کیا یہ نیا پاکستان ہے؟

کیا یہ نیا پاکستان ہے؟
کیا یہ نیا پاکستان ہے؟

  

آپ بیتی کو کالم بنانا کوئی مستحسن بات نہیں ہوتی،لیکن اگر اس میں پڑھنے والوں کے لئے کوئی سبق ہو یا جس موضوع پر قلم اٹھایا گیا ہے اس میں عامتہ الناس کی فلاح کا کوئی پہلو نکلتا ہو تو اس میں کوئی برائی بھی نہیں۔ گزشتہ ماہ میرے ساتھ دو ایسے واقعات پیش آئے جو میرے تصور سے ماوراء تھے۔ سوچتا ہوں کہ اگر یہ پرانے زمانے کے تصورات تھے تو نئے زمانے کو تو آگے بڑھنا چاہئے۔

’لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو‘…… والی آرزو ناسٹلجیا شمار کی جاتی ہے لیکن یہ ایامِ ماضی اگر سرا سر ثواب ہوں تو جو کچھ ایامِ حال میں میرے سامنے آ رہا ہے اسے عذاب کا نام نہ دوں تو اور کیا کہوں؟…… مختصراً ان دو واقعات کا ذکر کر رہا ہوں۔

میرا ایک داماد ریاض (سعودی عرب) میں ہوتا ہے۔ انہوں نے وہاں ایک سعودی کاروباری شخصیت سے مل کر ایک چھوٹی سی سٹیل فیکٹری قائم کر رکھی ہے جس میں سریا اور آہنی شہتیر وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔ اس فیلڈ میں ان کا وسیع تجربہ ہے۔ انہوں نے کئی برس امریکہ میں اس شعبے کی تکنیکی تحصیل میں گزارے۔

پھر پاکستان آکر اپنے والد اور بھائیوں سے مل کر اسلام آباد میں یہی کاروبار کرتے رہے۔اب گزشتہ 8،10برس سے ریاض میں مقیم ہیں۔ میری بیٹی البتہ اپنے دو چھوٹے بچوں کے ساتھ میرے ہاں رہتی ہیں کیونکہ ریاض میں بچوں کی تعلیم کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں۔ آج کل سکولوں میں موسمِ گرما کی تعطیلات ہیں، اس لئے بیٹی نے سوچا کہ یہ اڑھائی تین ماہ اپنے بچوں کے ہمراہ سعودیہ میں گزاریں۔

اس کے لئے وزٹ ویزہ اپلائی کیا جو تین ماہ (90دن)کا ہوتا ہے۔جس ادارے کو درخواست دی جاتی ہے اس کا نام ”اعتماد“ ہے۔ ]اس ادارے کا پورا نام اعتماد کارپوریشن لمیٹڈ ہے۔اس کی اساس ویسے تو انڈین ہے لیکن ہیڈ کوارٹر دبئی میں ہے۔اس کا تخصص، نشاناتِ انگشت کی تصدیق ہے اور یہ صرف سعودی عرب جانے والوں کے لئے ہے۔ہر فرد جس نے سعودیہ جانا ہو، وہ ”اعتماد“ کی ٹیسٹنگ کے بغیر نہیں جا سکتا۔ اور سعودی سفارت خانہ اس کے پاسپورٹ پر ویزے کی مہر نہیں لگاتا۔[

میری بیٹی نے بھی اپنا اور بچوں کے پاسپورٹ ”اعتماد“ آفس لاہور میں جمع کروا دیئے اور ضابطے کی کارروائی مکمل کر کے بیٹھ گئی۔اسے بتایا گیا کہ ہفتہ عشرہ میں ویزہ لگے گا تینوں پاسپورٹ واپس آ جائیں گے اور وہ ریاض چلی جائیں گی…… یہ اوائل مئی 2019ء کی بات ہے…… ماہِ رمضان شروع تھا!

