کویت ، ترکی کی کوششیں رنگ لانے کے قریب ، سعودی عرب ، قطر کے مابین مذاکرات کی تیاریاں مکمل اگلے 48گھنٹوں میں نوید ملنے کا امکان

کویت ، ترکی کی کوششیں رنگ لانے کے قریب ، سعودی عرب ، قطر کے مابین مذاکرات کی ...

لاہور،دوحہ ،تہران(خالد شہزاد فاروقی، مانیٹرنگ ڈیسک )سعودی عرب اور قطر کے درمیان پیدا ہونیوالی سنگین کشیدگی اور اختلافات اگلے 24سے48گھنٹوں میں حل ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ،امیر کویت شیخ جابر الصباح کی کوششیں رنگ لانا شروع ہو گئیں ،امیر قطر اور سعودی عرب کی اہم شخصیت کو لانے کیلئے کویت میں جہاز تیاراور اڑان بھرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں ،مذاکرات کا مقام کویت یا دبئی ہو سکتا ہے ،مصالحت میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا بھی اہم کردار ہے ،مسلم امہ میں پیدا ہونیوالے اضطراب کے خاتمے کی کسی بھی وقت بڑی خوشخبری آسکتی ہے ۔تفصیلات کے مطابق امیر کویت الشیخ الصباح اور ترکی نے سعودی عرب اور قطر کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرانے کیلئے اپنی کوششیں بڑ ھا دی ہیں ، اگلے24سے 48گھنٹوں میں ان دو اہم اسلامی ملکوں کے درمیان پیدا ہونیوالی دوریاں ختم ہونے کی امید ہے ۔انتہائی اہم اور مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے اسوقت کویت میں جہاز تیار کھڑے ہیں جو کسی بھی وقت امیر قطر الشیخ تمیم بن حما د الثانی اور سعودی عرب کی ایک اہم شخصیت کو مذاکرات کیلئے دبئی یا کویت لانے کیلئے اڑان بھرسکتے ہیں ۔یاد رہے تنازعہ خلیج کے حل کیلئے پہلے روز سے ہی88سالہ امیر کویت شیخ الصباح میدان میں آ گئے تھے اور انہوں نے جدہ پہنچ کر اہم سعودی شخصیات سے مصالحت کیلئے ملاقاتیں کی تھیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے مذاکرات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور امیر قطر نے ’’خلیج تعاون کونسل ‘‘ کی سفارشات پر عملدرآمد کا عندیہ دیتے ہوئے خطے میں امن واستحکام کی اہمیت کی جانب اشارہ دیئے جانیوالے مذاکرات میں ڈپلومیسی و ڈائیلاگ کے راستے کو ترجیح دینے کی یقین دہانی بھی کرا ئی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے اختلافی امور کو بات چیت سے حل کرانے میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی کوششوں کو انتہائی ا ہمیت حاصل ہے ،جبکہ قطر میں موجود شدت پسند تنظیم اخوان المسلمون اور دیگر افراد کی ملک بدری کا معاملہ بھی طے پا گیا ہے ،اخوان المسلمو ن اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے وہ60افراد جو قطر میں موجود ہیں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہیں ترکی میں بحفاظت پہنچا دیا جائیگا ۔ ذرائع کا کہنا ہے موجودہ صورتحال میں قطر کسی طور پر اس امر کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ وہ اس کشیدگی میں 2022میں قطر میں ہونیو الے 282 ارب ڈالر کے عالمی فٹبال کپ کی میزبانی سے ہاتھ دھو بیٹھے ،اسلئے امیر قطر نے ثالثی کرانیوالی شخصیات کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلا یا ہے ۔ جبکہ قبل ازیں ترک صدر رجب طیب اردگان نے قطر، روس، کویت اور سعودی عرب کے رہنماؤں سے تفصیلی ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا اور قطر کے حوالے سے خلیجی ممالک کے درمیان پیدا ہونیوالے تناؤ کو کم کرنے پر زور دیا تھا ۔ ذرائع کا کہنا ہے سعودی فرمانروا نے ابتدائی طور پر یقین دہانی کروائی ہے کہ قطر اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں رہنے والے شہریوں کو ایک دوسرے سے ملنے اور آنے جانے کے حوالے سے کسی مشکلات یا دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جبکہ قطر کے شہریوں کو کھانے پینے کی اشیاء کے حوالے سے بھی پیدا ہونیوالے بحرا ن پر قابو پا لیا گیا ہے ۔اس سے قبل قطر وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے بھی مذاکرات اور کشیدہ صورتحال کو حل کرنیکی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسئلے کے حل کیلئے دیانتدارانہ اور آزادانہ مذاکرات اہم ہیں ،ہم یقین دہانی کراتے ہیں قطر کی جانب مسئلے کو مزید بڑھانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب عرب ٹی وی الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے قطر ی دفتر خارجہ کے انسداد دہشت گردی سیل کے خصوصی سفیر مطلع القحطانی کا کہنا ہے قطرحکومت نے طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت سمیت طالبان، امریکہ اور افغان حکو مت کے ما بین مذاکرات کی میزبانی خود امریکہ ہی کے کہنے پر کی،انکا کہنا تھا قطر کی پا لیسی ہے کہ وہ ہمیشہ امن و استحکام کیلئے راہیں کھولتا ہے اور امن کیلئے ہونیوالے مذاکرات کو خوش آمدید کہتا ہے ،اسیلئے امریکی حکومت کی طالبان کو دفتر کھولنے اورمذاکرات کی میزبانی کی خواہش و پیشکش کو قبول کیا گیا۔واضح رہے امریکی صدر ڈو نلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ الزام لگایا گیا ہے کہ قطر طویل عرصے سے دہشت گردوں کو سہولیات فر ا ہم کرنے میں ملوث ہے،یاد رہے طالبان نے13ء میں قطر میں اپنا سیاسی دفتر کھولا تھا جبکہ اسی الزام کے تحت سعودی عرب کی قیادت میں 7 ممالک نے قطر کا حقہ پانی بند کردیا ہے۔ افغان طا لبان بھی امریکہ کی نظروں میں دہشت گرد ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی تناظر میں قطر پر دہشت گردوں کی سہولت کاری کا الزام لگایا تھا، حا لانکہ امریکہ کی سابقہ حکومت انہی طالبان سے مذاکرات کرتی رہی ہے۔ادھر تازہ بحران کے باعث قطر میں غذائی قلت پیدا ہونے سے نبٹنے کیلئے ایران نے اشیائے خورونوش سے لدے ہوئے6طیارے جبکہ سمندری راستے کو استعمال کرتے ہوئے 3 کشتیوں پر مشتمل 350 ٹن تک کے پھل ایرانی بندرگاہ دیار سے قطر روانہ کردئیے ہیں ۔ایرانی فضائیہ کے ترجمان شاہ رخ نوش آبادی کے مطابق ایران قطر میں اشیائے خورونوش کی طلب کی بنیاد پر اس عمل کو جاری رکھے گا۔

قطر بحران

مزید : صفحہ اول