A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

تحریکِ رحمت کے خواجہ محمد اسلم

تحریکِ رحمت کے خواجہ محمد اسلم

Jun 12, 2018

ناصربشیر

چند روز قبل برادرِ محترم منشا قاضی صاحب کی وساطت سے ایک نہایت حیران کن شخصیت سے ملنے کا اتفاق ہوا جن سے ملاقات کے بعد فیصل آباد کے ایک غریب آدمی کی کہی ہوئی یہ بات مجھے غلط لگنے لگی کہ جن کے پاس مِل ہوتی ہے ان کے پاس دِل نہیں ہوتا اور جن کے پاس دِل ہوتا ہے ان کے پاس مِل نہیں ہوتی۔

آج سے 90 سال پہلے امرتسر میں پیدا ہونے والے خواجہ محمد اسلم نے زندگی زیرو سے شروع کی اور آج اُن کے بیٹے اور پوتے بھی بہت سی فیکٹریوں کے مالک ہیں، لیکن صد شکر کہ خواجہ محمد اسلم سمیت ان کے تمام اہل خانہ کے سینوں میں وہ دِل دھڑک رہے ہیں ،جن میں خالق اور مخلوق کی محبت بھری ہوئی ہے۔

خواجہ محمد اسلم تحریکِ رحمت کے بانی اور سربراہ ہیں۔ یہ تحریک در اصل تحریک محبتِ قرآن ہے۔ خواجہ صاحب بجا طور پر انسانی زندگی کو قرآنِ پاک کے آئینے میں دیکھتے ہیں، قرآن کے احکامات پر عمل کرتے ہیں، لوگوں کو قرآنی احکامات پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اپنے جیسے سارے انسانوں کو مساوات اور انصاف کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

خواجہ صاحب جن دِنوں مشینوں کی ٹھکا ٹھک اور دھکا دھک میں گم تھے، انھی دِنوں اُن کی ملاقات جمالیات پر بہت دقیع اور اہم کام کرنے والے اُستاد ڈاکٹر نصیر احمد ناصر سے ہوئی۔ سولہ برس تک ان کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کئے بیٹھے رہے۔

اُن سے قرآن پاک یوں پڑھا جس طرح پڑھنا چاہئے، یعنی معانی اور مفاہیم کی گہرائیوں میں اُترے اور یوں اُترے کہ اب ہر وقت ایک عالمِ حیرت میں گم رہتے ہیں۔ دوسروں کو بھی اس عالمِ حیرت سے روشناس کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قرآن حکیم کی روشنی میں اپنے اندر کا انسان تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی کتاب ’’اندر کا انسان‘‘ دِلوں کو بدل کر رکھ دینے والی کتاب ہے۔

اِس کتاب کا انتساب انہوں نے اپنے اُستادِ محترم ڈاکٹر نصیر احمد ناصر کے نام کیا ہے، جنھوں نے انھیں قرآن حکیم کے علوم و فنون، قوانین و احکام اسرار و رموز اور معارف و اعجازات سمجھائے اور ان کو تفکر بالحق کرنا سکھایا۔ خواجہ صاحب اللہ تعالیٰ کو احسن الخالقین سمجھتے ہیں جس نے کائنات کی ہر چیز اور مخلوق کو مکمل حسن عطا کر کے تخلیق کیا۔

خواجہ صاحب کی ایک اور کتاب ’’نسخۂ کیمیا‘‘ بھی ان کی پہچان بنی۔اس کتاب میں شامل مضامین کی فہرست پڑھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انھوں نے قرآن پاک کو کتنی گہرائی سے پڑھا اور سمجھا ہے۔ چند عنوانات ملاحظہ کیجئے:

*۔۔۔ ’’انسانی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت‘‘

*۔۔۔ ’’ قرآن حکیم اور ہماری زندگی‘‘

۔۔۔’’ اسلامی معاشرہ‘‘ *۔۔۔’’ نظام اسلام‘‘ ۔۔۔’’ اسلامی اقتصادیات‘‘ ۔۔۔’’ اسلام کا سیاسی نظام‘‘ ۔۔۔’’ اسلام کا زرعی نظام‘‘ ۔۔۔’’ سود اور معاشرے پر اس کے تباہ کن اثرات‘‘ ۔۔۔’’قرآنِ حکیم کا نصابِ تعلیم و تربیت ‘‘ ۔۔۔’’ قرآن حکیم کا فلسفہ العفو‘‘ ۔۔۔’’ اسلامی معیشت میں غربت کا خاتمہ‘‘ ۔۔۔’’ قرآن حکیم اور فرقہ پرستی‘‘۔۔۔’’ نظامِ اسلام میں محنت کش کا مقام‘‘ ۔۔۔’’ اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام‘‘

