شنگھائی تعاون تنظیم کی آستانہ سمٹ!

شنگھائی تعاون تنظیم کی آستانہ سمٹ!
 شنگھائی تعاون تنظیم کی آستانہ سمٹ!

  


شنگھائی تعاون تنظیم جو انگریزی زبان کی ایک سیاسی اصطلاح’’شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے، سب سے پہلے1996ء میں چین کے شہر شنگھائی میں وجود میں لائی گئی۔ اس وقت اس کے پانچ اراکین تھے یعنی، (1)چین، (2) روس، (3) قازقستان،(4) کرغستان اور تاجکستان۔۔۔ اسلئے اس کو’’شنگھائی پانچ‘‘(Shanghai Five) کا نام دیا گیا اور جب پانچ برس بعد2001ء میں اس تنظیم میں ازبکستان بھی شامل ہو گیا اور اس کی مزید توسیع کے آثار بھی نظر آنے لگے تو اس کو موجودہ نام (شنگھائی تعاون تنظیم) دے دیا گیا۔ پھر اس میں پاکستان اور بھارت بھی قبل ازیں مبصر کی حیثیت میں اس کے اجلاسوں میں شرکت کیا کرتے تھے، تین روز پہلے باقاعدہ ممبر بنائے گئے اور یوں آج اِس تنظیم کے مستقل اراکین کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔ ابھی تک منگولیا، ایران اور افغانستان کو مستقل اراکین کی حیثیت حاصل نہیں ہو سکی اور یہ تینوں ممالک ’’مبصر‘‘(Observers) شمار ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ دو ممالک(ترکی اور بیلا روس) اور بھی ہیں جو فی الحال مذاکراتی حدود تک محدود ہیں۔ ان کو بعد میں مبصر کا درجہ دیا جائے گا اور باقاعدہ(پاکستان اور بھارت کی طرح) ممبر بنا لیا جائے گا۔ تب ان کی تعداد 8سے بڑھ کر13 ہو جا ئے گی۔ لیکن یہ ابھی مستقبل کی باتیں ہیں۔ اس قسم کے معاہدے اور تنظیمیں وقت کے ساتھ پیدا ہوتی اور ساتھ ہی ختم بھی ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور یہ دُنیا امید پر قائم ہے۔۔۔ اگر سوال یہ ہو کہ اِس تنظیم کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی اور یہ چین ہی کے ایک شہر میں کیوں قائم کی گئی تو ان سوالوں کا جواب وہی ہے جو ایک مشہورِ عالم کہاوت ہے کہ ’’ ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘‘۔

1996ء میں چین ابھی پَر پرزے نکال رہا تھا اور اس سے پانچ سال پہلے1991ء میں سوویت یونین ٹوٹ کر فقط روس رہ گیا تھا۔ سوویت یونین نے اپنی جن ریاستوں کو 1991ء میں آزادی اور خود مختاری دے دی تھی ان میں سے بیشتر وسط ایشیائی ریاستیں یا جمہوریائیں (Central Asian Republics) کہلانے لگی تھیں۔ اِن نو آزاد ریاستوں کو تین اطراف سے خطرہ تھا کہ وہ مبادا ان پرکسی قسم کا جغرافیائی یا اقتصادی غلبہ حاصل کر لیں۔یعنی ایک روس کی طرف سے، دوسرا چین کی طرف سے اور تیسرا نیٹو کی طرف سے۔۔۔۔ چنانچہ ان ریاستوں کے کرتا دھرتاؤں نے چین اور روس سے مذاکرات کئے اور اس طرح ایک ایسی تنظیم وجود میں لانے کی داغ بیل ڈالی گئی جن کے مقاصد ملٹری نہ ہوں، بلکہ اقتصادی ہوں۔۔۔اسی تنظیم کا نام اول اول ’’شنگھائی فائیو‘‘ رکھا گیا جس میں آج پاکستان بھی شامل ہو چکا ہے اور آج اس کے مقاصد میں اگر ملٹری نہیں تو نیم ملٹری، نیم اقتصادی مقاصد و مباحث بھی شامل ہو چکے ہیں۔ 2001ء میں(یعنی نو گیارہ کے بعد) اس تنظیم کے مقاصد کی بنا پر اس کو 100فیصد سویلین حوالے سے اٹھا کر نیم عسکری تنظیم کا رنگ دے گیا، جس میں انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ منشیات میں ’’ملٹری قوت‘‘ کا استعمال بھی شامل ہو گیا۔