PIA سے ریاض۔ لاہور کی تین ٹکٹیں خریدی گئیں اور 26مئی کی پرواز سے روانگی طے پائی۔ لیکن جب لاہور سے روانگی کی تاریخ نزدیک آ گئی اور اسلام آباد اعتماد آفس سے پاسپورٹوں پر ویزے Stamp ہو کر نہ آئے تو اعتماد لاہور کے چکر شروع ہوئے۔

اس ادارے کی کارکردگی ملاحظہ فرمائیں کہ جب بھی متعلقہ اہلکار سے رابطہ کیا جاتا، معلوم ہوتا کہ اسلام آباد ہی سے پاسپورٹ واپس نہیں آئے۔ اِدھر 26مئی کی تاریخ نزدیک آر ہی تھی۔ آخر اسلام آباد سے ’سفارش‘ کروا کر وجہ معلوم کی گئی تو جواب ملا کہ درخواست فارم پر نشاناتِ انگشت واضح / صریح نہیں،اس لئے دوبارہ ضابطے کی کارروائی مکمل کریں اور دوبارہ درخواستیں اعتماد آفس اسلام آباد بھیجیں …… مرتا کیا نہ کرتا…… تعمیلِ حکم کی گئی۔ ہوائی جہاز کی تاریخِ روانگی Extend کروائی گئی جس پر 20ہزار روپے اضافی خرچ برداشت کرنا پڑا۔

اب تاریخِ پرواز 31مئی تھی!تاہم 28مئی تک کچھ پتہ نہ لگ سکا کہ پاسپورٹ سعودی سفارت خانے سے ویزہ لگ کر براستہ اعتماد آفس اسلام آباد، اعتماد آفس لاہور پہنچے ہیں یا نہیں …… 28اور 29 مئی کو اسلام آباد اور لاہور میں جن سفارشی حلقوں کو فعال کیا گیا،میں ان کی تفصیل نہیں بتا سکتا۔ انہوں نے بعداز خرابیء بسیار اسلام آباد میں سعودی ایمبسی میں خود جا کر سلسلہ جنبانی کی تو پتہ چلا کہ تینوں پاسپورٹ، اعتماد آفس اسلام آباد بھیج دیئے گئے ہیں۔ بیٹی کو دو چکر اسلام آباد بھی لگانے پڑے۔ چھوٹے چھوٹے بچے بھی اس کے ہمراہ تھے۔ پھر لاہور آفس میں ہائر سطح پر رابطہ (سفارش) کرکے بعداز خرابی ء ہزار 30مئی کو ویزہ لگے پاسپورٹ واپس ملے۔

اس ”بادریشن“ کی ساری تفصیل یہاں تحریر نہیں کر سکتا۔ ادارۂ اعتماد کی راہداریوں میں درجنوں سائلان (خواتین اور بچے شامل) اِدھر اُدھر اور بلڈنگ کے اوپر نیچے آتے جاتے اور دھکے کھاتے دیکھے گئے۔ بعض گارڈز نے وہ ”حل“ بھی بتایا جو ’نیا پاکستان‘ بننے سے پہلے سکہ ء رائج الوقت تھا لیکن میں نے اسے بڑی کراہت سے رد کر دیا۔ خیال تھا کہ گزشتہ برس ہمارے موجودہ وزیراعظم نے جو بلند بانگ وعدے اور دعوے کئے تھے ان کی کچھ ہلکی سی ہی سہی، کوئی جھلک تو نظر آئے گی۔ لیکن سب کچھ ویسا ہی تھا جو 18اگست 2018ء سے پہلے تھا!…… (”پرانے پاکستان“ کے ”پرانے دور“ میں!)

میں ارادتاً بیٹی کا نام اور بچوں کے نام (اور کوائف وغیرہ) نہیں لکھ رہا۔ قارئین کو معلوم ہو گا کہ ہمارے ہاں ”انتقامی سیاست“ اوپر سے نیچے تک سرائت کر چکی ہے…… نجانے اس سے کب چھٹکارا ملے گا۔

اب اسی نوعیت کا ایک دوسرا کیس بھی قارئین کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ اس کی تفصیل درج ذیل خط میں درج کر رہا ہوں جو میں نے پوسٹ ماسٹر جنرل لاہور کے نام لکھا ہے۔ یہاں بھی امید ہی کی جا سکتی ہے کہ اصلاحِ احوال کے لئے وہ حضرات حرکت میں آئیں گے جو بظاہر آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں اور مائیکرو لیول کی کسی شکائت کو درخورِ توجہ نہیں گردانتے……خط یہ ہے:

