تناؤ خطرناک ہو گا

تناؤ خطرناک ہو گا
تناؤ خطرناک ہو گا

  

اور اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میڈیا میں آ گئے ہیں،اُن کے خطوط کے مندرجات اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں جو انہوں نے صدر عارف علوی کے نام لکھے ہیں،اس خط کے مندرجات دہرانے کی ضرورت نہیں کہ یہ عام ہو چکے ہیں، لیکن ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ اب جج قاضی فائز عیسیٰ کا معاملہ انتظامی اور احتسابی نہیں، بلکہ سیاسی بن چکا ہے۔ مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی معاملے میں فریق بننے کا اعلان کر دیا ہے۔

پاکستان کی تمام عدالتوں میں ایک روز کی ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی، جن کا تعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے صوبہ بلوچستان سے ہے۔ اس معاملے پر تحریک چلانے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔دوسری طرف حکومت نواز عناصر پاکستان اور پاکستان سے باہر بیٹھ کر ایک سازشی تھیوری پیش کر رہے ہیں، جس کے مطابق ملک میں عمران خان کی حکومت کو ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے اور اس کی وجہ بھارت اور امریکہ کا گٹھ جوڑ ہے،جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے،اس سازشی ٹولے کا اصل نشانہ پاکستان کی مسلح افواج ہیں۔امان اللہ کنرانی کا کہنا ہے کہ ابھی تک بلوچستان کے ایک سیاسی رہنما اور بلوچستان کے سابق گورنر اکبر بگٹی کی موت کے اثرات ملک میں موجود ہیں، ان حالات میں بلوچستان کی ایک اور اہم شخصیت کے ساتھ اس طرح کا رویہ فائدہ مند نہیں ہو گا۔

سیاسی جماعتوں نے بھی خاص طور پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے اس حوالے سے حکومت کے روّیے کی مذمت کی ہے۔ وزیراعظم پاکستان کا نقطہ نظر اُن کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات نے ایک پریس کانفرنس میں ظاہر کر دیا ہے اور ایک جملے میں سمیٹ دیا گیا ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔ فردوس عاشق اعوان کے اس بیان کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ حکومت ریفرنس کے حوالے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے اور صورتِ حال بھی یہ ہے کہ صدرِ مملکت کے ریفرنس بھیجنے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کے لئے یہ آئینی اور قانونی فرض ہے کہ وہ ریفرنس پر غور کرے، اگر سپریم جوڈیشل کونسل نے ریفرنس کی باقاعدہ سماعت کا اعلان کر دیا تو ملک میں وکلا کی تحریک کا آغاز ہو جائے گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے دوسرے خط میں یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان اپنی بیوی اور بچوں کی آمدنی کو اپنے ٹیکس گوشوارے میں شامل کرتے ہیں۔ گویا انہوں نے خود عمران خان پر بھی سوال اُٹھا دیا ہے۔ اس کے معنی بہت واضح ہیں کہ اب عدالت عظمیٰ کے ایک جج اور وزیراعظم آمنے سامنے ہیں۔جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس کی مثال کسی فرضی شخصیت سے بھی دے سکتے تھے۔یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ کیا کسی ایک شخص کے ٹیکس گوشواروں میں ان کی بیوی اور بالغ افراد کی کمائی بھی دکھانی ضروری ہوتی ہے، لیکن انہوں نے اپنے دلائل میں وزیراعظم کے ذکر کو ترجیح دی، اب وکلاء اور سیاست دانوں کے لئے یہ مثال ہی ذکر کے لئے اولیت اختیار کرے گی۔

جناب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حوالے سے اب بلوچستان کے معاملات پھر سے زیر بحث آنا شروع ہو جائیں گے۔جنرل پرویز مشرف کا ذکر ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کی انتخابی کامیابی کا ذکر بھی چلے گا۔ یہ سب معاملات اُس وقت زیر بحث آ رہے ہیں،جب سابقہ فاٹا میں بھی بے چینی پائی جا رہی ہے، فاٹا کے دو ارکانِ قومی اسمبلی اِس وقت جیل میں ہیں اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی درخواست پر ابھی سپیکر نے اُن کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے۔ اگرچہ یہ معاملہ ابھی تک عام سیاسی جماعتوں کی طرف سے کوئی بڑا ایشو نہیں بنایا گیا،لیکن اگر کوئی ایک تحریک ملک میں چلی تو اس وقت سیاسی منظر نامے پر جو کچھ بھی حکومت مخالف نظر آ رہا ہے وہ سب زیر بحث آئے گا۔

اس وقت پاکستان نہ صرف معاشی مشکلات کا شکار ہے،بلکہ علاقائی صورتِ حال بھی کافی کشیدگی کی طرف بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ بھارت میں پاکستان مخالف جماعت اور اس کا مسلمان دشمن لیڈر مودی ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بن چکا ہے۔اس نے اپنے عہدہ سنبھالنے کی تقریب میں سارک ممالک کے تمام رہنماؤں اور حکومتی نمائندوں کو دعوت دی،لیکن پاکستان کو دعوت نہ دے کر ا پنی علاقائی پالیسی کا اظہار کر دیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں پاکستان میں قومی یکجہتی کی شدید ضرورت ہے۔

حکمران جماعت کے ساتھ ساتھ حزبِ مخالف کو بھی اس صورتِ حال کا ادراک کرنا ہو گا۔یہ وقت محاذ آرائی کے لئے سازگار نہیں ہے اور یہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس فضا کو مزید خراب ہونے سے بچائے اور اپنی تمام توجہ معاشی مشکلات کے خاتمے پر دے، کیونکہ ہر آنے والا دن پاکستان کے پسے ہوئے عوام کے لئے ایک دردناک عذاب لے کر نمودار ہو رہا ہے۔

مزید : رائے /کالم