قارئین گرامی! جوں جوں ماہ و سال آگے بڑھتے جا رہے ہیں اللہ کریم کا وہ وعدہ کہ جو اُس نے اپنی آخری کتاب قرآنِ مجید میں کیا ہوا ہے پورا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ۔۔۔ اس خدائی وعدے نے آخر تو پورا ہونا ہی ہے۔۔۔۔ آج نہیں تو کل۔ اور اس ’’کل‘‘ کی کسی کو بھی خبر نہیں کہ کس گھڑی اور کس لمحے آ جائے! یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جیسا کہ کسی فلمی شاعر نے کسی فلمی گیت میں برسوں پہلے بیان کیا تھا، کبھی بھی نہ آئے یا ہم اسے دیکھ ہی نہ پائیں:

آج ٹھہر ہی نہ جائیں

ڈھلتی شام کے سائے

کل کس نے دیکھی ہے؟

آئے یا نہ آئے

آئے بھی تو جانے ہمیں پائے کہ نہ پائے اے میری زندگی

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ امید ختم ہوتی جا رہی ہے کہ انسان اپنی بقا کا بندوبست کر لے گا یا زندگی خود اپنی حفاظت کر لے گی۔۔۔ ایسا نہیں ہو رہا۔۔۔ ہو یہ رہا ہے کہ جوہری ممالک کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج جو ممالک یا اقوام طاقتور نظر آ رہی ہیں وہ پراکسی جنگوں پر اکتفا کر رہی ہیں،لیکن آنے والے کل میں ہم دیکھیں گے کہ ان پراکسی جنگوں کی آپشن بھی محدود ہوتی جائے گی۔ عین ممکن ہے کہ جوہری قوت کا کوئی ایسا آسان نسخہ ایجاد ہو جائے جو بہت تھوڑی مُدّت میں تمام دُنیا میں قابلِ عمل بن جائے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے غیر جوہری اقوام، جوہری اقوام میں تبدیل ہو جائیں۔اگر ایسی صورت پیدا ہوئی تو یا تو ساری دُنیا کو خود ڈی نیو کلیئرائز ہونا پڑے گا یا ایک عالمگیر نیو کلیئر وار ہو جائے گی جس کی بشارت خداوند ذوالجلال نے دے ر کھی ہے۔ اس مظہر کا کوئی وقت تو مقرر نہیں کیا جا سکتا، لیکن جو بات یقین سے کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک زنجیری عمل ہو گا۔ یعنی پہلے ساری اقوام عالم کا جوہری اہلیت حاصل کر لینا اور پھر اس اہلیت کا وہ مظاہرہ ہو جانا جس کو روزِ حساب فرمایا گیا ہے!

ہم شنگھائی تعاون تنظیم میٹنگ کی بات کر رہے ہیں تھے جو قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں گزشتہ جمعرات اور جمعہ (8 اور9 جون2017ء) کو منعقد ہوئی اور جس میں انڈیا اور پاکستان کو مستقل ممبر شپ دے دی گئی۔ اب یہ8ممالک کی ایسی علاقائی تنظیم بن چکی ہے جس کی حدود شمال میں قطب شمالی(روس) اور جنوب میں بحر ہند(انڈیا) تک اور مشرق میں بحرالکاہل(چین) سے لے کر مغرب میں بحیرۂ بالٹک(قازقستان) تک پھیل چکی ہیں۔ ویسے تو یہ ممالک زمینی راستوں سے ایک دوسرے سے منسلک ہو چکے ہیں لیکن آیا یہ راستے ممبر ریاستوں کے زیر استعمال بھی لائے جا سکیں گے یا نہیں، یہ ایک بہت الجھا ہوا سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنا شنگھائی تعاون تنظیم کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان اور انڈیا کا اس تنظیم کا رکن بن جانا اس لحاظ سے ایک اچھا شگون سمجھا جانا چاہئے کہ یہ دو ممالک جو ایک دوسرے کے ’’ازلی‘‘ دشمن ہیں ان کو باہم مل بیٹھنے کے مواقع میسر آیا کریں گے اور جن امور پر ان کے درمیان شدید اختلاف رائے ہوگا اور جن پر ایک دوسرے کے ہاں جا کر بات چیت نہیں ہو سکتی تھی وہ اب ہو جایا کرے گی۔ نہ صرف اس تنظیم کے ممبر ممالک کا رقبہ اور آبادی وسیع و عریض ہے بلکہ ان کے ہاں قدرتی وسائل کی بھی کمی نہیں۔ روس، قازقستان اور ازبکستان اس سلسلے میں پیش پیش ہیں۔ ان میں تیل، گیس، کوئلہ، یورینیم اور دوسری قیمتی معدنیات کی فراوانی ہے جبکہ دوسری طرف اس تنظیم میں پاکستان اور بھارت دو ایسے ملک ہیں جن کو ان وسائل بالخصوص انرجی کی اشد ضرورت ہے علاوہ ازیں چین بھی اس ذیل میں شمار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ چین کی انرجی ضروریات ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھ پھول رہی ہیں۔

