جے آئی ٹی کی طلبی پر وزیر اعظم نواز شریف نے پیش ہونے کا درست فیصلہ کیا

جے آئی ٹی کی طلبی پر وزیر اعظم نواز شریف نے پیش ہونے کا درست فیصلہ کیا

تجزیہ:قدرت اللہ چودھری

پاناما کیس کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ہونے والی جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف کو تحقیقات کے لئے طلب کرلیا ہے۔ وہ جمعرات کو دن گیار بجے پیش ہوں گے۔ جے آئی ٹی کے ایک رکن نے ہفتے کے روز وزیراعظم ہاؤس کو فون کیا کہ انہیں ایک خط دینا ہے، جس کے بعد جے آئی ٹی کا ایک خط وزیراعظم کو پہنچایا گیا جس میں وزیراعظم سے کہا گیا تھا کہ وہ جمعرات کو گیارہ بجے جے آئی ٹی میں پیش ہوں۔ وزیراعظم نے اس خط کی روشنی میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے وزرائے اعظم سپریم کورٹ میں پیش ہوتے رہے ہیں، خود نواز شریف بھی توہین عدالت کے کیس میں سپریم کورٹ میں پیش ہوچکے ہیں، لیکن یہ غالباً پہلا موقع ہے کہ کوئی وزیراعظم کسی ایسی جے آئی ٹی میں تحقیقات کے لئے پیش ہوگا جو سرکاری افسروں پر مشتمل ہے۔ اس جے آئی ٹی میں ان کے صاحبزادے حسین نواز 5باراور حسن نواز دو مرتبہ پیش ہوچکے ہیں۔ حسین نواز کی ایک تصویر کے بڑے چرچے ہیں جس میں وہ تحقیقات کے آغاز سے قبل اکیلے منتظر بیٹھے ہیں۔ اس تصویر پر طرح طرح کے تبصرے تو ہو رہے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ اس تصویر میں خاص بات کیا ہے، حسین نواز کوئی آسمان سے اترے ہوئے تو نہیں کہ ان کے ساتھ کوئی خصوصی سلوک کیا جاتا۔ آخر اس تصویر سے ان کی کون سی توہین ہوگئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما تو اس سے برے حالات میں عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں۔ اسی طرح بعض تبصروں میں ہمدردی کے پہلو بھی ہیں۔ حسن نواز بھی پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کراچکے اور سوالات کے جواب دے چکے، ان دونوں صاحبزادوں کے علاوہ وزیراعظم کے ایک دوست جاوید کیانی بھی جے آئی ٹی میں پیش ہوچکے ہیں، جنہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق ’’وعدہ معاف گواہ‘‘ بننے کی پیشکش کی گئی ہے اور اس ’’سہولت‘‘ سے استفادہ نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں لیکن یہ ایسی اطلاعات ہیں جو یکطرفہ ہیں اور فریق ثانی کی جانب سے اس پر کس موقف کا اظہار نہیں کیا گیا۔ البتہ نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر سعید احمد نے تو باقاعدہ طور پر ایک خط سپریم کورٹ کو لکھ دیا ہے جس میں اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ سعید احمد نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ تفتیش کے دوران 12 گھنٹے سوالات پوچھے گئے اور 5 گھنٹے انتظار کرایا گیا، جو مجموعی طور پر 19 گھنٹے بنتے ہیں۔ سعید احمد ملک کے ایک بڑے قومی ادارے کے سربراہ ہیں جو اربوں کھربوں روپے کماتا ہے اور اپنے منافع میں سے لازمی طور پر کئی ارب روپے ٹیکس بھی قومی خزانے میں جمع کراتا ہے۔ اتنے اہم ادارے کے سربراہ کی عمر بھی پچپن سال کے لگ بھگ ہوگی جسے اصطلاحاً عمر رسیدہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ اب ایسے شخص کو خواہ مخواہ اذیت دینے کیلئے پانچ گھنٹے انتظار کرانے کی کیا تُک ہے، فرض کریں اس وقت جے آئی ٹی کے ارکان مصروف تھے تو پھر انہیں ایسے وقت بلایا جاسکتا تھا جب وہ فارغ ہوجاتے پھر 12 گھنٹے تک لگاتار تفتیش کرنا کیوں ضروری تھا، اس وقت کو دوچار پیشیوں پر تقسیم کیا جاسکتا ہے چودھری اعزاز احسن تو کہتے ہیں اتنے لمبے عرصے تک پوچھ گچھ کی کیا ضرورت ہے یہ تو دو گھنٹے سے زیادہ کا کام نہیں، جے آئی ٹی والے اس سلسلے میں چودھری اعتزاز سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ لیکن ایسے لگتا ہے کہ سعید احمد پر اس طریقے سے کوئی دباؤ ڈالنا مقصود تھا، انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے برے سلوک کی تفصیلات سے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا ہے، اب دیکھیں اس معاملے پر فاضل عدالت کیا احکامات جاری کرتی ہے، اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم کے کزن طارق شفیع نے بھی شکایت کی تھی کہ جے آئی ٹی نے انہیں ہراساں کیا اور یہ تک کہا کہ انہیں جیل جانا پڑے گا۔ خود جے آئی ٹی نے بھی سپریم کورٹ کو ایک بند لفافہ میں اپنی شکایت بھیجی ہے کہ اسے دھمکیاں مل رہی ہیں، یہ ساری تفصیلات اس لئے درج کردی ہیں کہ اس ماحول میں وزیراعظم نواز شریف جمعرات کو جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوں گے، اس سے پہلے جنرل پرویز مشرف چند عدالتی پیشیوں سے ہی گھبرا گئے تھے۔ انہیں بعض مقدمات میں ایک دوبار عدالت میں پیش ہونا پڑا تو ایک بار راستے میں ہی ان کی گاڑیوں کے قافلے کا رخ موڑ کر اے ایف آئی سی (امراضِ قلب کا فوجی ادارہ) کی جانب کردیا گیا، جہاں وہ کافی عرصے تک رہے، جب وہ یہاں سے فارغ ہوئے تو کراچی چلے گئے جہاں سے انہوں نے بیرون ملک کا رخ کیا، جانے کا مقصد تو علاج کرانا تھا لیکن اس کے بعد وہ واپس نہیں آئے، اس دوران تمام مقدمات کی سماعت رکی ہوئی ہے البتہ اتنا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ وہ مقدمات میں عدالتوں کی پیشی کو اپنی کسرِ شان سمجھتے ہیں، اور کئی بار اپنے انٹرویوز میں کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان آنے کے لئے تیار ہیں لیکن یہ عدالتوں کی پیشیاں ان کی راہ میں حائل ہیں۔ جنرل پرویز مشرف سابق صدر ہیں اور سابق آرمی چیف ہیں ان کا یہ خیال ہے کہ فوج ان کی پاکستان میں واپسی کی راہ ہموار کرے، ممکن ہے وہ یہ بھی سوچتے ہوں کہ جس طرح وہ پہلے فوجی بغاوت کرکے اقتدار پر قابض ہوگئے تھے اسی طرح اب بھی کوئی ایسی صورت بن جائیگی۔ لیکن انہیں معلوم ہے کہ ان کے بعد دو آرمی چیف نو سال تک اپنے عہدوں پر خدمات انجام دے کر ریٹائر ہوچکے ہیں اور اب تیسرے آرمی چیف اس عہدے پر متمکن ہیں۔ اس دوران تبدیلیوں کا ایک پورا سرکل مکمل ہوچکا ہے اس لئے یہ تو اب ممکن نہیں کہ کوئی انہیں اقتدار کی کرسی طشتری میں رکھ کر پیش کردے، البتہ اگر وہ سیاسی جدوجہد کی آزمائش سے گذر کر اس کا صلہ پاسکتے ہیں تو ضرور جدوجہد کریں۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو وزیراعظم کا فیصلہ جرات مندانہ ہے۔ انہوں نے جے آئی ٹی کی طلبی پر اس کے دئے ہوئے دن اور وقت پر تفتیش کے لئے حاضر ہونے کا فیصلہ کرکے بڑی جرات کا ثبوت دیا ہے اور ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ اگر جے آئی ٹی نے بلایا تو حاضر ہوں گے۔ وزیراعظم کے اس فیصلے پر البتہ ان کے سیاسی اور ذاتی مخالفین کو ضرور تشویش ہے، مثال کے طور پر ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ جے آئی ٹی مسلم لیگ (ن) کا منشور تیار کررہی ہے، اس سے ان کی مراد بظاہر یہ ہے کہ اس فیصلے کی وجہ سے نواز شریف کو انتخابی مہم میں فائدہ پہنچے گا، اس معاملے میں پریشانی تو جے آئی ٹی کو ہونی چاہے، ڈاکٹر طاہر القادری خواہ مخواہ پریشان ہورہے ہیں۔ اول تو الیکشن ان کا میدان نہیں، انہوں نے لڑ کر دیکھ لیا آج تک ان کو ایک سے زیادہ نشستیں نہیں ملیں وہ بھی انہوں نے چھوڑ دی کہ اسمبلی میں بیٹھ کر بور تقریریں کون سنے، وہ ایک نشست کی بنیاد میں اقتدار چاہتے تھے یا اقتدار میں حصہ، لیکن اس کمائی پر تو حصہ ملنے سے رہا، اس لئے وہ انتخابات کے متعلق ہمیشہ غلط اندازے لگا رہے ہیں اب بھی ان کا اندازہ درست نہیں۔

اچھا فیصلہ

مزید : تجزیہ