جے آئی ٹی عدالت نہیں ، ٹیم کے رو برو پیشی تاریخ رقم کر نا ہے

جے آئی ٹی عدالت نہیں ، ٹیم کے رو برو پیشی تاریخ رقم کر نا ہے

تجزیہ:اجمل جامی

پانامہ کیس کی تحقیقات کرنے کیلئے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی نے 5بار حسین نواز، 2بار حسن نواز کوطلب کرنے کے بعد اب وزیراعظم پاکستان نوا زشریف کو بروز جمعرات 11بجے طلب کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس اہم پیش رفت کا جائزہ لیا جائے تو جے آئی ٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں سربرا ہ نے وزیراعظم سے پیش ہونے کی گزارش کی ہے ناکہ حکم جاری کیاہے ۔جمہوری نظام کی اس سے بڑی بلوغت کی کیا نشانی ہوگی کہ منتخب وزیرا عظم آئین و قانون کی پاسداری کرتے ہوئے بذات خود ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یہ بذات خود ایک تاریخی قدم ہے کیونکہ جے آئی ٹی عدالت کا درجہ نہیں رکھتی بلکہ اس کی حیثیت ایک تحقیقاتی ٹیم کی ہے، جس کے روبرو پیش ہونے کے لئے منتخب وزیراعظم کسی نمائندے کو پیش کرنے کا آپشن بھی اختیار کرسکتے ہیں۔

4آمریتوں کے دوران عدلیہ اور میڈیاوہ آزادی حاصل نہ کرسکے جو جمہوری دور میں انہیں میسر ہونی چاہیے اور یہ بلا شبہ جمہوری نظا م کے تسلسل کا ثمر ہے۔ اس میں تنقید برائے سبق یا پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ محض خبروں میں جگہ بنانے کیلئے شرارت ہوگا۔وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ محمد نواز شریف پیشی کے دوران متعلقہ ریکارڈ بھی ہمراہ لے جائیں گے،اس سلسلے میں ان کی لیگل ٹیم سے بھی طویل دورانیے کی مشاورت ہوچکی ہے۔تمام تر پیش رفت کو دیکھتے ہوئے اگر غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو یہ بات بہر حال قابل ذکر ہے کہ منتخب وزیراعظم کا جے آئی ٹی میں خود پیش ہونا فخر کی بات ہے کیونکہ اپوزیشن جے آئی ٹی کے پیشی کے نوٹس کو ماضی میں سپریم کورٹ پر ہوئے حملے سے تعبیر کر رہی ہے جبکہ وزیراعظم کے اس فیصلے نے ماضی کی تلخ روایات کو بھی مٹا دیا ہے۔پانامہ کا فیصلہ جوبھی ہو لیکن اس ساری مشق سے اگر کسی کو بے پناہ فائدہ ہوا ہے تو وہ ہے جمہور اور جمہوریت، لیکن قبلہ قادری کی عین وقت آمد کئی روایتی سوالوں کو جنم دیتی ہے۔ موصوفکو ہمیشہ اسی وقت یاد کیا جاتا ہے جب پارہ 100ڈگری کے قریب پہنچ رہاہو۔

مزید : تجزیہ