انڈیا، وسط ایشیائی ریاستوں تک جانا چاہتا ہے لیکن وہاں تک پہنچنے کا آسان ترین اور مختصر ترین راستہ پاکستان سے ہو کر گزرتا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے لیڈر اپنے عوام کی آرزوؤں کے مخالف نہیں چل سکتے یہ سمجھ لینا کہ کسی جنرل کے پاکستان آنے سے کلبھوشن کی سزائے موت ٹل جائے گی یا کسی مودی کے رائیونڈ آنے یا کسی نوازشریف کے دلی جانے سے برف پگھل جائے گی، بالکل غلط اور بے بنیاد حقیقت ہے۔ یہ دونوں ممالک ہمسائے ہیں، دونوں میں ایسے متنازعہ مسائل باقی ہیں جن کا فیصلہ آج کی اشد اور عاجل ضرورت ہے اور جب تک یہ مسائل حل نہیں ہو جاتے شنگھائی تعاون تنظیم کی ممبر شپ دونوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ انڈیا بالخصوص اس حقیقت کا جتنی جلد ادراک کر سکے اس کے لئے اتنا ہی فائدہ مند ہوگا۔

اس آستانہ سمٹ میں افغانستان بھی بطور مبصر شامل تھا اور اسی حوالے سے ہمارے وزیر اعظم نے افغان صدر کو دعوت دی کہ آیئے باہمی دشمنی چھوڑ کر باہمی دوستی کر لیں۔ وسط ایشیائی ریاستوں کی طرح افغانستان بھی ایک زمین بند (Land Locked) ملک ہے اس کو سمندر تک کا راستہ چاہئے جبکہ پاکستان کو ایک امن پسند ہمسایہ چاہئے۔ اس میں دونوں کا فائدہ ہے۔ پاکستان آج مشرق و مغرب میں انڈیا اور افغانستان جیسے اگر کھلے دشمنوں کی صف میں نہیں تو چھپے حریفوں کی صورت میں، گھرا ہوا ہے۔ اسے بھی دونوں کے ساتھ دوستی کی ضرورت ہے۔۔۔ شنگھائی تنظیم ان کو سمجھا بجھا سکتی ہے۔ اس تنظیم کا سب سے اہم ملک روس نہیں، چین ہے۔ روس کی اپنی ایک دیرینہ حیثیت ہے لیکن چین ایک تازہ حقیقت ہے۔ جسے روس بھی تسلیم کرتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ مستقبل قریب میں چین کی رسائی روئے زمین کے تقریباً ہر ملک تک ہونے جا رہی ہے۔ جہاں روس دس برس تک افغانستان پر قابض رہ کر اپنے ہزاروں اور افغانستان کے لاکھوں فوجیوں کی قتل و غارت گری دیکھ چکا ہے وہاں پاکستان بھی اس افغان جہاد کے بلوبیک (Blow Back) کا شکار ہو کر اپنے 70, 60 ہزار سویلین اور فوجیوں کی قربانی دے چکا ہے۔ اس پس منظر کے ساتھ چین کو ضرورت ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو فراموش کروانے میں افغانستان اور پاکستان کی مدد کرے۔شنگھائی تنظیم اس سلسلے میں ایک غالب رول ادا کر سکتی ہے۔

میں اگلے روز (10 جون 2017ء) کسی اخبار (شائد ایکسپریس ٹریبون) میں شنگھائی تعاون تنظیم کے آٹھ اراکین کا اخبار کے صفحہ اول پر شائع ہونے والا گروپ فوٹو دیکھ رہا تھا جس میں انتہائی دائیں جانب پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کھڑے ہیں اور انتہائی بائیں جانب انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی ایستادہ ہیں۔ شائد تنظیم کے میزبان ملک نے دونوں کو ایک ساتھ کھڑا ہونے کی دعوت دی ہو گی۔ ان کی تصویر میں بھی یہ دوری وہی بُعد المشرقین ہے جس کو طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر دائیں بائیں اور مشرق و مغرب کی یہ دوریاں اس طرح قائم رہیں تو پھر شنگھائی تعاون تنظیم میں ’’تعاون‘‘ کا لفظ بے معنی ہو جائے گا اور یہ محض ’’شنگھائی تنظیم‘‘ بن کے رہ جائے گی اور صدر شی اور صدر پوٹن کے لئے اس ’’تعاون‘‘ کو باقی رکھنا ایک ایسا چیلنج ہے جو انتہائی توجہ طلب ہے!

مزید : کالم