آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز شریف کی گرفتاریاں

آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز شریف کی گرفتاریاں

عدالتوں سے ضمانتوں کی منسوخی کے بعد آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز شریف یکے بعد دیگرے گرفتار ہوگئے ہیں۔ دونوں گرفتاریاں نہ صرف کافی عرصے سے متوقع تھیں بلکہ بعض وزیر اس سلسلے میں یوں پیش گویاں کر رہے تھے جیسے گرفتاریوں کے فیصلے تو ہو چکے ہوں، بس مناسب وقت کا انتظار ہو، چونکہ دونوں رہنما عدالتوں کے عبوری احکامات کی بناپر ضمانت پر تھے اس لئے جونہی یہ حکم منسوخ ہوئے گرفتاری کی نوبت آگئی۔ اب دوران حراست تفتیش ہوگی اور پھر نیب فیصلہ کرے گا کہ کس کے خلاف کتنے ریفرنس دائر کرنے ہیں اور کب کرنے ہیں، یہ عدالتی پراسیس چلتا رہے گا۔ اگرچہ دونوں گرفتاریاں عدالتی احکامات کی روشنی میں ہوئی ہیں، تاہم ان کے اچھے برے سیاسی اثرات بہرحال مرتب ہوں گے۔ آصف علی زرداری مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور ان کا عمومی طرز عمل بھی مفاہمانہ ہوتا ہے، ان کی جماعت اگرچہ حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کر چکی ہے اور اس کی تیاریاں بھی کر رہی ہے۔ اس لئے ان کی گرفتاری کا براہ راست اثر اس تحریک پر بھی پڑے گا۔ ان کی جیل میں موجودگی کتنے عرصے کے لئے ہے اور کیا انہیں عدالتوں سے ریلیف جلد ملتا ہے یا بدیر، اس کے علی الرغم اب پیپلز پارٹی کی سیاست کی تمام تر ذمہ داری چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نبھائیں گے جو سیاست میں زیادہ جارحانہ رویہ رکھتے ہیں۔ پہلی دفعہ انہیں اپنے والد کی غیر حاضری میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو سامنے لانے کا موقع بھی ملے گا، اس سے پہلے کہا جاتا تھا کہ جونہی بلاول بھٹو زرداری چند قدم جوش و جذبے سے آگے بڑھاتے ہیں ان کے والد انہیں روک دیتے ہیں اور آہستہ روی کا مشورہ دیتے ہیں۔ اب شاید وہ تیز رفتاری سے آگے بڑھیں، گرفتاری جن الزامات میں ہوئی وہ درست ہیں یا غلط، ان کا فیصلہ ابھی تک کسی عدالت نے نہیں کیا۔ جن الزامات کا چرچا ہے بظاہر ان میں رنگ آمیزی کا عنصر بھی ہے، کیونکہ اس سے پہلے دیکھا گیا ہے کہ نیب نے جن ملزموں پر اربوں ڈالر کی کرپشن کا الزام دھرا وہ سکڑ تے سکڑتے کروڑ دو کروڑ تک محدود ہوگئے۔ کیا پتہ ان الزامات کے اندرسے بھی ایسا کچھ ہی برآمد ہو، ان امور کو بہرحال عدالتوں پر چھوڑ دینا چاہئے۔حمزہ شہباز شریف کے والد شہباز شریف لندن میں ڈیڑھ ماہ کے قیام کے بعد واپس آئے ہیں جن کے بارے میں مشہور کر دیا گیا تھا کہ وہ اب نہیں آئیں گے۔ ان کی سیاست پر بھی مفاہمت کا رنگ غالب رہتا ہے۔ حمزہ شہباز بھی لامحالہ انہی کے نقش قدم پر چلنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اب سیاسی منظر یہ بن گیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت جواں سال رہنماؤں کے سپرد ہو گئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کا طرز سیاست اب کیا رنگ دکھاتا ہے اس کا اندازہ اس تحریک سے ہوگا جو اب اے پی سی کے بعد چلے گی۔ اے پی سی کا انعقاد اسی ماہ ہوگا، دونوں گرفتاریاں اپنے سیاسی اثرات مرتب کریں گی اور دونوں اس تحریک کو بھی متاثر کریں گی جو اپوزیشن چلانا چاہتی ہے، لیکن حکومت کو خوش فہمی ہے کہ ایسی تحریک نہیں چل پائے گی، تحریک چلتی ہے یا نہیں، آئندہ چند ہفتوں میں اس کا اندازہ ہو جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