بحریہ ٹا ﺅن کے گار ڈ کے قتل کی تحقیات کا حکم

بحریہ ٹا ﺅن کے گار ڈ کے قتل کی تحقیات کا حکم
بحریہ ٹا ﺅن کے گار ڈ کے قتل کی تحقیات کا حکم

  



اسلام آ باد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کے سابق ڈی جی جاوید اقبال اور موجودہ ڈی جی فیاض لغاری کو مل کر بحریہ ٹاون کے سیکیورٹی گارڈ کے قتل کی تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا ہے، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا ہے کہ عدلیہ پر ساری مصیبت اس کیس کی وجہ سے آئی ہے۔چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بحریہ ٹاون کے سیکیورٹی گارڈ کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ ڈی جی ایف آئی اے فیاض لغاری عدالت پیش ہوئے اور رپورٹ پیش کرنے کےلئے وقت مانگا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پوری عدلیہ پر اس کیس کی وجہ سے مصیبت میںآئی اور آپ وقت مانگ رہے ہیں۔ تحقیقات کریں قتل کے پیچھے کون ہے۔ قتل میں جو بھی ملوث ہے اسے گرفتار کریں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ کیس اچانک سنا جارہا ہے، یہ کیس اپنے وقت پر سنا جا رہا ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے فیاض لغاری نے کہا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے جاوید اقبال نے سات اپریل کو جو رپورٹ پیش کی اس میں لکھا کہ یہ کیس چار سال پرانا ہے جس کے حتمی نتیجے پر پہنچنا مشکل ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اتنے عرصے بعد یہ پتا چلانا مشکل ہے کہ گارڈ فیاض کو کس کی گولی لگی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خون کبھی چھپتا نہیں ایک صدی بعد بھی پتا چل جاتا ہے کہ قاتل کون ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں نو تفتیشی افسر تبدیل کیے گئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کے ذمہ دار آئی جی پولیس ہیں۔ ایف آئی اے کی عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ فیاض کی بیوہ نے معاوضے کے طور پر دو کروڑسے زائد رقم وصول کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ اہم بات ہے کہ دو کروڑ روپے معاوضہ کس نے ادا کیا۔ اگر ایمان داری کے ساتھ چلتے تو یہ کیس حل ہو چکا ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کلچر کب آئے گا جب چھوٹے اور بڑے میں فرق ختم ہو جائے گا۔ تاریخ میں بڑے بڑے بزرگان کے خلاف کئی باتیں منسوب کی گئیں۔ بی بی عائشہ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کی گئیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے اور فوج سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ عدالت نے بحریہ ٹاو¿ن کے وکیل حامد خان کو نوٹس جاری کر دیے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے حامد خان کو اس کیس سے دستبردار نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کے سابق ڈی جی جاوید اقبال اور موجودہ ڈی جی فیاض لغاری کو مل کر بحریہ ٹاو¿ن کے سیکیورٹی گارڈ کے قتل کی تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔ کیس کی آئندہ سماعت 22 جون کو ہوگی۔

مزید : رئیل سٹیٹ