کیا چیف جسٹس کے بیٹے اور جنرل کیانی کے بھائی کے سکینڈلوں کی ٹائمنگ اتفاقیہ ہے؟

کیا چیف جسٹس کے بیٹے اور جنرل کیانی کے بھائی کے سکینڈلوں کی ٹائمنگ اتفاقیہ ...
کیا چیف جسٹس کے بیٹے اور جنرل کیانی کے بھائی کے سکینڈلوں کی ٹائمنگ اتفاقیہ ہے؟

  

ملک ریاض کی باتوں میں دم ہوتا تو وہ پریس کانفرنس کے” انکشافات “ بھی عدالتی ریکارڈ پر لاتے

تجزیہ : سعید چودھری

ڈاکٹر ارسلان کیس کے مرکزی کردار ملک ریاض حسین نے آخر کار وہ ” دھماکہ “ کر دیا ہے جس کی عوام کئی روز سے توقع کر رہے تھے، ملک ریاض اور ان کے حواری سمجھ رہے ہوں گے کہ یہ دھماکہ اتنا زور دار ہے کہ اس سے سپریم کورٹ کی عمارت میں دراڑیں پڑ جائیں گی۔ ملک ریاض حسین نے ڈاکٹر ارسلان کیس میں اپنا تحریری بیان داخل کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کرکے بھی عدلیہ کے سربراہ پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی۔ اس پریس کانفرنس کی ضرورت کیوں پیش آئی اور انہوں نے پریس کانفرنس میں جو فرمایا وہ عدالت کے روبرو عرض کیوں نہیں کیا؟

ملک ریاض حسین کے عدالتی بیان اور پریس کانفرنس میں چونکا دینے والی کوئی نئی بات نہیں تھی۔ یہ وہ باتیں ہیں جو کئی روز سے میڈیا پر موضوع بحث بنی ہوئی ہیں، تاہم ایک نئی چیز سامنے آئی ہے اور یہ ہے وہ دستاویزات جو ملک ریاض نے عدالت میں پیش کی ہیں۔ یہ دستاویزات ڈاکٹر ارسلان کے خلاف ہیں لیکن ان کی بنیاد پر چیف جسٹس کیسے گناہگار قرار پاتے ہیں؟ اس سوال کے جواب کے لئے پریس کانفرنس کا سہارا لیا گیا۔ ملک ریاض نے اپنی پریس کانفرنس میں جو ”انکشاف“ کئے ہیں اگر عدالت میں پیش کئے جاتے تو ملک ریاض کو الٹا لینے کے دینے پڑ جاتے، کیونکہ عدالت ہر الزام کا ثبوت مانگتی ہے۔ ملک ریاض کی پریس کانفرنس چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ان کی ساکھ کے حوالے سے عوام کے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی شعبدہ بازی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ چیبف جسٹس اور دیگر معزول ججوں کو جمہوری حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد ایک سال تک بحال نہیں کیا تھا، اس دوران ملک ریاض حسین اگر کسی کا پیامبر بن کر چیف جسٹس سے ملاقاتیں کرتے رہے تو اس میں کیا غیر آئینی بات ہے؟ چیف جسٹس کا جرم تو تب بنتا اگر وہ اپنی بحالی کے لئے ملک ریاض حسین کی بات مان کر صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کرتے اور انہیں کچھ یقین دہانیاں کراتے۔ وزیراعظم سے احمد خلیل نے چیف جسٹس کی جو ”اتفاقیہ“ ملاقات کروائی اس میں بھی ایسی کوئی بات نہیں جس پر چیف جسٹس کو ملعون کیا جاسکے۔ پھر چیف جسٹس نے ملک ریاض سے کوئی مالی فائدہ بھی نہیں اٹھایا بلکہ ان کی بلٹ پروف گاڑی کی پیشکش ٹھکرا دی تھی۔ تاہم چیف جسٹس کا اتنا قصور ضرور ہے کہ وہ ڈاکٹر ارسلان افتخار کی حد تک ایک اچھے باپ ثابت نہیں ہوئے۔ انہیں ارسلان افتخار کے اصرار پر ایک پراپرٹی ڈیلر احمد خلیل کی دعوت قبول کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ یہ کیوں نہ سمجھ سکے کہ ان کے بیٹے پر حالات کی غیر معمولی مہربانیاں کیوں ہیں؟ تاہم یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت اور اصول ہے کہ باپ کے جرم کی سزا بیٹے اور بیٹے کے جرم کی سزا باپ کو نہیں دی جاسکتی۔ ملک ریاض حسین نے ارسلان افتخار کو ”ڈان“ قرار دیتے ہوئے ان کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی بات بھی کی ہے۔ یہ ایک سیدھی سی بات ہے کہ ارسلان افتخار اگر ملک ریاض کو یہ دھمکی دے کر ان سے یا ان کے داماد سے پیسے بٹورتے رہے ہیں کہ رقم نہ دی گئی تو وہ اپنے والد سے ان کے خلاف فیصلے کروا دیں گے، پھر تو انہیں ”ڈان“ قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے۔ ملک ریاض ان کی چاپلوسی کرتے اور انہیں مبینہ طور پر مال کھلاتے رہے، اس امید پر کہ وہ اپنے والد جسٹس افتخار محمد چودھری کے ذریعے ان کی مدد کریں گے۔ ملک ریاض حسین نے اپنے جرائم کا اعتراف کرلیا ہے لیکن ارسلان کے خلاف الزامات ثابت ہونا باقی ہیں۔ ملک ریاض حسین آخری داﺅ کھیل رہے ہیں جس کا مقصد عدلیہ کو مشتعل کرنا ہے، لیکن ججوں سے ایسے کسی جذباتی اقدام کی توقع نہیں رکھی جانی چاہئے۔

بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی جارہی ہے کہ کچھ ایجنسیاں چیف جسٹس کے پیچھے پڑ چکی ہیں۔ اس حوالے سے آئی ایس آئی اور فوج کا نام بھی کھل کر لیا جارہا ہے۔ وجہ اس کی یہ بیان کی جارہی ہے کہ چیف جسٹس جب بھی بلوچستان کے ”لاپتہ افراد“ کا مقدمہ سنتے ہیں ان اداروں کو تکلیف ہوتی ہے۔ 3 نومبر 2007ءکے پی سی او اور مارچ 2007ءمیں چیف جسٹس کی معطلی کے پیچھے کار فرما عناصر میں بھی اس کیس کو شمار کیا جاتا ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جس طرح چیف جسٹس کو ان کے بیٹے کے نام پر بدنام کیا جارہا ہے ویسے ہی جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ان کے بھائی کے نام سے بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت سمجھ رہی ہو کہ چیف جسٹس اور چیف آف آرمی سٹاف کی آپس میں ”یس“ ہے اور دونوں مل کر ان کا سیاسی کھیل ختم کرسکتے ہیں۔

ملک ریاض آج جو ثبوت سامنے لائے ہیں اس طرح کے ثبوتوں کی بات 2010-11ءمیں صدر کے مشیر نوید چودھری نے ڈان نیوز کے ایک اینکر پرسن رضوان الرحمن رضی سے کی تھی۔ رضوان رضی کے بقول اس موقع پر گورنر کے بیٹے خرم کھوسہ اور ممتاز صحافی عباس اطہر بھی موجود تھے۔ پروگرام کے وقفے کے دوران نوید چودھری نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی کے پاس چیف جسٹس کے خلاف اتنا مواد موجود ہے کہ وہ منظر عام پر آجائے تو چیف جسٹس کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔ انہوں نے، بقول رضوان رضی، جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کی ”دکانداری“ کی بات بھی کی تھی۔ نوید چودھری نے یہ بھی کہا تھا کہ آصف زرداری اس سلسلے میں مناسب وقت کا انتظار کررہے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو ملک ریاض حسین کو اس کھیل میں تنہا کیسے مان لیا جائے۔

مزید :

تجزیہ -