نیشنل ہائی وے اتھارٹی کرپٹ ادارہ ،افسروں سے بدعنوانی کا پیشہ نکلوائیں گے ،سپریم کورٹ

  نیشنل ہائی وے اتھارٹی کرپٹ ادارہ ،افسروں سے بدعنوانی کا پیشہ نکلوائیں گے ...

  

اسلام آباد (آئی این پی ) سپریم کورٹ نے چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے )اور میئر اسلام آباد پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ا فسوس سے کہنا پڑ رہا ہے وفاقی دارالحکومت تباہ حال شہر ہے،اسلام آباد میں میٹرو بس سائیڈ پر چلانے سے اربوں کی بچت ہوسکتی تھی۔ (بقیہ نمبر43صفحہ7پر )

سپریم کورٹ میں اسلام آباد تجاوزات کیس کی سماعت ہوئی تو عدالت نے چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)اور میئر اسلام آباد پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔سپریم کورٹ نے ہائی ویز اور موٹر ویز پر ہر حادثے کا ذمہ دار چیئرمین این ایچ اے کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ حادثات کے دوران ہر جانی و مالی نقصان کے ذمہ دار چیئرمین این ایچ اے ہیں، ان کے خلاف کارروائی سے پہلے چیئرمین این ایچ اے کو غلطی سدھارنے کا موقع دیتے ہیں۔قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ این ایچ اے بہت کرپٹ ادارہ ہے، این ایچ اے افسران کی ناک سے کرپشن کا پیسہ نکلوائیں گے، افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اسلام آباد تباہ حال شہر ہے۔جسٹس گلزار احمد نے میٹرو بس منصوبے پر بھی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سڑک کے درمیان میں بس چلا کرکونسا تیرمارا ہے؟، بس سائیڈ پر بھی چلاتے تواربوں روپے کی بچت ہو سکتی تھی۔دوران سماعت انکشاف ہوا کہ صفا گولڈ مال کو ہسپتال کی زمین پر بنایا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے ایک ماہ میں صفا گولڈ مال کی زمین اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے شفا انٹرنیشنل کی جانب سے قائم تجاوزات کا جائزہ لے کر انہیں مسمار کرنے، سنٹوریس مال کی سرکاری زمین پر قائم پارکنگ واگزار کرانے اور اسلام آباد میں گرین بیلٹس کو توسیع دینے کا حکم دیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد، میونسپل کارپوریشن، سی ڈی اے اور این ایچ اے کے سربراہان کو طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -