ڈاکٹر ایم اے صوفی کا انتقال پرملال

ڈاکٹر ایم اے صوفی کا انتقال پرملال

تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اور گولڈ میڈلسٹ ڈاکٹر ایم اے صوفی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 86سال تھی۔ ان کی نمازہ جنازہ شاہراہ قائد اعظم پر واقع مادر ملت پارک میں ادا کی گئی۔ ڈاکٹر صوفی کا تعلق ہری پور ہزارہ سے تھا۔ زمانہ طالبعلمی میں وہ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن(ایم ایس ایف) کے لئے خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ مسلم لیگ نیشنل گارڈز اور مادر ملت کے باڈی گارڈز میں بھی شامل رہے۔1946ء کے انتخابات میں انہوں نے مسلم لیگ کے امیدواروں کی کامیابی کے لئے خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر صوفی نے پشاور یونیورسٹی سے ، ایف سی پری میڈیکل کی سند حاصل کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے بیچلر آف ڈینٹل سرجری کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا شمار معروف ڈینٹل سرجنوں پر ہوتا تھا۔ وہ کالج آف کمیونٹی میڈیسن لاہور میں تدریسی خدمات بھی انجام دیتے رہے۔ وہ کچھ عرصہ اس ادارے کے پرنسپل کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔ ڈاکٹر صوفی سماجی خدمات کے شعبے میں بھی مصروف رہے جبکہ تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کے حوالے سے انہوں نے بہت سے مضامین لکھے ۔انہیں قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے بے پناہ محبت اور عقیدت تھی۔ نظریہ پاکستان پر پختہ یقین رکھتے تھے اور نوجوانوں کو اسی حوالے سے جدوجہد کرتے ہوئے زندگی بسر کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ڈاکٹر ایم اے صوفی نے نظریہ پاکستان کو فروغ دینے کے حوالے سے بھرپور زندگی بسر کی۔ وہ کارکنان تحریک پاکستان سے وابستہ رہے۔ وہ بے حد خوش مزاج تھے۔ قائد اعظمؒ اور نظریہ پاکستان کے لئے خدمات انجام دینے کے لئے ہر وقت سرگرم رہتے تھے۔ ڈاکٹر ایم اے صوفی نے اپنے بچوں کی پرورش بھی تحریک پاکستان اور قائدا عظمؒ کے ارشادات کی روشنی میں کی۔ ان کے صاحبزادے احمر بلال صوفی انٹرنیشنل لاء کے ماہر کے طور پرعالمی شہرت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صوفی چند سال قبل علیل ہو گئے تھے اس کے باوجود وہ وہیل چیئر پر بیٹھ کر بون کالر لگا کر تقریبات میں شامل ہوا کرتے تھے۔ ان کی وفات سے قوم ایک سچے پاکستانی اور قائد اعظمؒ کے شیدائی سے محروم ہو گئی جن کی خدمات دیر تک یاد رکھی جائیں گی۔

مزید : اداریہ