محترم پوسٹ ماسٹر جنرل لاہور

السلام علیکم

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔

میں یہ ”شکائتی خط“ آپ کو ہرگز نہ لکھتا اگر گزشتہ دنوں،ناقابل یقین حد تک، آپ کے محکمے میں ماضی کی روایات سے ہٹ کر ایک نیا کلچر فروغ پاتا نہ دیکھتا۔ اگر میرے اس خیال کو کسی خوشامدی تعریف کے لبادے میں نہ دیکھا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے سویلین محکمہ جات میں آپ کا محکمہ، امانت و دیانت اور سادگی و پُرکاری کا ایک خاص مقام و احترام رکھتا چلا آیا ہے۔ اس لئے اگر اس میں چند کالی بھیڑیں آ گئی ہوں تو ان کا نکالنا زیادہ بہتر ہو گا۔

میرا چھوٹا بھائی بہاولنگر میں ہے اور ان کا ایڈریس یہ ہے:

عطا جیلانی خان معرفت

خالد رؤف خان، پولیس سب انسپکٹر

رفیع گارڈن، نزد لیڈز کالج بہاول نگر

کچھ عرصے سے ان کے جو خطوط میرے نام آتے تھے وہ ”رجسٹرڈ AD“ ہوتے تھے۔ ان کو میں نے پوچھا کہ ایک عام ڈاک کا لفافہ آپ رجسٹرڈ AD کیوں کرواتے ہیں۔ ان کا جواب تھا کہ اگر ایسا نہ کروں تو یہ خطوط راستے میں کہیں گم ہو جاتے ہیں، میں نے کئی بار آزمایا ہے……

آپ شائد مجھ سے اتفاق کریں گے کہ کچھ عرصے سے موبائل فون نے مکتوب نگاری کا کلچر ہی ختم کر دیا ہے۔ لیکن پھر بھی میرے جیسے بعض بزرگ اس روائت کو یکسر ختم کر دینے کے حق میں نہیں۔

میں بھائی کو جو بھی خطوط بھیجتا تھا وہ اگر عام ڈاک سے ہوتے تو ان کو نہیں ملتے تھے۔ ’بک پوسٹ‘ کے تحت بھیجے گئے کئی میگزین اور مضامین بھی نجانے کہاں پھینک دیئے جاتے تھے۔

اسی لئے میں ان کو جو کچھ بھی بھیجتا تھا وہ UMS کرکے ارسال کرتا تھا۔ تاہم پچھلے دنوں، بطور آزمائش، میں نے دو لفافے (A-4سائز اور خاکی رنگ کے) عام ڈاک سے بھائی کو بھیجے۔ ایک پارسل تھا(اور رجسٹرڈ نہ تھا)۔ اس میں 5،7سو روپے مالیت کی اشیاء بھی تھیں۔ ان کو یہ دونوں خطوط (ایک پارسل اوردوسرا عام ڈاک میں) نہ ملے……مجھے بھائی کی باتوں پر یقین آنے لگا۔

میرا گھر لاہور کینٹ، GPO سے ایک ڈیڑھ فرلانگ دور ہے اور میں اکثر وہاں آتا جاتا رہتا ہوں۔ اس GPO کا تقریباً سارا سٹاف میرا شکل آشنا ہے کیونکہ میں یہاں 20برس سے رہ رہا ہوں۔

میں نے یہاں کے سینئر پوسٹ ماسٹر محمد سلیم صاحب سے برسبیل ِ تذکرہ بات کی تو انہوں نے بہاول نگر فون کرکے دریافت کیا کہ کرنل صاحب کے بھیجے گئے پارسل اور خطوط کیوں ڈلیور نہیں ہوئے…… وہاں سے جواب ملا کہ وہ خطوط بہاولنگر میں آئے ہی نہیں ……اس کا مطلب یہ تھا کہ یا تو لاہور کینٹ GPO والوں نے یہیں ”ضبط“ کر لئے یا راستے میں کہیں گم ہو گئے۔ بہر کیف مکتوب الیہ کو نہیں ملے۔

یہ واقعہ ماہ مئی 2019ء کے اوائل میں پیش آیا۔

اس کے بعد دوسرا وقوعہ یوں ہے کہ میں نے 6000روپے کا ایک منی آرڈر اپنے دوسرے بھائی کو بھیجا جن کا ایڈریس یہ ہے:

