سرکاری اداروں کو تاجروں ، صنعتکاروں کے ساتھ احترام کا رشتہ قائم کرنا ہوگا

سرکاری اداروں کو تاجروں ، صنعتکاروں کے ساتھ احترام کا رشتہ قائم کرنا ہوگا

میاں شہریار علی نوجوان کاروباری قیادت اور لاہور ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین ہیں ۔ کاروباری صلاحتیں انہیں ورثے میں ملی ہیں کیونکہ اْن کا تعلق ایک نامور بزنس فیملی سے ہے ۔ اْن کی صلاحتیں نکھارنے میں اْن کے والد میاں شفقت علی نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے جن کا نام کسی بھی تعارف کا محتاج نہیں۔ میاں شفقت علی لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ،صوبائی وزیر برائے ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ و پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اورگورنر گلگت بلتستان کے مشیر برائے سرمایہ کاری کی حیثیت سے بہت اہم خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

روزنامہ پاکستان کو خصو صی انٹرویو دیتے ہوئے میاں شہریار علی نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی کا تمام تر دارومدار اس ملک کے صنعتکاروں اور تاجروں پر ہے لہذا جب تک ان کے مسائل حل نہیں ہونگے تب تک ملک کے مسائل حل نہیں ہونگے لہذا حکومت بالخصوص فیڈرل بورڈ آف ریونیو جیسے سرکاری اداروں کو صنعتکاروں اور تاجروں کے ساتھ عزت واحترام کا رشتہ قائم کرنا ہوگا جو فی الحال ناپید نظر آتا ہے۔صنعتکار اور تاجر فیڈرل بورڈ آف ریونیو عملے کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال، مارکیٹوں میں چھاپوں اورایف بی آر کی جانب سے بینکوں سے ازخود رقوم نکلوالینے پر نالاں نظر آتے ہیں ۔ ایف بی آر کے غیردوستانہ رویے کی وجہ سے ہر سال ٹیکس دینے والوں کی تعداد بڑھنے کے بجائے گھٹتی چلی جارہی ہے کیونکہ اْس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا کے مصداق ایف بی آر ٹیکس وصولی کے لیے تمام زور اْن ہی صنعتکاروں اور تاجروں پر صرف کردیتا ہے جو ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں ۔ جب تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا تب تک حکومت اور تاجروں کے درمیان اعتماد کا فقدان رہے گا لہذا وزیراعظم نواز شریف کو خود اس صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے ۔ صنعتکار اور تاجر ایمانداری سے ٹیکس ادا کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے انہیں عزت و احترام چاہیے۔ توانائی کے بحران پر گفتگو کرتے ہوئے میاں شہریار علی نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے بحران کی دو بڑی وجوہات ہیں ۔ ایک روایتی ذرائع پر انحصار اور دوسرا کالاباغ ڈیم جیسے اہم منصوبے کو نظر انداز کرنا۔ جب تک ان پر توجہ نہیں دی جائے گی تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ خاص طور پر کالاباغ ڈیم تو ہر حال میں بنانا ہی ہوگا ۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کے مخالف لوگ اپنے گریباں میں جھانکنے کے بجائے سندھ میں پانی کے بحران کی ذمہ داری وفاق و پنجاب پر ڈال رہے ہیں اور جب کبھی کالاباغ ڈیم بنانے کی بات کی جائے تو یہی لوگ مخالفت میں سب سے زیادہ شور مچاتے ہیں۔ حکومت کو ان لوگوں کی باتیں نہیں سننی چاہئیں اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر فوری طور پر شروع کردینی چاہیے جس سے ملک بھر میں پانی اور بجلی کی کمی کا مسئلہ حل ہوگا۔ صرف گلگت بلتستان میں ہائیڈل ذرائع سے تقریباً پچاس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جو انتہائی سستی اور ماحول دوست ہوگی یعنی اگر ہم گلگت بلتستان میں ہائیڈل ذرائع سے بجلی پیدا کرنی شروع کردیں تو ملکی ضروریات پوری کرنے کے بعد ہمارے پاس تقریباً تیس ہزار میگاواٹ اضافی بجلی ہوگی جو برآمد کرکے اندازے سے بھی زیادہ زرِمبادلہ کمایا جاسکتا ہے جبکہ قومی صنعتوں اور عوام کو بھی وافر بجلی سستے

داموں دستیاب ہوگی ۔ حکومت کو چاہیے کہ توانائی کے متبادل ذرائع بالخصوص سولر انرجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ایک تو آلات پر ڈیوٹیاں اور ٹیکسز ہر ممکن حد تک کم کرے اور دوسری طرف عوام میں اس کا استعمال بڑھانے کے لیے شعور و آگہی پیدا کرے جس سے بجلی کی پیداوار کے روایتی نظام پر بوجھ کم ہوگااور بجلی کی قلت کے مسئلے پر قابو پایا جاسکے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک تب تک ترقی نہیں کرے گا جب تک کہ تاجروں کی اعتماد سازی نہیں ہوگی لیکن بدقسمتی سے بالخصوص فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایسے اقدامات اٹھارہا ہے جن کی وجہ سے تاجروں کی پریشانیاں بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ مارکیٹوں میں چھاپے مارے جارہے ہیں جبکہ تاجروں کے بینک اکاؤنٹس سے پیسے نکلوائے جارہے ہیں تو ایسے میں کاروباری سرگرمیاں کس طرح بڑھائی جاسکتی ہیں۔ حکومت کو یہ مسائل حل کرنے چاہئیں جس سے کاروباری فضا بہتر ہوگی ، حکومت کی آمدن بڑھے گی اور کاروباری سرگرمیاں بھی بڑھیں گی۔

