مشرق کا جنیوا؟ (1)

مشرق کا جنیوا؟ (1)
 مشرق کا جنیوا؟ (1)

  


حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے اپنی زندگی میں بہت سے خواب دیکھے۔ 1930ء میں الہ آباد میں انہوں نے پاکستان کے متعلق اپنا خواب بتایا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اقبال کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ علامہ اقبالؒ نے خواب دیکھا تھا کہ ایشیا میں اس وقت حقیقی امن قائم ہوگا جب کابل میں امن ہوگا۔ کابل کو مسلسل غیر پرامن رکھنے کے لیے بے پناہ کوششیں ہوئی ہیں اور اس کے نتیجے میں ایشیا ہی نہیں یورپی دنیا کا امن کئی طرح متاثر ہوا۔ علامہ اقبالؒ نے تہران کے متعلق خواب دیکھا۔ انہیں تہران کے جنیوا بننے کی صورت میں اقوام عالم کی تقدیر تبدیل ہوئی نظر آ رہی تھی۔ انہوں نے فرمایا تھا

تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا

شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے

اقبال زندہ ہوتے تو سمجھ جاتے کہ مغرب دنیا کے کسی دوسرے شہر کو جنیوا بنتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ ایرانی پارلیمنٹ اور امام خمینی کے مزار پر خودکش حملے کی خبر انہیں انتہائی غمگین کر دیتی۔ انہیں اپنا ملت اسلامیہ کا خواب چکنا چور ہوتا ہوا نظر آتا۔ پاکستان میں ایرانی پارلیمنٹ اور امام خمینی کے مزار پر خودکش حملے کی افسوسناک خبر کو بڑے دکھ کے ساتھ سنا گیا۔ گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان، عراق، شام میں آگ بھڑک رہی تھی اور اس کے کچھ شعلے پاکستان کو نقصان پہنچاتے رہتے تھے۔ ایران پر الزامات کی بارش تو ہوتی تھی مگر یہ ملک بڑی حد تک حادثات سے محفوظ رہا۔ داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ایران سعودی عرب اور امریکہ کو اس افسوسناک حملے کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ اس حملے کی مذمت کر رہے ہیں۔مگر ایرانی امریکہ کے مذمتی بیان کی مذمت کر رہے ہیں۔ ایران میں ہونے والا حملہ تشویش کے نئے دور کی نشاندہی کر رہا ہے۔ ایران تہذیبی اور ثقافتی طور پر بہت مضبوط ملک ہے۔ وقت کے ہر نشیب و فراز سے کامیابی سے گزرا ہے۔ علامہ اقبالؒ ایران کی فتح کو تاریخ اسلام کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیتے تھے۔ اس کے نتیجے میں آریائی اور لسانی تہذیبوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقعہ ملا تھا۔

صدام حسین کے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد عراق میں ایرانی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا۔ اس طرح شام میں بھی ایرانی حمایت یا مداخلت کو ہدف تنقید بنایا گیا۔ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ ایران نے بحیرہ روم تک کے خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیا ہے۔اسی طرح سعودی عرب یمن میں حوثی باغیوں کی مدد پر ایران کو ہدف تنقید بناتا رہا ہے۔ کہا جاتا رہا ہے کہ ایران عمان کے ذریعے ہتھیار یمن میں پہنچاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ایرانی ہتھیار صومالیہ جاتے ہیں اور وہاں سے سمگل ہو کر یمن پہنچتے ہیں۔ خلیج عمان میں ایک آسٹریلوی بحری جہاز نے ایک بوٹ پکڑی تھی جس میں خاصے جدید اور مہلک ہتھیار تھے۔ ان کے متعلق بھی کہا گیا کہ یہ ایران سے آئے ہیں۔ اوبامہ کے دور حکومت میں ایران نے ایک معاہدے کے ذریعے ان پابندیوں سے چھٹکارا حاصل کیا تھا جو مبینہ طور پر اس کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے لگائی گئی تھیں۔ اس کے بعد ایرانی معیشت میں بہتری آئی۔ حالیہ انتخابات میں ایرانی عوام نے معتدل راہنما کو منتخب کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا تھا کہ ہم دنیا کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔

ریاض میں ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب میں مسلم ممالک کے سربراہوں کے اجلاس میں شرکت کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ہے۔ سعودی عرب نے مسلمان ممالک کی جو متحدہ فوج قائم کی ہے۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اسلامی دنیا سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ویٹی کن میں پوپ کے ساتھ ملاقات میں امن کی باتیں کی تھیں مگر ریاض میں وہ جنگ اور اسلحہ کی باتیں کرتے پائے گئے۔ سعودی عرب نے جس طرح قطر کو تنہا کرنے کی کوشش کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ متعدد معاملات میں سعودی قیادت نے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قطر ایک ننھا منا ملک ہے جو اقتصادی طور پر تو بہت مضبوط ہے مگر اس میں سعودی عرب سے تعلقات خراب کرنے کی سکت نہیں ہے۔ سعودی عرب کا خیال ہے قطر ایرانی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔ اس لیے اس نے اس سے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔ قطر کے ایک طرف سمندر ہے تو دوسری طرف سعودی عرب ہے۔اس کی زمینی سرحد کسی دوسرے ملک سے نہیں ملتی۔ سعودی عرب کا بائیکاٹ قطر کے لیے بڑے مسائل پیدا کرتا نظر آ رہا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ قطر سعودی عرب کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا۔ کیونکہ محاذ آرائی میں اضافہ قطری قیادت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ مگر کیا قطری حکومت الجزیرہ ٹی وی کی ادارتی پالیسی کو کنٹرول کر سکے گی۔ اس کی سرزمین پر کام کرنے والے ایرانی باشندوں کا کیا مستقبل ہوگا۔ اس کے متعلق اگلے چند دنوں میں درست اندازہ لگانا ممکن ہوگا۔ (جاری ہے)

مزید : کالم