گرفتاریوں کا موسم

گرفتاریوں کا موسم
گرفتاریوں کا موسم

  

یہ تاریخ بھی ملک میں پہلی بار رقم ہوئی ہے کہ دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین بیک وقت جیل میں ہیں، نوازشریف کے بعد آصف علی زرداری بھی گرفتار کر لئے گئے ہیں، انہیں فی الوقت نیب نے اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے تاہم جلد ہی جب جسمانی ریمانڈ پورا ہو جائے گا تو جوڈیشل ریمانڈ پر وہ بھی جیل چلے جائیں گے، اُدھر حیرت انگیز طور پر حمزہ شہباز شریف کے وکلاء نے لاہور ہائیکورٹ سے اپنی درخواست ضمانت واپس لے لی، جس پر عبوری ضمانت خارج کر دی گئی اور وہ بھی نیب کی حراست میں آ گئے۔

سنا تھا عید کے بعد گرفتاریوں کا جھکڑ چلنے والا ہے، کیا یہ اسی جھکڑ کے آثار ہیں؟ اب اور کس کس نے گرفتار ہونا ہے، سب سے دلچسپ سوال یہ ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں کیا حکومت کے لوگ بھی شامل ہوں گے یا پھر یہ بات درست ثابت ہو گی کہ احتساب صرف اپوزیشن کا ہو رہا ہے، اقتدار والے حکومتی چھتری تلے محفوظ بیٹھے ہیں نیب کے پاس فائلیں تو نجانے کتنوں کی کھلی پڑی ہیں، مگر احتساب کا پہیہ صرف رینگ رہا ہے، پھر یہ بھی سچ ہے کہ ابھی تک نیب نے جنہیں گرفتار کر رکھا ہے، ان سے کچھ بھی برآمد نہیں کر سکا،

صرف اربوں روپے کی کہانیاں ہی سنائی گئی ہیں زیادہ سے زیادہ نیب ریفرنس دائر کر دیتا ہے، پھر وہ ریفرنس دائر کر کے ایسا بھولتا ہے کہ کئی سال تک فیصلہ نہیں ہوتا۔

نیب کو شاید یہ علم نہیں کہ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے، اس کے اثرات پاکستانی سیاست اور حالات پر مرتب ہوتے ہیں نیب یہ تاثر ابھی تک دور نہیں کر سکا کہ اسے حکومتی ایماء پر اپوزیشن کو دبانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیب ہمیشہ حکومت کو چھوڑ کر باقی سب کے پیچھے لگ جاتا ہے۔

پچھلے دور میں حکومت میں حاضر وزیر اعظم نوازشریف کے خلاف نیب اس لئے کیس بنانے پر مجبور ہوا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا، پھر اس نے ان کیسوں پر پوری نظر بھی رکھی تھی حتیٰ کہ ٹائم فریم بھی دیا تھا، وگرنہ نیب بتائے کہ اب تک کسی دوسرے کیس میں کسے سزا ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین اور شرجیل میمن کے کیس تو اب نیب کی ناکامی کا اشتہار بن گئے ہیں شہباز شریف کو بھی گرفتار کیا گیا، کئی ماہ تفتیش ہوئی، ریفرنس دائر ہوئے اب ایک لمبی خاموشی ہے۔ یہی حال علیم خان کا بھی ہے۔

کوئی بعید نہیں کہ کل کلاں آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز شریف بھی ضمانتوں پر باہر آ جائیں اور نیب ریفرنس، ریفرنس کھیلنے میں مصروف رہے۔ نیب کی پکڑ دھکڑ سے ملک میں جو سیاسی بے چینی پھیلتی ہے۔ نیب کو اس کی ذرہ بھر پروا نہیں ہوتی۔ جنہیں پکڑا جاتا ہے ان کے خلاف ٹھوس بنیادوں پر کارروائی بھی ہونی چاہئے صرف ہلچل مچا دینے سے تو مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ حیرت ہے کہ نیب ضمانت منسوخ کرانے کے لئے تو عدالتوں میں بھرپور ثبوت فراہم کرتا ہے اور ضمانتیں منسوخ کرا بھی لیتا ہے، لیکن ریفرنسوں کی سماعت کے وقت اس کے پراسیکیوٹر نجانے کیوں بن کھلے مرجھا جاتے ہیں سوال یہ بھی ہے کہ نیب قوانین پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟

جب قوانین میں لکھا ہے کہ نیب عدالت ریفرنس کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر کرے گی تو پھر معاملہ برسوں پر محیط کیسے ہو جاتا ہے۔ کیا اسے کوئی روکنے والا نہیں اور عدالتی عمل بے لگام گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑے چلا جاتا ہے۔

آصف علی زرداری اڑھائی ماہ تک عبوری ضمانت پر رہے بالآخر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔ گرفتاری کے وقت انہوں نے ثابت کیا کہ وہ اس میدان کے پرانے کھلاڑی ہیں اور انہیں جیل جانے میں کبھی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وہ آصفہ بھٹو زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے گلے مل کر آرام سے نیب کی گاڑی میں بیٹھے اور روانہ ہو گئے۔امید یہی ہے کہ وہ نیب کی حراست میں بھی ایک باوقار قیدی کی طرح وقت گزاریں گے۔

