ڈیفالٹ کا خطرہ اور مشکل فیصلے؟

ڈیفالٹ کا خطرہ اور مشکل فیصلے؟

وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے، مہنگائی برداشت کرنا ہو گی، حالات کو مستقل بنیادوں پر درست کرنے کے لئے چھ ماہ سے ڈیڑھ سال کا عرصہ لگے گا، اس کے بعد بہتری آئے گی، ماضی میں حکومتی اخراجات روکنے کی کوشش نہیں کی گئی، جب بجٹ خسارہ2.3 ٹریلین روپے ہو گا اور آمدنی سے زیادہ اخراجات کریں گے تو اس کے اثرات ہوں گے اور اخراجات پورے کرنے کے لئے قرضہ لینا پڑے گا، ماضی کی حکومتوں نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسایا، موجودہ حکومت نے اپنے دور میں اب تک مجموعی طور پر2854 ارب روپے قرضہ لیا جن میں 1221ارب روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہوا اور1603ارب روپے کے خالص قرضے لئے، ملک پر بیرونی قرضہ100ارب ڈالر ہے اور جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو ملک پر مجموعی طور پر31ہزار ارب روپے کا قرضہ تھا، اگلے سال صرف سود کی مد میں ادائیگیوں پر تین ہزار ارب روپے خرچ ہوں گے، پچھلے دس سال میں ڈالر کمانے کی صلاحیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، پانچ سال میں ایکسپورٹ کی گروتھ زیرو فیصد رہی، اس وجہ سے روپے پر دباؤ ہے۔ گزشتہ دو سال میں سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 18ارب ڈالر سے کم ہو کر9ارب ڈالر ہو گئے، تجارتی خسارہ32ارب ڈالر تھا، میرا مقصد بلیم گیم نہیں، کافی عرصے سے حقیقی مسائل پر توجہ نہیں دی گئی، آگے بڑھنے کے لئے اپنی اشیا دوسرے ممالک کو فروخت کرنا ضروری ہے۔ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے امیر لوگ ٹیکس نہیں دینا چاہتے اگر ٹیکس جمع نہ کئے گئے تو اخراجات پورے نہیں ہو سکیں گے، ایک دو دِنوں میں بڑے فیصلے سامنے آئیں گے، وہ قومی اقتصادی سروے 2018-19کی رونمائی کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے،جس کی خاص بات یہ ہے کہ کوئی بھی اقتصادی اہداف حاصل نہیں ہو سکے، جی ڈی پی کی شرح ہدف6.2 فیصد سے کم ہو کر3.29 فیصد رہ گئی اور صنعتی و زرعی پیداوار بھی ہدف سے بہت کم رہی۔

حکومت نے اثاثے ڈکلیئر کرنے کی ایک سکیم بھی جاری کی ہے، جس کے تحت 30جون تک اثاثے ڈکلیئر کرنا ضروری ہے، جس کے بعد قانونی کارروائی شروع ہو جائے گی۔ گزشتہ روز وزیراعظم نے ایک ریکارڈڈ پیغام میں بے نامی اثاثے رکھنے والوں کو آخری وارننگ دی کہ وہ اس سکیم سے فائدہ اٹھا لیں ورنہ اداروں نے سب تفصیلات جمع کر لی ہیں اور مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد موقع نہیں ملے گا۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ عوام ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا کر ملک کو پاؤں پر کھڑا کرنے کا موقع فراہم کریں، عظیم قوم بننے کے لئے خود کو بدلنا ہو گا، اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے پاس وہ معلومات ہیں،جو پہلے کسی حکومت کے پاس نہیں تھیں، قوم وزیراعظم کے اِس اعلان کے بعد کس طرح کا ردعمل ظاہر کرتی ہے یہ تو مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد ہی پتہ چلے گا، اور اگر حسب ِ توقع اس سکیم کا نتیجہ نہیں نکلتا تو حکومتی اقدامات کا پتہ بھی اسی وقت چلے گا، لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے اس سکیم کے جواب میں وہ مثبت طرزِ عمل سامنے نہیں آرہا،جس کی حکومت امید کر رہی تھی اور ایک اطلاع کے مطابق اب تک سکیم سے فائدہ اٹھانے والے بھی سامنے نہیں آئے،اُدھر وزیراعظم کے ایک اور معاون یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی حاصل کر لی ہیں۔اگر ایسا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے۔ اگر حکومت کو اپنے اقدامات پر یقین ہے تو امید کرنی چاہئے کہ مقررہ مدت کے بعد ادارے حرکت میں آ جائیں گے،لیکن ایک خدشہ ہے کہیں اس اعلان کا حشر بھی اُن200 ارب ڈالر جیسا نہ ہو، جن کے بارے میں حکومت میں آنے سے پہلے ہی اعلان کیا جا رہا تھا کہ اقتدار سنبھالتے ہی یہ رقم تو پہلے ہفتے ہی میں واپس لائی جائے گی، جو کرپشن کر کے بیرون ملک بھیجی گئی ہے،لیکن حکومت کے دس ماہ گزرنے کے باوجود ان میں سے ایک سینٹ بھی واپس نہیں آیا اور ان وزیرانِ باتدبیرنے جو اس سلسلے میں بہت پُرامید تھے پہلے دبے دبے الفاظ میں اور پھر کھل کر تسلیم کیا کہ یہ رقم واپس لانا بہت مشکل ہے، اب تو کوئی اس کا تذکرہ بھی نہیں کرتا،بلکہ یہ حکومت کی چڑ بن چکی ہے اور اگر کوئی اس سلسلے میں بے ضرر سی یاد دہانی بھی کرا دے تو جواب میں حکومتی ترجمان صلوٰتیں سنانے لگتے ہیں۔

