رمضان بھرا کالم

رمضان بھرا کالم
 رمضان بھرا کالم

  


جب مَیں، آپ اور ہم سب روزہ افطار کرتے ہوئے پکوڑے، سموسے، کچوریاں، فروٹ چاٹ اور دہی بھلوں سمیت سب کچھ چٹ کر جاتے ہیں تو یقینی طور پرہمارے معدے حیران اور پریشان رہ جاتے ہوں گے کہ بھلا سولہ گھنٹوں کے قریب آرا م دے کر افطارمیں ہضم کرنے کااتنا کام دے دیا ہے جو اگلے سولہ گھنٹوں میں بھی مکمل نہیں ہوگا ، کیا کبھی آپ نے سوچا کہ ہمارے رب نے رمضان کا

مبارک مہینہ صرف افطار کے لئے ہی تو نازل نہیں کیااوریہ کس نے سوچا تھا کہ اس افطار کو بھی ثواب کی بجائے پبلک ریلیشننگ کا ذریعہ بنا لیا جائے مگر بھلا ہو اپنی خوش خوراکی کا کہ افطار کی شان بنائے بغیر بھی تو رہا نہیں جاتا۔ ایک

وقت تھا کہ پنجاب میں سرکاری خرچے پر افطار پارٹیوں کی اجازت تھی اور ہر وزیر ، مشیر سرکاری خرچے پر ثواب اور تعلقات دونوں ہی بناتا تھا، مگر بعدازاں اس پر پابندی لگا دی گئی اور حکومتی شخصیات کی طرف سے افطار کی دعوتیں یوں غائب ہو گئیں جیسے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے سرکاری خرچ نہیں،بلکہ افطار پر ہی پابندی لگا دی ہو۔ میں ذاتی طور پرگھر میں پُرتکلف افطار کا حامی ہوں کہ اس کے

ذریعے بچوں میں روزے کا ذوق اور شوق پیدا ہوتا ہے ، ہاں،یہ ضرور ہے کہ ہمارے رب نے ہماری عبادت کے ذریعے ہی ہمارے لئے ایکسرسائز کا بندوبست کر دیا ہے جو رمضان میں بصورت دیگر ممکن نہیں ،یوں پیٹ کو گلے تک بھرنے کے بعد تراویح کے ذریعے اسے ہضم کرنے کا بھی پورا انتظام موجود ہے۔ کچھ دوست ایسے ہیں کہ وہ عشاء اور تراویح کی پوری سینتیس رکعات پڑھ کے جاتے ہیں تو انہیں دوبارہ بھوک لگ رہی ہوتی ہے۔ یہ بات درست کہ رمضان میں روزے فرض کئے گئے ہیں پکوڑے نہیں مگر برصغیر میں یوں لگتا ہے کہ روزوں کے ساتھ ساتھ کسی دارالعلوم سے پکوڑوں کی فرضیت کا بھی کوئی فتویٰ آیا ہے۔ ہر مرتبہ یہی سوچا جاتا ہے کہ اس رمضان میں خوب ڈائٹنگ کی جائے گی،سحر میں پراٹھوں اور افطار میں پکوڑوں، سموسوں سے مکمل گریز کیا جائے گا، مگر یہ ارادہ محض ارادہ ہی رہ جاتا ہے۔ جب رمضان ، عیدکو ساتھ لئے رخصت ہوتا ہے تو علم ہوتا ہے کہ وہ مزید چند کلو وزن کا تحفہ دے گیا ہے۔

