طوفان بادوباراں سے ہلاکتیں20، زخمیوں کی تعداد 170سے تجاوز کر گئی

طوفان بادوباراں سے ہلاکتیں20، زخمیوں کی تعداد 170سے تجاوز کر گئی

لاہور، چیچہ وطنی ، ہارون آباد، قبولہ ، چشتیاں، ملتان،لودھراں،راجن پور( ڈسٹرکٹ رپورٹر، نمائندہ خصوصی، نامہ نگار، نمائندگان پاکستان، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ملک بھر بالخصوص پنجاب میں گزشتہ روز آنیوا لے طوفان بادو باراں سے ہونیوالی تباہی کے با عث ہلاکتوں کی تعداد20 اور زخمیوں کی تعداد170سے تجاوز کر گئی ، مرنے اور زخمی ہونیوا لو ں میں خواتین بچے بھی شامل ہیں ،طوفان بادوباراں سے سب سے زیادہ نقصان صوبہ پنجاب میں ہوا جس میں درجنوں مکانات زمین بوس ، چھتیں ، دیواریں منہدم ،درجنوں درخت ،بجلی کے پول ، سائن بورڈ اکھڑ گئے ۔ لاہور میں چھتیں ، دیواریں گرنے سے 3افراد جاں بحق اور 5زخمی ہوئے، چیچہ وطنی میں چھتیں ، دیواریں اور درخت گرنے سے 9 سالہ بچی،2 خواتین سمیت 4افرادجاں بحق اور 50 سے زائد افراد شدید زخمی ہو ئے ۔ بورے والا روڈ پر درجنوں درخت گرنے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم جبکہ کھمبے اور تاریں ٹوٹنے سے پورا علاقہ ساری رات بجلی سے محروم رہا ،کئی علاقوں میں ابھی تک بجلی کی سپلائی بحال نہیں ہو سکی۔ہارون آباد اور گردونواح میں بھی چھتیں ،شیڈ زاور دیواریں گرنے سے 3افراد جاں بحق ،درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ،رمضان بازار زمین بوس ،سینکڑوں درخت جڑوں سے اکھڑ گئے ،دکانوں کے سائن بورڈز اور چھپر اڑ گئے خانہ بدوشوں کی جھونپڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، نظا م زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ،نواحی گاؤں میں چھپر میں آگ لگنے سے پانچ بکریاں جھلس کر ہلاک ہو گئیں ،ادھرقبولہ میںآندھی وبارش سے مسجد کی چھت گر گئی جس سے امام مسجد اور 7سالہ بچی جاں بحق 5نمازی شدید زخمی ہوگئے ۔اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور زخمیوں کو قبولہ ہسپتال پہنچایا ۔چشتیاں میں نواحی کالونیوں میں مکان کی چھتیں اور پردے گرنے کے نتیجہ میں ایک بچی جاں بحق ، کئی خواتین اور مرد اور بچے زخمی ہو گئے درخت گرنے بجلی و ٹیلی فون کا نظام درہم برہم ہو گیا، بجلی کا نظام تاحال بحال نہ ہو سکا،فیصل آباد میں چھت گرنے سے خاتون دم توڑ گئی جبکہ اس کا شوہر زخمی ہو گیا۔رائیونڈ میں چھت ، بورے والا میں دیوار گرنے سے 2 انسانی زندگیاں لقمہ اجل بن گئیں ، چار افراد زخمی بھی ہوئے۔اٹھارہ ہزاری میں درخت گرنے سے ماں اور گیارہ سالہ بیٹا جا ں بحق ہو گئے جبکہ 4 سالہ بچہ زخمی ہو گیا۔ ملتا ن اور شجاع آباد میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق اور گھر اور مدرسے کی چھتیں گرنے سمیت دیگر حادثات میں19 افراد زخمی ہوئے ،لود ھراں میں کچے مکانوں کی چھتیں گرنے سے 7افراد زخمی ہوئے ، راجن پور میں بھی کرنٹ لگنے سے باپ اور اسکا 10سالہ بیٹا جاں بحق ہوگیا۔لیسکو میپکو ریجنز میں آندھی سے بجلی کے سیکڑوں پول گرگئے ۔ادھر سوات کے علاقے مالم جبہ میں آسمانی بجلی گر نے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ بارش پنجاب کے ضلع چکوال میں61 ملی میٹر، گجرا ت 11 ، مر ی8، منڈی بہاالدین4، سرگودھا3، منگلا2، ڈی جی خان، جہلم، سیالکوٹ 1خیبرپختونخواہ کاکول6، بالاکوٹ5، کوہاٹ، دیر2، کشمیر میں گڑھی دوپٹہ، کوٹلی7، راولاکوٹ4، گلگت بلتستان میں بگروٹ 4ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ ہفتہ کو ریکارڈ کیے گئے گرم ترین مقامات کے درجہ حرارت میں دادو46، لاڑکانہ، جیکب آباد، سبی، دالبندین، نوکندی، سکھر45 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

بارش نقصان

بہاولنگر(ڈسٹرکٹ رپورٹر) طوفان بادوباراں نے ضلع بھر میں تباہی مچا دی، متعددگھروں کی چھتیں گر گئیں ، تیز آندھی کے باعث اندرون شہر میں سات سے زائد اشتہاری بورڈ اُڑ گئے ، طوفان کے باعث مختلف حادثات میں 9افراد سے زائد جاں بحق جبکہ ضلع بھر میں ایک سو سے زائد افرادزخمی ہوئے ، بیس کی حالت تشویشناک بتائی جا تی ہے ، متعدد افراد کی ٹانگیں اور بازو ٹوٹ گئے ، ریسکیو کے مطابق ضلع بھر میں طوفان کے دوران آگ لگنے کے بارہ واقعات بتائے جا تے ہیں ، چھتیں اور دیواریں گرنے کے پندرہ سے زائد واقعات کی اطلاع ملتی ہے ، پانچ سو سے زائد دوکانوں کے شیڈ اور لکڑی سے بنے کیبنز کو بھی نقصان پہنچا۔ شدید طوفان کے نتیجہ میں واپڈا کے پندرہ پولز گر گئے ۔ اٹھارہ گھنٹے سے زائد بجلی معطل رہی ، انتظامیہ کی جانب سے تمام ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز نماز مغرب کے بعد آفت زدہ طوفان اور آندھی نے ضلع بھر میں متعدد مقامات پر گھروں کی چھتیں اور دیواریں اُڑا دیں ۔ سائن بورڈ اُڑ گئے ۔ متعدد مقامات پر آگ لگنے کے واقعات رونما ہوئے۔ ریسکیو کی ٹیمیں کم پڑ گئیں ۔ طوفانی آندھی کے باعث متعدد واقعات میں نو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ۔ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ۔ جن میں بیس کی حالت تشویش ناک بتائی جا تی ہے۔ ہسپتال میں انتظامیہ کی طرف سے ایمر جنسی نافذ کر دی گئی۔ ضلع بھر میں قیامت صغریٰ بر پا ہو گئی ۔ ماہ رمضان میں متعدد مقامات پر جنازے پڑھائے گئے ۔ ہر آنکھ اشک بار نظر آئی جبکہ ہسپتال میں مریضوں کیلئے جگہ کم پڑ گئی ۔ ضلع بھر میں آندھی نے تباہی مچا دی۔

مزید : صفحہ آخر