انہوں نے گرفتاری کے وقت کوئی بڑھک بھی نہیں ماری اور نہ ہی زیادتی کا واویلا کیا۔ یہ کام وہ پہلے بھی اسی طرح کرتے رہے ہیں مشکل سے مشکل حالات میں بھی آصف علی زرداری نے اپنی شخصیت پر بزدلی یا خوف کا داغ نہیں لگنے دیا۔ میری نظر میں آصف علی زرداری اگر کرپشن کے داغوں سے اپنا دامن بچا لیتے تو ان جیسی سیاسی سوچ کا حامل لیڈر پاکستان میں موجود نہیں۔ مجھے ان کے حوالے سے دو تین ایسے واقعات یاد ہیں جن سے ان کے بڑے سیاستدان ہونے کا پتہ چلتا ہے۔

بے نظیر بھٹو کی شہادت کے موقع پر انہوں نے جس طرح جلتی آگ پر ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگا کر پانی ڈالا، وہ بہت اہم واقعہ ہے پھر جس طرح انہوں نے پرویز مشرف کا مارشل لاء ختم کرانے اور ان کی وردی اتروانے میں سیاسی داؤ پیچ استعمال کئے وہ تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے۔ ان کا یہ کارنامہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ انہوں نے پرویز مشرف کے دور میں بننے والی اسمبلی کو پانچ سال پورے کرائے یہ پہلا موقع تھا کہ ایک ڈکٹیٹر کو نہ صرف ایوان صدر سے نکالا گیا بلکہ اس کے خلاف آئین شکنی کے الزام میں کارروائی کی مہم بھی چلائی گئی۔

لیکن وہ اپنی کرپشن پر قابو نہ پا سکے۔ اسی وجہ سے انہیں کئی مواقع پر کمزوری کا مظاہرہ کرنا پڑا۔ نوازشریف ہوں یا آصف علی زرداری پاکستانی سیاست میں ان کے کردار سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ مگر یہ دونوں ہی الزامات کو ٹھوس شواہد سے رد نہ کر سکے۔ اگر یہ اسے رد کر دیتے تو آج بھی پاکستانی سیاست ان کے گرد گھوم رہی ہوتی۔

آصف زرداری کے برعکس حمزہ شہباز نے گرفتاری کے وقت اپنی بے گناہی کا اظہار ضرور کیا ہے، بلکہ یہ تک کہہ دیا ہے کہ اگر ان پر کرپشن ثابت ہو جائے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ اگرچہ یہ باتیں ہر کوئی کرتا ہے جو بظاہر صرف زیب داستان کے زمرے میں آتی ہیں۔ لیکن حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ حمزہ شہباز شریف کو اگر اپنی بے گناہی کا اتنا ہی یقین ہے تو ان کے وکلاء نے لاہور ہائیکورٹ سے درخواست ضمانت واپس کیوں لی، کیوں نیب کے الزامات کو عدالت میں جھوٹا ثابت نہیں کیا۔

عجیب بات ہے کہ جب تک حمزہ شہباز شریف کو لاہور ہائیکورٹ سے ریلیف ملتا رہا وہ ججوں کے گن گاتے رہے، مگر جب ان کو ریلیف دینے والے بنچ کے ایک جج نے سماعت سے انکار کر دیا اور چیف جسٹس نے نیا بنچ بنایا تو انہوں نے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ یہاں بھی ان کی بات مانی گئی اور نیا بنچ تشکیل دیا گیا جس کے سربراہ جسٹس طاہر نقوی تھے۔

اس بنچ کے روبرو حمزہ شہباز کے وکلاء نے دلائل دینے کی بجائے پھر عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کر کے اپنی درخواست ہی واپس لے لی، جس کے بعد ضمانت از خود خارج ہو گئی۔ یہ سب کچھ کیوں کیا گیا، اس بارے میں تو حمزہ شہباز کی قانونی ٹیم ہی بہتر جانتی ہے، لیکن اس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ حمزہ شہباز کے وکلاء کی ٹیم نیب کے ثبوتوں کو جھٹلانے سے قاصر تھی، نیز یہ کہ انہیں درخواست ضمانت کے خارج ہونے پر بنچ کے فیصلے سے بچنا تھا، تاکہ احتساب عدالت میں وہ ایک مثال کے طور پر نہ پیش کیا جا سکے۔

ان دو بڑی گرفتاریوں کے بعد سیاسی حالات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، اس پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ اپوزیشن جو بڑی تحریک چلانے کے دعوے کر رہی ہے، کیا وہ ان گرفتاریوں سے دب جائے گی یا ان کی وجہ سے اس میں نئی جان پڑ جائے گی۔ اگر اسی طرح کی دو چار گرفتاریاں مزید ہو جاتی ہیں تو پاکستان میں سیاست کا چال چلن تبدیل ہو جائے گا اور گرفتاریوں کی لہر بہت کچھ بہا لے جائے گی۔

مزید : رائے /کالم