مَیں سمجھتا ہوں کہ خواجہ صاحب آج پیرانہ سالی کے باوجود بھٹکے ہوئے انسانوں کی رہنمائی کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ اپنے اُستادِ محترم ڈاکٹر نصیر احمد ناصر سے خواجہ صاحب اتنے متاثر ہیں کہ ہر بات، جمالیات سے شروع کرتے ہیں اور احسن الخالقین پر ختم کرتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے اپنے استاد محترم کا ایک واقعہ سنایا جو مَیں نے کبھی کسی کتاب میں نہیں پڑھا۔

کہتے ہیں: ’’ ڈاکٹر نصیر احمد ناصر اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ یونیورسٹی کے تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں کے لئے 10 کروڑ روپے منظور ہوئے تو ٹھیکیداران کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس میں سے دس فیصد رقم آپ کی ہے اور اگر آپ چاہیں گے تو آپ کا حصہ بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ بس آپ حکم کیجئے کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟‘‘ ڈاکٹر نصیر احمد ناصر نے صورتِ حال کو بھانپ لیا۔

استعفا دیا اور لاہور آ گئے۔

یہی وہ دن تھے جب ڈاکٹر صاحب، خواجہ اسلم صاحب کو میسر آئے۔ دونوں کا تعلق بنا اور ایسا بنا کہ خواجہ صاحب، آج بھی ہر وقت ان کے نام کی تسبیح کرتے نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر نصیر احمد ناصر کے بارے میں خواجہ صاحب نے بتایا کہ وہ پاکستان کیا، برصغیر کے پہلے اور اکیلے آدمی ہیں جنھوں نے جمالیات میں پی ایچ ڈی سے آگے کی ڈگری ڈی لٹ حاصل کی۔

سادگی کا یہ عالم تھا کہ جب جرمنی سے کچھ پروفیسر حضرات ان کی علمی شہرت سُن کر اُن کے پاس آئے تو وہ بنیان پہن کر پیڈسٹل فین کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔جرمن پروفیسروں نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ جرمنی چلیے۔

درس و تدریس اور تخلیق و تخلیق کا کام کیجیے،لیکن ڈاکٹر صاحب نے جرمنی کے آرام و آسائش پر اپنے بنیان اور پیڈسٹل فین کو ترجیح دی۔خواجہ محمد اسلم کہتے ہیں کہ اگر ان کے استادِ گرامی جرمنی چلے جاتے تو شاید وہ تحریک رحمت کا آغاز ہی نہ کر پاتے۔

خواجہ محمد اسلم کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کاروبار کرنے والا کبھی گھاٹے میں نہیں رہتا۔ وہ ہر پھل کے اندر چند بیج رکھ دیتا ہے اور ہر بیج میں سینکڑوں نہیں ہزاروں پھل رکھ دیتا ہے۔ یہی اللہ کا منافع ہے۔ ان کی یہ بات سُن کر مجھے اپنی حمد کا ایک شعر یاد آ گیا:

خدا کے ساتھ کرو نیکیوں کا کاروبار

خدا ہمیشہ منافع زیادہ دیتا ہے

خواجہ صاحب کہتے ہیں کہ اگر ہر انسان یہ سوچے کہ وہ دُنیا میں کیوں آیا ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اسے بالآخر کہاں جانا ہے؟ تو اُس کے دل میں قرآن حکیم کی محبت مزید بڑھ جائے گی۔

اسے قرآنی مفاہیم کی تہہ تک پہنچنے میں آسانی ہو گی۔ خواجہ صاحب اس بات پر بھی فخرکرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں انڈسٹریلائزیشن کے بانی ہیں۔لوگوں نے ان سے مشورہ کرنے کے بعد قیام پاکستان کے بعد بہت سی فیکٹریاں لگائیں،لیکن مَیں سمجھتا ہوں کہ انھیں اس بات پر کبھی کبھی ضرور افسوس ہوتا ہو گا کہ جن لوگوں نے ان سے مشورے کے بعد بہت سی فیکٹریاں لگائیں،انھوں نے ان کی طرح مزدور کے خون اور پسینے کو اہمیت نہیں دی۔انھوں نے انسان کے بجائے روپے اور دولت سے محبت کی۔ خواجہ صاحب اگر انھیں اپنا لکھا ہُوا مضمون ’’نظامِ اسلام میں مزدور کا مقام‘‘ بھی پڑھنے کے لیے دے دیا کرتے تو شاید ہمارا مزدور اتنا بدحال نہ ہوتا، جتنا آج دکھائی دیتا ہے۔

مزیدخبریں