اس وقت جب یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں حکومت قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے، اس بجٹ میں کون کون سے مشکل فیصلے کئے گئے ہیں اُن پر اظہارِ خیال تو کل انہی کالموں میں ہو گا، کیونکہ اس وقت اعداد و شمار سامنے نہیں ہیں،لیکن اتنا تو واضح ہے اس بجٹ میں بھاری ٹیکسوں کی صورت میں بڑے فیصلے ہوں گے، جس کی نوید حفیظ شیخ صاحب نے اپنی پریس کانفرنس میں سُنا دی ہے۔انہوں نے گزشتہ دس سال میں برسر اقتدار رہنے والی جماعتوں کی پالیسیوں کو بھی ہدفِ تنقید بنایا، ان دس برسوں میں وہ خود بھی وزیر خزانہ رہے،معلوم نہیں انہوں اس عرصے میں ان پالیسیوں کی اصلاح کی کوئی کوشش کی یا نہیں، جن پر اس وقت اُن کی حکومت عمل پیرا تھی، اور اگر اُن دِنوں ملک پر بھاری قرضے چڑھ رہے تھے تو انہوں نے کم کرنے کے بھی کوئی پالیسی بنائی یا نہیں،البتہ اتنا معلوم ہے کہ اس وقت تحریک انصاف اُن کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید،بلکہ ملامت بناتی تھی آج انہی پالیسیوں کی تعریف کی جاتی ہے، وقت وقت کی بات ہے۔

حفیظ شیخ صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ بڑے فیصلے نہ کئے گئے تو ڈیفالٹ کا خطرہ ہے دیکھنا ہو گا کہ وہ کون سے بڑے فیصلے کر رہے ہیں جو کچھ تو بجٹ تقریر میں سامنے آ جائیں گے اور باقی تفصیلات بعد میں آتی رہتی ہیں،لیکن یہ تو خود انہوں نے بھی بتا دیا ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے ان مہینوں میں کتنے قرضے لئے اور کتنا قرضہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بڑھ گیا۔ایسی صورت میں جب بیرونی قرضوں کا بوجھ 100ارب ڈالر ہو گیا ہے اور آدھے سے زیادہ بجٹ محض قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے۔ فلاحی اور ترقیاتی کاموں کے لئے کیا بچتا ہے اور کیا نہیں یہ تو سب بجٹ ہی سے واضح ہے،لیکن محض3.29 فیصد کی شرح ترقی سے نہ تو بیروزگاری کم ہو سکتی ہے اور نہ ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، جس کے لئے ماہرین کے مطابق شرح نمو سات فیصد سے اوپر ہونی چاہئے، کیا آئندہ پانچ سال تک بھی اس شرح کا خواب دیکھا جا سکتا ہے؟ نئے بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5550ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں سے تین ہزار ارب قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے۔ وصولیوں کا ہدف حاصل ہوگا یا نہیں یہ بھی کہنا مشکل ہے لیکن ان اعداد و شمار سے اتنا تو پتہ چلتا ہے کہ ہماری اپنی آمدنی کتنی ہے اور قرضوں پر انحصار کتنا زیادہ ہے، جن کے بغیر چارہ نہیں۔ ایسے میں قرضوں سے نجات کی راہ کیسے ڈھونڈی جائے گی، اس کا جواب حفیظ شیخ کے ذمے ہے۔

مزید : رائے /اداریہ