میاں شہر یار علی کا کہنا تھا کہ ہمارے پالیسی سازوں کو شدت سے اس حقیقت کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک کو جن بہت سے معاشی مسائل اور اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے اْن سے نمٹنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ پہلے صنعتکار و تاجر برادری کے مسائل حل کیے جائیں جوکہ معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی اور انجن آف گروتھ ہے، بصورتِ دیگر جتنا چاہے سر پٹختے رہیں کچھ نہیں ہونے والا۔ بطور ر وائس چیئر مین لاہور ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کوشش کررہا ہوں کہ پہلے ان چیلنجز سے نمٹا جائے جوصنعتی و تجارتی ترقی کے راستہ میں رکاوٹ ہیں اور جن اہم مسائل نے تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو یرغمال بنارکھا ہے ان میں خاص طور پر سرکاری اہلکاروں کے صوابدیدی اختیارات کا غلط استعمال، دکانوں، گوداموں اور مارکیٹوں میں بے جا چھاپے، سمگلنگ روکنے کے نام پر مارکیٹوں کے باہر ناکے لگاکر تاجروں کو ہراساں کرنا، ایف بی آر کی بینک اکاؤنٹس تک رسائی، بینکوں سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس، مختلف مصنوعات کی ایویلیوایشن میں بھاری اضافہ اور ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام سرفہرست ہیں۔ حکومت کو ان معاملات کی طرف فوری توجہ دینی اور یہ مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے چاہئیں۔ حکومت پنجاب کو چاہیے کہ ترقیاتی بجٹ کا رْخ شہر کی صنعتی سیکٹر اور مارکیٹوں کی جانب موڑے کیونکہ حکومت کو بھاری محاصل دینے کے باوجود یہاں کے تاجر مشکلات سے دوچار ہیں۔ مارکیٹوں میں انفراسٹرکچر کی حالت درست کرنے اور ٹریفک کا نظام درست کرنے کے لیے پارکنگ پلازے بنانے کی ضرورت ہے۔جب صنعتکار مالکان اور تاجر برادری کے یہ مسائل حل ہونگے تو یہ مضبوط ہوکر کالاباغ ڈیم کی تعمیر، برآمدات کے فروغ، تجارتی خسارے کے خاتمے، بجلی کی پیداوار میں اضافے ، سمگلنگ کے خاتمے، غربت میں کمی، اور صنعتی و تجارت شعبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے بہترین کردار ادا کرسکے گی۔ معاشی استحکام اور سیاسی صورتحال کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ معاشی استحکام کے لیے سیاسی صورتحال کا استحکام بہت ضروری ہے لیکن اس وقت ملک ان تمام حوالوں سے بہت ہی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک طرف تو توانائی کا بحران صنعت و تجارت اور معیشت کے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے اور دوسری طرف سیاسی عدم استحکام جلتی پر تیل چھڑک رہا ہے۔ ہمارا ملک کسی طور بھی سیاسی انتشار زیادہ عرصہ تک برداشت نہیں کرسکتالیکن سیاستدان صورتحال بہتر بنانے کے بجائے آپس کی جنگ میں مصروف ہیں۔ کسی کو اپنے بیس بیس سال پرانے وہ کارنامے یاد آرہے ہیں جن کا ثمر کبھی عوام کو نہیں ملا تو کوئی مستقبل کے سہانے خواب دکھلانے میں مصروف ہے لیکن موجودہ حالات درست بنانے کے لیے کوئی بھی کچھ نہیں کررہا۔ تاجر و

صنعتکار برادری اس صورتحال میں بْری طرح پس رہی ہے۔ حکومت تو اندرونی و بیرونی قرضے لیکر وقت گزار لیتی ہے مگر ہمارے کاروبار دباؤ پر لگ جاتے ہیں۔ نجی شعبے جس کو بین الاقوامی طور پر ترقی کا انجن قرار دیا جاتا ہے ، پاکستان میں آج بقاء کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔ بیرونی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کرنے سے گریزاں ہے۔ باہمی اختلافات کوئی نئی بات نہیں ، دنیا بھر میں سیاستدانوں میں چپقلش چلتی رہتی ہے لیکن جہاں قومی مفادات کا معاملہ ہو کم از کم وہاں پر سب کو ایک ہوجانا چاہیے۔ موجودہ سیاسی عدم استحکام نہ صرف سنگین مسائل پیدا کررہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کے متعلق منفی تاثرات پیدا ہورہے ہیں لہذا سیاستدان صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی استحکام پر توجہ دیں جس سے دیرپا معاشی استحکام آئے گا ۔

مزید : ایڈیشن 2