سرکاری ملازمین کی مدت ریٹائر منٹ 63 سال کرنے کی تجویز

سرکاری ملازمین کی مدت ریٹائر منٹ 63 سال کرنے کی تجویز
 سرکاری ملازمین کی مدت ریٹائر منٹ 63 سال کرنے کی تجویز

  

سعید احمد علوی (مرحوم) پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے ایک انتہائی قابل، معاملہ فہم اور باوقار فرد تھے آپ 2016ء میں فیڈرل سیکریٹری کے عہد ے سے ریٹائرہوئے آپ نے آل پاکستان لیول پر سی ایس ایس میں اوّل پوزیشن حاصل کی تھی آپ آخری عمر تک نہ صرف افسری کرتے رہے بلکہ سوچ وبچار اور تفکر و تدبر کے لئے مطالعہ بھی اسی شدّومد کے ساتھ کرتے رہے آپ پاکستان کی اعلٰی سروسز میں صاحب الرائے کی حیثیت بھی رکھتے تھے ٹیکنیکل ایجو کیشن اینڈو وکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے چیئرمین کے طور پر انکے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔

ہم سرکاری محکموں اور افسران کی کارکردگی کے بارے میں ان سے بحث و مباحثہ کرتے رہتے تھے وہ بڑی صراحت کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ پاکستان کی بیورو کریسی میں ذہین، قابل بھروسہ، د یانت دار نو جوان افسران کی شدید کمی ہے اور دن بدن یہ کمی بڑھتی چلی جا رہی ہے تجربہ کار افراد کی ریٹا ئر منٹ کے بعد ان کی جگہ لینے کے لئے اسی معیار کے افراد دستیاب نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ بیوروکریسی انحطاط کا شکار ہوتی نظر آرہی ہے“ حکومتی کا کردگی کا جائزہ لیتے ہوئے سرکاری مشینری کے اس پہلو پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔

ہماری قومی اقتصادیات (نیشنل اکانومی) 3.3 فیصد نمو کے ساتھ بہت زیادہ صحت مند نہیں ہے۔ حکومت کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ پاکستان کے اقتصادی سروے 2018-19ء کے مندرجات بھی ایسا ہی کیچھ بتا رہے ہیں۔ہماری معیشت کے مختلف شعبہ جات میں ترقی نہیں ہو پائی ہے۔ صنعتی شعبہ ہو یا زراعت، خدمات کا شعبہ ہو یا بر آمدات، ہر شعبہ مایوس کن حالت کا شکار نظر آیا ہے، جس کے باعث 2018-19ء کے دوران قومی اقتصادی نمو کی شرح حسب ِ توقع نہیں رہی معیشت کی پست روی کے باعث طے کردہ وصولیوں کے اہداف بھی حاصل نہیں ہو پائے ہیں۔

معیشت کی مایوس کن کارکردگی کے بہت سے عوامل ہیں۔ عالمی اقتصادی صورتحال کے متعلق ”ورلڈ اکنامک آوٹ لک“ نے بتایا ہے کہ گزرے سال کے دوران عالمی معیشت کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی ہے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ، امریکہ کی پالیسیوں کے باعث، عالمی معیشت کی کارکردگی متاثر رہی ہے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتِ حال ایک اور اہم عامل ہے۔ پھر امریکہ کے ایران کے ساتھ کئے گئے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے اعلان نے علاقائی سیاسی صورتِ حال میں ابتری پیدا کی ہے۔

امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا ایران کی جوابی کارروائی کی دھمکی اور آبنائے ہرمز بلاک کرنے کے اعلان نے خطے میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا کی،جس کے باعث تیل کی عالمی منڈی میں مندی کے رجحانات غالب آئے۔ پھر چین امریکہ تجارتی جنگ نے بھی عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں امریکہ نے چینی مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کئے، جس کے جواب میں چین نے امریکی مصنوعات پر ٹیکس لگائے ہیں اس طرح امریکہ چین تجارتی جنگ کا دائرہ عمل پھیلتا چلا جا رہا ہے،جس کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایسی ہی جارحانہ پالیسیوں کے باعث عالمی اقتصادی معاملات میں مایوسی اور مایوس کن کارکردگی کے حالات غالب رہے پاکستان، کیونکہ عالمی معیشت کا حصہ ہے اس لئے اس کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں پاکستان کی علاقائی صورتِ حال نے بھی قومی حیثیت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے انڈیا، افغانستان اور ہمارے دیگر ہمسایہ ممالک پاکستان کے خلاف عناد رکھتے ہیں۔سی پیک ان ممالک کے علا وہ امریکہ کے لئے بھی ناپسندیدگی کا باعث ہے اس لئے امریکی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف خفیہ جنگ نے بھی قومی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔

2019ء بھارتی الیکشن کا سال تھا مودی سرکار نے اپنی الیکشن مہم میں پاکستان دشمنی اور مسلم دشمنی کو بنیادی اہمیت دی۔ پاکستان کے خلاف جارحیت کو الیکشن ٹول کے طور پر استعمال کیا اور کامیابی سے استعمال کیا۔پاک بھارت جنگی صورتِ حال نے بھی پاکستانی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے۔ایسی صورتِ حال کا مودی کو فائدہ ہوا اور وہ بھاری اکثریت سے الیکشن جیت گئے پاکستان کی داخلی صورتِ حال بھی قومی معیشت کے لئے موافق نہیں رہی ہے۔نیب کی کار رو ا ئیوں اور حکومت اپوزیشن چپقلش کے باعث بھی معاشی صورتِ حال کے لئے سوھان روح بنی رہی۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے معاملات نے بھی ہمیں پریشان رکھا اس کی شرائط پوری کرتے کرتے ہم نے اپنی لوکل اکانومی کو خاصا متاثر کیا ہے۔ معاشی سرگرمیاں سست روی،بلکہ پست روی کا شکار ہوئیں اور سب سے اہم آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کرنے میں تاخیرنے بھی ہماری معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے۔

گزرے دس گیارہ ماہ کے دوران ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ ہمارے ہاں قومی و صوبائی سطح پر ایسے کارآمد، ذمہ دار اور دیانتدار سرکاری ملازمین کی شدید کمی ہے،جو محکمانہ ضروریات کے مطابق نتائج ظاہر کر سکیں۔ہماری سرکاری مشینری بتدریج ”پست کارکردگی“ کا شکار ہوتی چلی گئی ہے ایف بی آر کو دیکھ لیں وزیراعظم عمران خان اس کی کارگردگی کو دیکھتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اگر اس نے نتائج ظاہر نہ کیے تو وہ نیا ایف بی آر کھڑا کر دیں گے۔

ہمارے سول ادارے روز بروز انحطاط کا شکار ہوتے رہے ہیں کوئی بھی ادارہ کم از کم مثالی کارکردگی کا حامل نظر نہیں آتا ہے کارکردگی دکھانے والے افراد کی دستیابی تو دور کی بات ہے عمومی سرکاری معاملات اور ضروریات کو سمجھنے اور نمٹانے والے افراد کی بھی کمیابی ہے حکومت مالی وسائل کی کمیابی کا شکار ہے ضروری معا ملات نمٹانے کے لئے بھی مالی وسائل دستیاب نہیں ہیں پنشن وغیرہ کی مد ات میں فوری ادائیگیو ں کو موخر کرنے کے لئے حکومت سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60سال سے بڑھا کر 63 برس کرنے کا سوچ رہی ہے گو حکومت مالی دباؤ سے نمٹنے کے لئے ایسا کرنے کا سوچ رہی ہے، لیکن اس سے سرکاری اداروں کی گرتی ہوئی کارگردگی کا گراف تیزی سے گرنے سے وقتی طور پر رک جائے گا،

کیونکہ نئے آنے والے اہل کار و ں و ذمہ داران کی صلاحیتوں پر گہرے سوالیہ نشان ہیں تجربہ کار اور کہنہ مشق اہل کاروں و ذمہ داران کی مدت ملازمت میں 3سالہ مجوزہ اضافے کے باعث سرکار کو ایسے افراد کی دستیابی مزید 3سال تک کنفرم ہو جائے گی، جس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ ایسے تجربہ کار افراد کی موجودگی سرکاری کارکردگی میں گراوٹ پر قابو پانے میں ممدودمعاون ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ پالیسی عوامی اور قومی مفاد میں نظر آتی ہے۔

مزید : رائے /کالم