ہمارے قاری صاحب نے اعلان کیا کہ وہ سولہویں روزے کی تراویح تک روزانہ ڈیڑھ پارہ سنانے کا عمل جاری رکھیں گے ، یوں اتوارکی رات چوبیس پارے مکمل ہو گئے اور باقی صرف چھ رہ گئے، سوموار کوایک پارے کی قرات ہوگی اور پھر اٹھارہویں روزے سے ستائیسویں روزے کی تراویح تک میں روزانہ صرف نصف پارے کی تلاوت ہو گی،یعنی بیس رکعت کی نماز میں قیام بہت کم رہ جائے گا ، رکوع، سجود اور قعدے ہی پے در پے ہوں گے۔ قاری صاحب کا کہنا ہے کہ جسے یہ لگے کہ آخری عشرے میں قرآن کی تلاوت کم ہے، وہ محافل شبینہ میں بھی شرکت کر سکتا ہے۔ تراویح کی ادائیگی میں بھی عجب مناظر ہوتے ہیں،ہمارے کچھ دوست آٹھ تراویح پڑھ کر رخصت ہو جاتے ہیں کہ ان کے پاس باقاعدہ شرعی جواز موجود ہے مگر امام صاحب بھی انہی آٹھ رکعتوں میں پورا ایک پارہ تلاوت کر جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ہر رکعت کے آغاز پر پچھلی صفوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور جب امام رکوع میں جاتاہے تو دوڑ کر جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ وہ اس کے ذریعے کس کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں ، اپنے رب کو یا اپنے آپ کو۔کہا کسی نے، جو دوست بیس کی بجائے آٹھ رکعت نماز تراویح پڑھتے ہیں وہ تو فائدے میں رہتے ہیں، میں نے کہا، اگر کم رکعتیں پڑھنا ہی فائدہ ہے تو پھر اصل فائدے میں تووہ ہوئے، جنہوں نے ایک رکعت بھی ادا نہ کی، یہ بحث غیر ضروری ہے کہ تراویح کی نماز میں قرآن کی تلاوت کو آٹھ رکعتوں میں سنا جائے یا بیس رکعتوں میں کہ سننا تو وہی قرآن ہے جسے رمضان میں اداکی جانے والی اس خصوصی نماز میں بہر صورت ایک مرتبہ تو مکمل کیا جانا ضروری ہے، قرات کا وقت تو یکساں رہتا ہے ، ہاں، بارہ رکعتوں میں بارہ مرتبہ سورۃ فاتحہ، بارہ قعدوں اور چوبیس سجدوں کا وقت ضرور کم ہوجاتا ہے۔ بہت سارے دوست تراویح میں قرات کی بجائے وقت کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں، وہ ڈھونڈ کر ایسے قاری کی امامت تلاش کرتے ہیں جو جلد از جلد تراویح مکمل کروا دے، ابھی حال ہی میں میڈیا پر ایک ایسے مولوی صاحب نے دھوم مچائی ہوئی ہے، جنہوں نے سات منٹوں میں بیس رکعت تراویح پڑھا دی۔ہمارے ہاں جتنی گرمی ہوتی ہے ایسے میں قرات اور وقت کے ساتھ ساتھ ہم جیسوں کی ایک ترجیح ائیر کنڈیشنڈ مسجد بھی ہوتی ہے،یعنی اس مسجد میں تراویح کی ادائیگی زیادہ بہتر ہے جس کا اے سی زیادہ کولنگ کرتا ہو اور پھر یوں بھی ہو تاہے کہ دیوبندی اور بریلوی سطح کے اختلافات بھی ایک طرف رہ جاتے ہیں۔

