روش میں سرمو تبدیلی نہیں کی، بلکہ مزید رعونت سے ان میں اضافہ کیا اور ملک اور اس کی قیادت کی تحقیر و تذلیل میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی۔

پارلیمنٹ کی قراردادوں میں آزاد خارجہ پالیسی کی ضرورت، ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے نکلنے کی راہوں کی تلاش، قومی سلامتی کے پورے تصور پر نظرثانی، مسئلے کے فوجی حل کی جگہ سیاسی حل کی طرف مراجعت، تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت اور ڈائیلاگ میں شریک کرکے  نئی راہوں کی تلاش اور ملک میں امن و امان کے قیام، انصاف کی فراہمی، معاشی ترقی اور سماجی فلاح کو پالیسی کے اصل اہداف بنانے کی ہدایت کی گئی۔ پہلی قرارداد 22اکتوبر 2008ءکو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کی گئی اور آخری 12اپریل 2012ءکو۔

سوال یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور اسے رہنمائی اور پالیسی سازی کا سرچشمہ بنانے کے دعوے داروں نے پارلیمنٹ کی قراردادوں پر کتنا عمل کیا اور عوام کے جذبات و احساسات کا لحاظ رکھا یا انہیں بُری طرح پامال کیا؟

حکومت کے کچھ ترجمان دبی زبان سے اور پاکستان میں امریکی لابی کے سرخیل ببانگ دہل ،بلکہ پوری سینہ زوری کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ کا کام خارجہ پالیسی بنانا نہیں۔ یہ تو ایک بہت ہی پیشہ ورانہ (professional) کام ہے جسے خارجہ امور کے ماہرین ہی انجام دے سکتے ہیں۔ ان تمام موشگافیوں کی اصل وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ پارلیمنٹ اور کُل جماعتی کانفرنس کی قراردادوں میں جن اصولوں اور اہداف کا تعین کیا گیا ہے، اور جن امور کو قومی مفاد اور ترجیحات قرار دیا گیا ہے، وہ ان کے مفیدمطلب نہیں، اور پارلیمنٹ کی ہدایات اور عوام کی خواہشات سے گلوخلاصی حاصل کرنے کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ خارجہ پالیسی کے امور کو پارلیمنٹ کی دسترس سے باہر نکالا جائے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کا تو بنیادی اصول ہی یہ ہے کہ تمام پالیسیوں کا سرچشمہ عوام کی مرضی کو ہونا چاہیے۔

یہی وجہ ہے کہ ہرپارٹی کے منشور میں داخلی امور، نظریاتی اہداف، تعلیمی، ثقافتی اور فلاحی پروگرام کے ساتھ خارجہ پالیسی کے خدوخال بھی قوم کے سامنے رکھے جاتے ہیں اور ان تمام اُمور پر ان سے مینڈیٹ حاصل کیا جاتا ہے۔ دستور میں خارجہ پالیسی کے بنیادی خدوخال واضح الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں اور ریاست کی پالیسی کے بنیادی اصول کے طور پر ان کو دستور کی دفعہ 40 میں بیان کیا گیا ہے۔ تمام جمہوری ممالک میں داخلہ پالیسی، معاشی اور مالیاتی پالیسی کی طرح خارجہ پالیسی پر بھی بحث ہوتی ہے اور قراردادوں اور قانون سازی کی شکل میں پارلیمنٹ واضح ہدایات دیتی اور حکومت کو پابند کرتی ہے۔ امریکا میں ایک ایک ملک سے تعلقات کا مسئلہ قانون

 سازی کے ذریعے طے کیا جاتا ہے اور صدرمملکت صلح و جنگ کے معاملات میں کانگریس کی ہدایات کا پابند ہے۔ امریکی دستور کے تحت اعلانِ جنگ کانگریس کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جاسکتا اور یہ جو ہر روز کمیٹیوں میں اور پھر قوانین کی شکل میں بیرونی امداد کے لئے رقوم مختص کی جاتی ہیں اور سیاسی بنیادوں پر ان میں کمی بیشی کی جاتی ہے، یہ خارجہ پالیسی کی تشکیل نہیں تو کیا ہے؟

کیری لوگر بل کا بڑا چرچا ہے مگر کیا اس بل کے ذریعے امریکا نے پاکستان سے اپنے خارجی اور معاشی تعلقات کے دروبست طے نہیں کیے۔ یہ جو رسد کا مسئلہ ہے اس پر امریکا کی پارلیمنٹ نے فوراً ہی ترامیم کے ذریعے نئی شرطیں لگائی ہیں اور رسد نہ کھولنے پر امریکی امداد میں کمی، حتیٰ کہ ملک کے ایک غدار ڈاکٹر شکیل آفریدی، جسے ایبٹ آباد کمیشن نے اور پھر ملک کی ایک عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سزا دی ہے، اس کی پشت پناہی میں 33سال کی قید کے جواب میں 33ملین ڈالر کی تخفیف کا بل فوری طور پر منظور کردیا گیا ہے ،یہ خارجہ پالیسی کو لگام دینا نہیں تو کیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی ہدایات اس حکومت کے لئے گلے کی ہڈی بن گئی ہیں جسے وہ نہ نگل پارہی ہے اور نہ اُگل پا رہی ہے!

ملکی بحران اور مایوس کن حکومتی کارکردگی

حالات جس مقام پر آگئے ہیں اور آگے جو خطرات درپیش ہیں، ان کا تقاضا ہے کہ پاک امریکا تعلقات کے سلسلے میں موجودہ حکومت کی جو کارکردگی رہی ہے اس کا کھل کر جائزہ  لیا جائے، اور قوم کو شعور دلایا جائے کہ اس قیادت نے ملک کو کس خطرناک دلدل میں پھنسا دیا ہے۔

اب سوال یہ نہیں ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے کیا کیا تھا، اس نے جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے، اب اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے ان ساڑھے چار برسوں میں کیا کیا؟ اور قوم کے واضح مطالبات اور پارلیمنٹ کی کھلی کھلی ہدایات کے باجود اس حکومت کا کیا کردار رہا؟

1- عوام نے مشرف ہی کو نہیں اس کی پالیسیوں کو بھی رد کیا تھا، لیکن آصف علی زرداری سید یوسف رضا گیلانی حکومت نے ان تمام ہی پالیسیوں کو، ان کے تباہ کن نتائج، عوام کے احتجاج اور پارلیمنٹ کی آہ و بکا کے باوجود جاری رکھا ،بلکہ ان کو اور بھی تباہ کن بنا دیا۔ امریکا کی گرفت پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی۔ امریکی سفارت کاروںاور خفیہ اداروں کو زیادہ دیدہ دلیری سے اپنا کھیل کھیلنے کا موقع دیا گیا۔ بلاتحقیق ہزاروں ویزے دیے گئے۔ امریکی کارندوں پر نگرانی کا کوئی مو¿ثر نظام قائم نہ کیا گیا۔ ریمنڈڈیوس کے واقعے نے تو صرف واضح حقائق کے صرف سرے (tip of the iceberg) کو بے نقاب کیا جو ہمارے ملک کی سلامتی روندنے کا ذریعہ بنا ہوا تھا اور ایک حد تک اب بھی ہے۔ ڈرون حملوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا۔ ملک میں دہشت گردی اور لاقانونیت کا طوفان آگیا۔ فاٹا ہو یا بلوچستان یا کراچی___سب کے ڈانڈے امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ اور ناٹو کے لئے سپلائی فراہم کرنے والے کنٹینرز سے جاملتے ہیں۔ ابھی لیاری آپریشن میں جس اسلحے کا استعمال ہوا ہے، جو راکٹ داغے گئے ہیں اور جو پستول پکڑے گئے ہیں، ان سب پر امریکی ساخت کے نشان دیکھے جاسکتے ہیں۔

ان ساڑھے چار برسوں کا ریکارڈ پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کو اس کٹہرے میں لاکھڑا کرتا ہے جس میں پرویز مشرف اور اس کے ساتھی ہیں___اور یہ بات بھی نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ پرویز مشرف کے بہت سے سابق ساتھی، اس حکومت کے بھی ساتھی اور سانجھی ہیں!

2- پارلیمنٹ، عوام اور قومی اُمور پر نگاہ رکھنے والوں کے بار بار کے مطالبات کے باوجود اس حکومت نے امریکا سے تعلقات کے شرائط کار (terms of engagement) اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں شرکت کی شکلوں (modalities) پر کوئی نظرثانی نہیں کی، بلکہ قوم کو اسی طرح اصل حقائق سے تاریکی میں رکھا جو مشرف کی فوجی اور شخصی آمریت کے دور میں کیا جا رہا تھا۔ ہم پوری ذمہ داری سے قوم کے علم میں یہ بات لانا چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اور اس کی کمیٹیوں تک کو صحیح معلومات بار بار مطالبات کے باوجود نہیں دی گئیں ۔ (جاری ہے)

مزید : کالم