سنٹرل جیل ملتان ‘ سپرنٹنڈنٹ کا ناروا سلوک ‘ ڈپٹی نوید انجم مستعفی

سنٹرل جیل ملتان ‘ سپرنٹنڈنٹ کا ناروا سلوک ‘ ڈپٹی نوید انجم مستعفی

  

ملتان( وقائع نگار ) سنٹرل جیل ملتان میں جونئیر افسر کی تیعیناتی عملے اور قیدیوں کے لیے وبال جان بن گئی۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل نے سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل جام آصف کے رویے اور من مانیوں سے دلبرداشتہ ہوکر نوکری سے استعفی دے دیا۔معمولی غلطی پر سرکاری ڈرائیور کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ڈرائیور نے آئی جی جیل خانہ جات کو انصاف کے لیے درخواست دے دی۔تفصیل کے مطابق سنٹرل جیل ملتان میں سینئیر سپرنٹنڈنٹ محسن رفیق کی تبدیلی اور جونئیر(بقیہ نمبر18صفحہ12پر )

 ایس پی جام آصف کی تعیناتی کے بعد تو جیسے خوف کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔مبینہ طور پرسیاسی سفارش پر تعینات ہونے والا سپرنٹنںڈنٹ جام آصف ماضی میں بھی اپنی حرکتوں کی وجہ سے معطل رہ چکا ہے۔ سنٹرل جیل میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نوید انجم نے مبینہ طور پر جام آصف کے رویے سے تنگ آکر استعفی دے دیا ہے۔اس بارے ذرائع کا کہنا ہے کہ جام آصف نے اپنی تعیناتی کے بعد نوید انجم کا جینا محال کردیا۔جس پر وہ شدید ڈپریشن میں تھا۔جام آصف کے ہتک آمیز رویے اور گالم گلوچ سے دلبرداشتہ ہوکر نوجوان افسر نوید انجم نے  اپنی نوکری سے استعفی دے دیا۔نوید انجم پبلک سروس کمیشن کے ذریعے تین سال قبل۔ہی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بھرتی ہوا تھا۔استعفے کی کاپی ڈی آئی جی جیل خانہ جات ملتان،آئی جیل خانہ جات اور ہوم دیپارٹمنٹ کو بھجوادی گئی۔دوسری جانب تشدد کا نشانہ بننے والے ڈرائیور حسنین مصطفی نے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو دی گئی درخواست میں واضح لکھا ہے کہ جام آصف ماضی میں بھی قیدیوں کا راشن غلہ منڈی میں بیچتے ہوئے پکڑا گیا تھا جس پر وہ ایک سال معطل رہا جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ جیل میں حراسمنٹ کے معاملے پر ڈیرھ سال معطل رہا۔۔اسی طرح جب جام آصف سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ڈیرہ غازی خان تعینات تھا اس نے چیف وارڈر ممریز جس کی عمر 57 سال تھی اسے معمولی سی بات پر اس بزرگ کے گلے میں 8 فٹ کا پائپ ڈال کر پوری جیل یونیفارم کے ساتھ قیدیوں کے سامنے توہین کرتا رہا۔اس وقت بھی اس کے خلاف کچھ نہ کیا جاسکا۔درخواست میں جیل ڈرائیور حسنین مصطفی نے مزید انکشاف کیا کہ جام آصف نے مختلف رشتہ داروں کے گھر جیل ملازمین بھیجے ہوئے ہیں جن کے نام مظفر ،مجاہد،جمیل گھلو،اعجاز بھٹہ ،شہباز الرحمان ,محمد صادق اور ساجد اسلم ہیں۔ڈرائیور حسنین مصطفی نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ سنٹرل جیل میں۔گریڈ 19 کا افسر تعینات ہوسکتا ہے تاہم یہ سینئر سپرنٹنڈنٹ نہ ہوتے ہوئے بھی حکومتی جماعت  کے عہدیدار عون عباس بپی کی سفارش پر سنٹرل جیل میں تعینات ہے۔اگر نیب اس کے اثاثوں۔کی چھان بین کرے تو بڑی کامیابی حاصل ہوگی۔ڈی آئی جی جیل خانہ جات  ملتان ملک شولت فیروز نے درخواست پر معاملے بارے جام آصف سے جواب طلب کرلیا ہے۔جبکہ دوسری جانب اس بارے میں جب سنٹرل جیل ملتان کے سپرنٹیڈنٹ جام آصف سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا۔یہ بھیجی گئی درخواست جعلی ہے۔اور لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -