قومی ہیڈ کوچ آج لنکا ڈھانے کیلئے پر عزم

قومی ہیڈ کوچ آج لنکا ڈھانے کیلئے پر عزم
 قومی ہیڈ کوچ آج لنکا ڈھانے کیلئے پر عزم

  


کارڈف(افضل افتخار)قومی کر کٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی ارتھر نے کہا ہے کہ سری لنکا کو شکست دیکر سیمی فائنل کیساتھ ورلڈ کپ میں بھی کوالیفائی کریں گئے،سری لنکا کیخلاف اہم میچ میں کامیابی کیلئے ہمیں ہر شعبے میں ڈسپلن برقرار رکھنا ہوگا، سری لنکا نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت کو زیرکیا، لنکن پاور ہٹرز ہمارے لیے بھی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں، جدید کرکٹ کے مطابق ایک نئے مزاج کی حامل ٹیم کیساتھ آئندہ ورلڈکپ میں قدم رکھنا چاہتے ہیں،کھلاڑیوں میں فٹنس کلچر پروان چڑھ رہا ہے۔کارڈف میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا کہ بڑے میچز جیتنے کیلیے نیچرل کھیل کا مظاہرہ کرنااورذہنی طور پر تیار ہونا پڑتا ہے، میرے خیال میں بھارت کیخلاف میچ میں کھلاڑی اپنی صلاحیتوں پر یقین کھوبیٹھے تھے، اس لیے تینوں شعبوں میں مسائل سے دوچار نظر آئے،ہم ہرگز اس طرح کی کرکٹ نہیں کھیلنا چاہتے، اکثر پلیئرز کیساتھ بات ہوتی ہے، بھارت کے ہاتھوں شکست پر بھی سب سر جوڑ کر بیٹھے، اگلے چیلنج کا سامنا کرنے کیلیے ہر کوئی ذہنی طور پر تیار ہوا،سب نے ذمہ داری اٹھانے کا عزم اور پلان پر عمل کرنے کا عزم ظاہر کیا، مثبت سوچ کیساتھ عالمی نمبر ون جنوبی افریقہ کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوئے، بولنگ، فیلڈنگ اور بیٹنگ میں بھی کچھ کردکھانے کا جذبہ تھا، کھلاڑیوں نے پلان کے مطابق کارکردگی دکھانے کیلیے ایک ایک گیند پر محنت کی جس کی بدولت فتح بھی حاصل ہوئی اور اعتماد کی دولت لوٹ آئی،ٹیم کے مزاج میں بروقت تبدیلی خوش آئند ہے، کھلاڑیوں میں آگے بڑھنے کیلیے نیا جوش اور جذبہ پیدا ہوگیا، صلاحیتوں کو نکھارنے کیلیے پریکٹس سیشن میں بھی سخت محنت جاری ہے، آئی لینڈرز کو زیر کرکے سیمی فائنل میں رسائی کیلیے پرعزم ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پروٹیز کیخلاف میچ میں پچ صرف ہمارے لیے سازگار ہونے کا تاثر درست نہیں، فرق یہ ہے کہ مضبوط حریف ہونے کے باوجود پاکستان ٹیم نے کنڈیشنز کا بہترین استعمال کیا جبکہ جنوبی افریقہ کی کوشش کامیاب نہ ہوئی، سری لنکن پروٹیز سے مختلف ٹیم ہیں، ان کیخلاف پلاننگ بھی نئی کرنا پڑے گی،آئی لینڈرز نے حالات کے مطابق جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت کو زیرکیا،ٹیم میں پاور ہٹرز ہمارے لیے بھی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں، کامیابی کیلیے ہمیں ہر شعبے میں ڈسپلن برقرار رکھنا ہوگا۔ویسٹ انڈیز کیخلاف افغانستان کی جیت اور چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی پروٹیز کیخلاف فتح سے ورلڈ کپ 2019میں براہ راست شمولیت کا قوی امکان پیدا ہونے کے سوال پر مکی آرتھر نے کہا کہ بڑی خوش آئند اور قابل اطمینان بات ہے، انگلینڈ اور آسٹریلیا کے مشکل ٹورز میں ہماری رینکنگ زیادہ متاثر ہوئی اب کوالیفائی کررہے ہیں تو اچھا شگون ہے لیکن بہتری کا سفر رکنا نہیں چاہیے، ہمیں فٹنس اور فیلڈنگ سمیت ہر شعبے میں محنت جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

جدید کرکٹ کے مطابق ایک نئے مزاج کی حامل ٹیم کیساتھ آئندہ ورلڈکپ میں قدم رکھنا چاہتے ہیں،کھلاڑیوں میں فٹنس کلچر پروان چڑھ رہا ہے، حسن علی ایک مثال ہیں، ایک سال میں وہ پہلے سے زیادہ فٹ اور بولنگ میں زیادہ موثرہوئے ہیں،مہارت اور ورائٹی میں مسلسل بہتری آرہی ہے،اچھے آل رانڈر کے روپ میں ٹیم کے کام آئیں گے، بابر اعظم سمیت دیگر نوجوان بھی روشن مستقبل کی نوید ہیں،عمراکمل کے معاملے میں میرا این سی اے اسٹاف یا چیف سلیکٹرانضمام الحق کیساتھ کوئی اختلاف نہیں،نوجوان بیٹسمین دیے گئے وقت میں فٹنس کا مطلوبہ معیار حاصل نہ کرپائے،اس لیے متبادل کا فیصلہ کرنا پڑا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی