میاں شہباز صاحب اپنا احسان مکمل کیجئے

میاں شہباز صاحب اپنا احسان مکمل کیجئے
 میاں شہباز صاحب اپنا احسان مکمل کیجئے

  

محترم میاں شہباز شریف صاحب نے پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ پر کبھی بہت بڑا احسان کیا تھا، جسے شاید میاں صاحب بھی یاد نہیں رکھ سکے اور لگتا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے لوگ بھی بھول چکے ہیں، مگر میں میاں صاحب کے اس احسانِ عظیم کو کبھی نہیں فراموش کر سکتا، جب سے میں نے یہ سنا ہے کہ ’’اورینج ٹرین‘‘نامی کسی منصوبہ نے اساتذہ کو سخت پریشان کر دیا ہے اور وہ احتجاج کررہے ہیں، اس لئے میرے لئے یہ لازم ہوگیا ہے کہ میاں شہباز شریف کو ان کا احسان یاد دلاؤں (کیونکہ بڑے دل والے لوگ احسان کرکے نہ جتاتے ہیں نہ یاد رکھتے ہیں) اور اساتذہ کو بھی سمجھاؤں کہ وہ اپنے محسن کو پہچانیں اور صرف انہیں یہ عرض کریں کہ ایل ڈی اے والے ان کے احسان پر پانی پھیرنے لگے ہیں، اس لئے انہیں ازراہ کرم منع فرمائیں!

بات یوں ہے کہ جامعہ پنجاب کے اساتذہ نے حکومت سے مصطفی ٹاؤن وحدت روڈ لاہور میں مکان بنانے کے لئے زمین خریدی تھی، مگر قبضہ مافیا نے اسے ہتھیانے کی کوشش کی تھی، میں چونکہ اس وقت اساتذہ کی ایسوسی ایشن کا جنرل سیکرٹری تھا، اس لئے اپنے ایک دوست وکیل کے ذریعہ ہائی کورٹ میں کیس دائر کرنے کے علاوہ اس وقت کے ایک ایس پی کے ذریعہ جو اپنے رعب کی وجہ سے ’’ہلاکو خان‘‘ کہلاتے تھے، قبضہ مافیا کا بھی علاج کروا دیا گیا، مگر یہ مقدمہ لمبا ہو کر اکیس بائیس سال بعد سپریم کورٹ کے عادل ججوں نے پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کو ان کا حق دلا دیا، مگر اس وقت کے ایک وزیراعلیٰ صاحب کے زیر اثر قبضہ مافیا پھر سے ایل ڈی اے کی مہربانی سے اساتذہ کی زمین ہتھیانے کے لئے پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ قابض ہو گیا۔

ظاہر ہے اس وقت کی حکومت نے مدد کے بجائے یہ کہا کہ اساتذہ اتنی زمین کا کیا کریں گے؟ آخر بات اساتذہ کی ہڑتال تک آن پہنچی، اس وقت ایک جرنیل صاحب وائس چانسلر تھے، ان سے میں نے مدد کی درخواست کی تو انہوں نے فرمایا: ’’اپنے موقف پر ڈٹے رہو، بس میرا نام مت لینا، چنانچہ یہ ہڑتال اڑتیس دن جاری رہی اور یونیورسٹی میں طویل ترین ہڑتال ثابت ہوئی، مگر اس وقت کے وزیراعلیٰ کے زیر سایہ کھربوں روپے کی زمین اساتذہ پنجاب یونیورسٹی سے ہتھیائی جا رہی تھی، مَیں چونکہ نصف صدی سے زائد عرصہ سے صحافت سے بھی وابستہ ہوں، اس لئے قومی پریس کے علاوہ عالمی پریس تک بھی بات پہنچائی گئی، ملک اور بیرون ملک ایک شور مچ گیا کہ پاکستان کی قدیم ترین اور سب سے بڑی یونیورسٹی کے اساتذہ سے حکومت وقت کے غنڈے خریدی ہوئی زمین ہتھیا رہے ہیں، سب سے زیادہ پر زور کالم ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کا تھا کہ بھارت میں ہر نئی کالونی میں حکومت اساتذہ کو خصوصی پلاٹ دیتی ہے، مگر اسلامک ری پبلک آف پاکستان کی حکومت تو اساتذہ سے خریدی ہوئی زمین زبردستی چھین رہی ہے! اس کے نتیجے میں اس وقت کے صدر پاکستان فاروق احمد خان لغاری پنجاب کے اس وقت کے وزیراعلیٰ کو خصوصی طور پر سمجھانے کے لئے لاہور تشریف لائے، مگر چار گھنٹے کی بات چیت کے باوجود بھی کچھ نہ بنا، لیکن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ وزیراعلیٰ صاحب کی کرسی ہی اُلٹ گئی۔

اس کے بعد میاں شہبازشریف وزیراعلیٰ بن گئے (غالباً دوسری بار؟) میاں صاحب کو اللہ تعالیٰ نے چونکہ عربی زبان کا ذوق بھی دیا ہے اور شوق بھی ، اس لئے مَیں میاں شہباز شریف کو پاکستان کے عربی دانوں میں شمار کرتا ہوں اور اسی حوالے سے میاں صاحب سے میری ملاقات بھی رہتی تھی۔ ایک دن صبح کو مَیں ان کے گھر میں حاضر ہوا تو دیکھ کر کہنے لگے: پروفیسر صاحب! آج کچھ پریشان لگتے ہیں؟ مَیں نے کہا: جی ہاں! ہماری اساتذہ کی زمین ہتھیائی جا رہی ہے۔ میاں صاحب نے غصے سے کہا: ابھی تک آپ کو زمین کا قبضہ نہیں ملا؟ پھر اپنے سیکرٹری کو حکم دیا کہ ایل ڈی اے کے بڑے سے کہو کہ اسی وقت زمین کا قبضہ دو اور ایک بجے سے پہلے مجھے رپورٹ کرو کہ تعمیل ہوگئی ہے!

یوں میاں صاحب کے حکم سے اسی دن مصطفی ٹاؤن والی زمین کا قبضہ استادوں کو مل گیا، چونکہ اس عرصہ میں اساتذہ کی تعداد بڑھ گئی تھی، اس لئے یونیورسٹی نے رائے ونڈ روڈ پر اس زمین کے تتمہ کے طور پر کچھ زمین خرید کرلی تھی، اسی زمین پر ایل ڈی اے پھر اورینج ٹرین کے بہانے اساتذہ کے گھر اورپلاٹ ہتھیا رہی ہے، اس لئے میاں شہباز صاحب کا احسان ادھورا بنانے لگے ہیں۔ میری تجویز ہے کہ میاں صاحب اپنا احسان مکمل فرمائیں اور اپنی شاندار روایت کو زندہ رکھیں۔

مزید :

کالم -