کیا ملاقات کے ذریعے این آر او کیس پر کوئی سودے بازی مطلوب تھی؟

کیا ملاقات کے ذریعے این آر او کیس پر کوئی سودے بازی مطلوب تھی؟
کیا ملاقات کے ذریعے این آر او کیس پر کوئی سودے بازی مطلوب تھی؟

  

وہ چیف جسٹس کو صدر زرداری سے کیوں ملوانا چاہتے تھے؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

ملک ریاض حسین نے ایک ”معصوم“ دھماکہ تو سپریم کورٹ میں اپنے بیان میں کیا ہے لیکن جو باتیں وہ وہاں نہیں کرنا چاہتے تھے، اور انہیں اپنے بیان کا حصہ نہیں بنانا چاہتے تھے وہ انہوں نے سپریم کورٹ کے قریب ہی واقع میریٹ ہوٹل میں جلدی میں بلائی گئی اپنی پریس کانفرنس میں کر دیں۔ وہاں انہوں نے چیف جسٹس سے اپنی دانست میں تین ”دھماکہ خیز“ سوالات کئے جن کا جواب تو انہیں فوری طور پر مل بھی چکا ہے بلکہ جواب میں کچھ نئے سوال بھی آ گئے ہیں۔ ان جوابات میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ملک صاحب نے چیف جسٹس کو بلٹ پروف گاڑی کی پیشکش کی تھی جو انہوں نے قبول نہیں کی۔ سنا ہے ایسی کئی گاڑیاں بہت سے دوسرے لوگوں نے بصد تشکر و امتنان قبول کر رکھی ہیں اور ان کے زیر استعمال ہیں حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اپنے وسائل بھی اتنے زیادہ ہیں کہ وہ بڑی آسانی کے ساتھ ایسی گاڑی (یا گاڑیاں) خود خرید سکتے ہیں لیکن انہوں نے اول الذکر راستہ اختیار کیا، بہرحال یہ ان کی اپنی پسند کا معاملہ ہے۔ ملک صاحب کے پہلے سوال کا جواب تو انہیں سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر محمد کی طرف سے مل گیا ہے جن کے بارے میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ چیف جسٹس کے ساتھ ”رات کے اندھیرے میں ہونے والی ان ملاقاتوں“ میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری معزول تھے تو ان کے ساتھ ان کی دو یا تین ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ اب جواب میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ملک ریاض حسین یہ چاہتے تھے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری صدر زرداری سے ملاقات کر لیں۔ (زرداری صاحب اس وقت صدر نہیں تھے) اس پر بھی چیف جسٹس راضی نہ ہوئے، چیف جسٹس کو وہ صدر زرداری سے کیوں ملانا چاہتے تھے، کچھ مقاصد تو سامنے تھے لیکن امکان ہے کہ ملاقات ہوتی تو این آر او کیس پر بھی بات ہوتی۔ دوسرا سوال ملک ریاض حسین نے چیف جسٹس سے یہ پوچھا تھا کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے ان کے پارٹنر احمد خلیل کے گھر میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے کتنی ملاقاتیں کیں۔اس کا جواب صحافی انصار عباسی نے بڑی تفصیل سے دے دیا ہے کہ احمد خلیل نے اپنے گھر میں چیف جسٹس اور ان کے بیٹے کو بلایا جہاں تھوڑی دیر بعد وزیراعظم گیلانی بھی اچانک تشریف لے آئے۔ اس ”ملاقات“ کی پلاننگ میزبان نے کی ہو گی لیکن چیف جسٹس اس سے باخبر نہیں تھے۔ تیسرا سوال انہوں نے یہ کیا تھا کہ چیف جسٹس بتائیں کہ انہیں ارسلان کیس کا کب علم ہوا؟ اس کا جواب تو چیف جسٹس عملاً دے چکے ہیں جس روز انہیں میڈیا کے ذریعے اس معاملے کا علم ہوا انہوں نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر معاملے کا سوﺅ موٹو نوٹس لے لیا اور اب یہ کیس ڈویژن بینچ کے روبرو زیر سماعت ہے۔ ہاں البتہ یہ ثابت ہونا باقی ہے کہ کیا اس سے پہلے انہیں اس معاملے کا علم تھا یا نہیں؟

یہ تو تھے ملک ریاض حسین کے سوالات اور ان کے جوابات لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اب یہ بات کھل کر سامنے نہیں آ رہی کہ ارسلان افتخار پر اگر نوازشات کی جا رہی تھیں تو ان کے پیچھے ایک مقصد تھا؟ وہ مقصد کیا تھا؟ یہی نا کہ ارسلان کے ذریعے ان کے والد کی عدالت سے ریلیف حاصل کیا جائے لیکن جب ریلیف نہ ملا اور یہ سمجھا گیا کہ شاید ایسا ممکن بھی نہ ہو تو لگتا ہے کہ اس معاملے کو میڈیا میں اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا جس کی ساتھ ساتھ پوری تیار ی کی جا رہی تھی۔ ظاہر ہے ویڈیوز اور تصویریں کسی خاص مقصد کے تحت ہی بنوائی جا رہی تھیں اور جن لوگوں کے پاس اس طرح کی ”سہولت“ موجود ہوتی ہے۔ بادی النظر میں لگتا ہے ان کی خدمات بھی انہیں حاصل رہی ہوں گی۔ ملک ریاض حسین کے وکیل زاہد بخاری کہتے ہیں کہ ملک صاحب کو عدالت سے کوئی ریلیف نہیں ملا۔ اب ظاہر ہے اگر 34 کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کرنے کے باوجود بھی کوئی ریلیف ملنے کی امید نہیں رہی تھی تو پھر ظاہر ہے اس سنسنی خیز کہانی کو منظرِعام پر آنے سے کون روک سکتا تھا؟ صبر کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے۔

عدالت میں ملک ریاض حسین کے بیان اور بعد ازاں ہونے والی پریس کانفرنس میں ان کی گفتگو کے بعض حصوں میں تضادات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ عدالت میں انہوں نے جو بیان دیا اس میں چیف جسٹس کی تعریف کی، لیکن تھوڑی ہی دیر بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں جس میں وہ عدالت سے سیدھے تشریف لائے تھے ان کا لب و لہجہ بدلا بدلا سا تھا، جس چیف جسٹس کی وہ اپنے بیان میں تعریف کر رہے تھے انہوں نے ان کی عدالت (سپریم کورٹ) کو ”یرغمالی عدلیہ“ قرار دیا اور کہا کہ اسے ڈان کی طرح چلایا جا رہا ہے۔ ارسلان افتخار ڈان بنا ہوا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے جو نوجوان عدلیہ کو ڈان کی طرح چلا رہا ہے۔ وہ تین سال میں بھی ملک ریاض حسین کے حق میں کوئی ایک فیصلہ بھی حاصل کرنے میں کیوں کامیاب نہیں ہوا؟ ڈان تو ایسے نہیں ہوتے، وہ تو بہت کچھ کرنے اور کرانے میں ماہر ہوتے ہیں۔ یہ دنیا کا عجیب و غریب ڈان ہے جو ”بلیک میل“ کرکے کروڑوں روپے تو حاصل کر لیتا ہے لیکن بدلے میں اپنے باپ کی عدالت سے اک ذرا سا ریلیف بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ ”ڈان ارسلان“ کی یہی ناکامی ہے جس نے اس سے امیدیں وابستہ کرنے والوں کو مایوس کیا اور انہوں نے اسی عالم میں یہ ساری سنسنی خیز کہانی منظرِعام پر لانے کا فیصلہ کیا اور اب یہ کہانی عام ہوئی ہے تو ظاہر ہے اس سے بہت سے چہروں سے نقاب اٹھے گا، کچھ چہروں سے نقاب الٹے جا چکے ہیں اور کئی دوسرے چہرے جو ابھی تک سامنے نہیں آئے وہ بھی جلد ہی آ جائیں گے۔ ملک ریاض حسین نے وعدہ کیا ہے کہ وہ چند روز بعد ایک اور پریس کانفرنس کریں گے۔ دیکھیں وہ تازہ انکشاف کیا کرتے ہیں لیکن اب تک جو ”دھماکے“ ہوئے ہیں دیکھنا یہ ہو گا کہ ان سے کہاں کہاں گڑھے پیدا ہوئے ہیں اور ان سے کون کون زخمی ہوا ہے اور مزید کس کس کو زخم لگنے والے ہیں؟

مزید :

تجزیہ -