تارکین وطن پاکستانیوں کے مسائل اور مری والوں کا بائیکاٹ

تارکین وطن پاکستانیوں کے مسائل اور مری والوں کا بائیکاٹ
تارکین وطن پاکستانیوں کے مسائل اور مری والوں کا بائیکاٹ

  

تارکین پاکستانیوں کو پاکستان میں کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں سے کئی مسائل ایسے ہیں جو ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں۔ میرے پچھلے کالم پر ندیم مندیال صاحب نے ایک تحریر لکھی ہے جو مبنی بر حقیقت ہے وہ لکھتے ہیں کہ یورپ میں بسنے والے تارکین وطن اپنی تشہر کے لیے پاکستان سے سیاستدانوں اور ایلیٹ کلاس کے لوگوں کو دعوتیں دیتے ہیں، ان کی خاطر مدارت کرتے ہیں اور ان کے لئے بعض اوقات ایسے کام بھی کر جاتے ہیں، جو ان کی اپنی طبع کے خلاف ہوتے ہیں، ہمارے پردیسی ان دیسی انگریزی کلاس کے لوگوں کے لئے ہر طرح کی سہولت اور آسائشوں کا انتظام کرتے ہیں اور ان کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں۔

اس طرح اس ایلیٹ کلاس کا دماغ خراب ہوتا ہے اور وہ خود کو ناگزیر تصور کر لیتے ہیں اور بدلے میں یہ زیادہ سے زیادہ اپنے میزبانوں کے پاکستان آنے پر انہیں ایک بار کھانا کھلا کر ایک دو مزید تصاویر بنوا دیتے ہیں۔

دوسری طرف ہم تارکین وطن پاکستانی آپس میں ایک دوسرے کے حریف بن جاتے ہیں، آپس میں اتحاد پیدا کرنے، ایک دوسرے کی مدد کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے رہتے ہیں۔

اسی طرح پاکستان میں کوٹھیاں بنانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں (حالانکہ ان کوٹھیوں میں رہنا کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے) اور بعد میں ان تارکین وطن پاکستانیوں کی جائیدادوں پر دوسرے لوگ قبضے کرلیتے ہیں اور ان کی باقی زندگی یہ قبضے چھڑانے میں بیت جاتی ہے۔

تارکین وطن پاکستانیوں میں کتنے ہوں گے جو اپنے ان ممالک سے قانون کی پاسداری سیکھ کر اپنے آبائی وطن میں آکر بھی قانون کی پاسداری کرتے ہیں؟ کتنے لوگ ہیں، جنہوں نے ان ترقی یافتہ ممالک سے کچھ سیکھ کر اپنے آبائی علاقوں میں لوگوں کی تربیت کی کوشش کی ہے؟

ہم تارکین وطن پاکستانیوں نے دیار غیر میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے ونگ بنا رکھے ہیں اور ان کے عہدے لے کر خوشی سے پھولے نہیں سماتے ۔

کیاکبھی ان کی جماعتوں نے پاکستان میں بھی ان کو کوئی سرکاری عہدہ دیا ہے یا ان سے کبھی کوئی مشاورت کی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ہم کیوں ان جماعتوں کے نوکر بنے بیٹھے ہیں؟ پہلی تو بات یہ کہ سمندر پار پاکستانی جماعتیں بنانے کا مقصد کیا ہے؟کبھی کسی بھارتی لوگوں کی بھی کوئی سیاسی جماعت دیکھی یا سنی ہے؟ پھر ہم ہی کیوں ایسا کرتے ہیں؟ ان سیاسی جماعتوں کے لئے اپنی توانائیاں لگانے کی بجائے کیوں نہ ہم آپس میں اتحاد پیدا کریں اور پاکستان میں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کریں؟ جب تک ہم خود اپنے حقوق کے لئے آواز بلند نہیں کریں گے، اس وقت تک پاکستان میں کوئی بھی ہماری بات نہیں سنے گا۔ آج پاکستان کے ایک سیاسی اتحاد ایم ایم اے نے اپنے منشور میں تارکین وطن پاکستانیوں کے حقوق کی بات کی ہے اور ان کو ووٹ کا حق دلانے کا وعدہ کیا ہے، اب وہ کہاں تک وعدہ وفا کرتے ہیں، اس کے بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن امید کی جانی چاہیے کہ دوسری تمام جماعتیں بھی ان کی تقلید کریں گی۔

تاہم اس وقت جبکہ پاکستان میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام تارکین وطن پاکستانی اپنی اپنی جماعتوں کو خط لکھیں، ان سے رابطے کریں اور ان پر زور دیں کہ وہ اپنے جماعتی اور انتخابی منشورمیں تارکین وطن پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے اور ان کو پاکستان میں سیاسی کردار دینے کے حوالے سے اعلان کریں۔ جو جماعت تارکین وطن پاکستانیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولتوں کا اعلان کرے اس کے حق میں سیاسی مہم چلائی جانی چاہیے۔

میرے خیال میں اس وقت تارکین وطن پاکستانیوں کی سب سے زیادہ حمایت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہے تو عمران خان پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تارکین وطن پاکستانیوں کے لئے کسی پیکج کا اعلان کریں اور حکومت میں آکر اس پر عملدرآمد بھی کریں۔ میں تمام تارکین وطن پاکستانیوں سے درخواست کروں گا کہ وہ اس چیلنج کو قبول کریں اور اپنی بات منوانے کے لیے ڈٹ جائیں۔

آپ سب جانتے ہیں کہ پچھلے دنوں مری کے لوگوں کی طرف سے سیاحوں سے ناروا سلوک کی خبروں کے بعد سیاحوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے مری والوں کا بائیکاٹ کرنے کی کامیاب مہم چلائی اور مری کی بجائے آزادکشمیر کا رخ کیا، جس سے مری والوں کی گردن سے سریا نکل گیا ہے۔

اسی طرح اگر تارکین وطن پاکستانی بھی ایکا کر لیں اور ایسے تمام سیاستدانوں اور جماعتوں کا بائیکاٹ کریں جو ہمارے مسائل کے لئے کام نہیں کرتے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ یورپ کے بیشتر ممالک اپنے ہاں غیر ملکیوں کو جو قانونی طور پر وہاں کی رہائش کاحق لے چکے ہیں، بلدیاتی اداروں میں ووٹ کا حق بھی دیتے ہیں اور انتخابات میں حصہ لینے کا بھی، بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے شہریت کی کوئی پابندی نہیں ہے، جبکہ پاکستان میں تارکین وطن کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔

تارکین وطن پاکستانیوں کی اگر پاکستان میں کوئی جائیداد یا رہائش ہے تو وہ اپنے ان ممالک میں بھی اس پر ٹیکس دیتے ہیں اور پاکستان میں بھی ان سے ٹیکس۔ لیا جاتا ہے۔

اسی طرح اگر ہم اپنے بینک کارڈ سے کسی اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکلواتے ہیں تو اس پر پانچ سو روپے ٹیکس کٹ جاتا ہے اور ایک بار بیس ہزار سے زیادہ نہیں نکلوا سکتے۔

اس کا مطلب یہ کہ اگر ہم ایک لاکھ نکلوانا چاہیں تو اس پر دو ہزار پانچ سو روپے دینا پڑیں گے، جو سرا سر ظلم اور ناانصافی ہے۔ ایئرپورٹوں پر اپنے مسائل ہیں اور بعض اوقات مسافروں کو بلا وجہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں نے ذاتی طور پر کئی بار مختلف سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی یہ مسائل حل کرنے کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے، لیکن جب تک ہم ایک اپنا موثر فورم تشکیل نہیں دیں گے اور مل کر آواز بلند نہیں کریں گے۔

اس وقت تک ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوگی۔ اب بہترین موقع ہے ایک تو پاکستان میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور دوسرا چودہ اگست قریب ہے اور پورے یورپ میں چودہ اگست کے حوالے سے تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں پاکستان کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو دعوتیں دی جاتی ہیں۔

بالخصوص تمام جماعتوں کے سیاستدان ان تقریبات میں مدعو ہوتے ہیں تو اس بار اعلان کیا جانا چاہیے کہ اگر ہمارے مسائل حل نہ ہوئے تو ہم آپ کا بائیکاٹ کریں گے۔

یاد رہے کہ ہم تارکین وطن پاکستانی پاکستان میں جہاں سالانہ بیس ارب ڈالر کی ترسیل زر کرتے ہیں وہیں ہر سال اربوں روپے کی پاکستان سے خریداری بھی کرتے ہیں آپ پاکستان کی جس بھی بڑی مارکیٹ میں جائیں آپ کو بہت بڑی تعداد میں اوورسیز پاکستانی نظر آئیں گے۔ میں امید کرتا ہوں کہ تارکین وطن اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کا آغاز کریں گے۔

مزید : رائے /کالم