ہمارے کچھ دوستوں کا فتویٰ یہ بھی ہے کہ نماز تراویح میں جب امام صاحب کی قرات ہم عجمی سمجھ نہیں پاتے تو ایسے میں بہتر ہے کہ تراویح کی بجائے خود قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پڑھ لیا جائے کیونکہ بہت سارے قاری حضرات تلاوت ایسی کرتے ہیں کہ یعلمون اور تعلمون کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ یہ اسی قسم کی بات ہے، جس قسم کے فتاویٰ جات غامدی صاحب سے منسوب کئے جا رہے ہیں جو بظاہر بہت اچھے اور دین کی اصل روح کے عین مطابق بھی لگتے ہیں اور اسے اجتہاد کے طور پر بھی پیش کیاجاتا ہے، مگر معاملہ یہ ہے کہ اگر ہم تقلیدکوعلامہ اقبال کے اشعار کی غلط تشریح کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بناتے رہیں اور خود کو دین کے مطابق ڈھالنے کی بجائے دین کو اپنے مطابق ڈھالنے کی کوششیں شروع کر دیں تو اس کی حمایت نہیں کی جانی چاہئے۔ ایسی کوششوں کے ذریعے ہم دین کی عمارت میں تازہ ہوا کے نام پر اتنی کھڑکیاں بنا لیں گے کہ اصل عمارت اپنے نقشے اور اپنی مضبوطی میں نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی اور زمانے کی ہلکی سی ہواوں کے تھپیڑوں سے بھی ڈھے جائے گی،جبکہ اس عمارت کو اس دور میں بھی بہت سارے طوفانوں کا سامنا کرنا ہے۔ مانا کہ تراویح فرض نہیں،بلکہ سنت موکدہ کی صورت نفل نمازہے، جس کی جماعت بھی خلفائے راشدین کے دور میں شروع ہوئی مگر کیا یہ منظر خوبصورت نہیں ہے کہ ہر گلی اور ہر محلے کی مسجد سے قرآن کی تلاوت کی آواز آ رہی ہے، قرآن اپنے زیر ،زبر کی درستی کے ساتھ ہمارے حفاظ بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کی زبان سے یوں نکلتا ہے جیسے کوئی آبشار بہہ رہی ہو، میرے رب کے کلام کی اتنی درستگی کے ساتھ نسل درنسل حفاظت بھی ایک عظیم اور شاندارہ معجزہ ہے۔ اب حکومت نے قرات اورتقریر کے لئے اذان والے لاوڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے، مگر ہمارے قاری صاحبان اس کی کسر مسجد کے اندر لگے ہوئے چھوٹے لاوڈ سپیکروں سے پوری کر لیتے ہیں۔میں نے سپیکر کے شوقین ایک قاری صاحب سے پوچھا، قرآن پاک کی تلاوت سنت ہے اور اس کا سننا فرض ہے،جب آپ لاوڈ سپیکرپرتلاوت کرتے ہیں توان تمام لوگوں پر بھی سننا فرض ہوجاتا ہے جو اپنے گھر پر آرام کر رہے ہوتے ہیں ، اہل خانہ کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہوتے ہیں یا واش روم میں ہوتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ سپیکر کے ذریعے اذان کو حرام قرار دیا جاتا تھا کہ لوگوں تک نما ز کی دعوت انسانی کی بجائے مشنینی آواز میں پہنچتی ہے، مگر اب یوں لگتا ہے کہ سپیکر کا موجود نہ ہونا حرام یا کم از کم مکروہ سمجھا جاتا ہے۔

کہاجاتا ہے کہ اگر آپ نے روزہ رکھ کے بھی جھوٹ بولنا، کم تولنا اور اس قسم کے دیگر گناہ نہ چھوڑے تو پھر آپ کا روزہ رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، میں اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ روزہ صرف کھانے پینے کو چھوڑ دینے کانام نہیں ہے، اس کی فرضیت کے لئے دلیل ہی یہ دی گئی ہے کہ ’ تاکہ تم پرہیز گار ہو جاو‘ مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اپنی بشری اور فطری خامیوں کو دلیل بنا کے روزے کو ترک کر دیں، ہونا تو یہ چاہئے کہ روزے کی وجہ سے گناہ ترک ہوں، مگر فکری مغالطے پیدا کر کے گناہوں کی وجہ سے روزے ترک کرنے کا جواز ڈھونڈاجاتا اور پھراس کی فضیلت پر اصرار بھی کیا جاتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، یہ دن عمل کا ہے اور حساب کچھ نہیں اور وہ دن حساب کاہو گا ، عمل کچھ نہیں۔وہی لوگ افضل ہیں جوزکوٰۃ ادا کرتے روزے رکھتے اور رکوع و سجود کرنے والوں کے ساتھ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے رکوع وہ سجود کرتے ہیں۔ ہم میں سے کتنے یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ وہ اگلے رمضان میں بھی موجود ہوں گے؟

مزید : کالم