کرم جیلانی خان

محلہ نوری

پاک پتن شریف

یہ ان کے بچوں کے لئے عیدی تھی جسے میں نے 27مئی 2019ء کو بھیجا (اس کی رسید کی فوٹو کاپی لف ہذا ہے) لیکن میں نے جب یکم جون کو بھائی سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ منی آرڈر ہنوز انہیں نہیں ملا…… میں نے دوبارہ یہاں کے پوسٹ ماسٹر صاحب کے دفتر میں جا کر پوچھا کہ خط / پارسل وغیرہ کی بات تو ایک طرف رکھیں اب تو آپ کے محکمے میں منی آرڈر بھی گم ہونے لگے ہیں۔

انہوں نے ازراہِ مہربانی پوسٹ ماسٹر صاحب پاک پتن کو فون کیا تو انہوں نے کچھ ”ہل جُل“ کی اور کہا کہ منی آرڈر تو چار روز پہلے یہاں پاک پتن میں آ گیا تھا، متعلقہ پوسٹ مین کی کوتاہی تھی کہ اس نے وصول کنندہ کو ڈلیور نہیں کیا…… مزید فرمایا کہ میں نے اس پوسٹ مین کو اس حلقے سے ٹرانسفر کرکے کہیں اور بھیج دیا ہے اور ایک دوسرا پوسٹ مین تعینات کر دیا ہے…… سوچتا ہوں کہ اگر فون نہ کرتا اور عید کے بعد ان کو یہ رقم ڈلیور بھی ہو جاتی تو عیدی بھیجنے کا مقصد تو فوت ہو جاتا!

مجھے معلوم ہے ہمارے وزیر جناب مراد سعید صاحب نے آکر بہت سی ”مثبت تبدیلیاں“آپ کے محکمے میں کی ہیں۔ مثلاً عام ڈاک، منی آرڈرز اور دیگر سروسز کی فیس میں 150فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ 8روپے کا لفافہ 20روپے کا ہو گیا اور اس کو اگر رجسٹرڈ کیا جائے تو یہ رقم 50روپے بن جاتی ہے۔ اور اگر رجسٹرڈ نہ کیا جائے تو کوئی پتہ نہیں کہ عام ڈاک سے بھیجا گیا، یہ لفافہ Sender کو تقسیم ہو گا بھی یا نہیں۔ اگر وزیر موصوف نے مالیاتی خسارہ کم ہی کرنا تھا تو اور بہت سے ”کھاتے“ تھے جن پر ہاتھ ڈالا جا سکتا تھا۔عوام الناس کو 8روپے والا خط 50 روپے میں دے کر انہوں نے کون سے ”نئے پاکستان“کی خدمت کی ہے؟……

میں سطور بالا میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ آپ کے محکمے کے اس رویئے کو تساہل کا نام دوں تو بھی ان سابق روایات کی نفی ہو جائے گی جن کے لئے محکمہ ڈاک و تار نیک نام چلاآ رہا ہے۔…… ضمناً یہ بھی عرض کروں کہ میں نے 1960ء کے عشرے کے آخری برسوں میں CSS کیا اور مجھے محکمہ ڈاک و تار الاٹ کیا گیا۔ ساتھ ہی میں نے فوج میں کمیشن کی درخواست بھی دے رکھی تھی۔ وہاں سے جب PMA جوائن کرنے کا لیٹر آیا تو کئی دن تک سوچتا رہا کہ فوج جوائن کروں یا پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف ڈیپارٹمنٹ…… آخر قرعہ ء فال فوج کے نام نکلا۔

لیکن فوج میں آکر بھی دل میں ایک کسک سی موجود رہی کہ محکمہ ڈاک و تار اور پاک آرمی دونوں امانت و دیانت میں یکساں سکیل اور اہمیت کے حامل تھے!اگر محکمہ ڈاک جوائن کر لیتا تو شائد اپنی بساط بھر اس انتظامی انحطاط کو روک سکتا جو رفتہ رفتہ اب ڈیپارٹمنٹ میں سرائت کر چکا ہے۔

یہ بھی معلوم کر کے دُکھ ہوا کہ اس ناقص کارکردگی کی وجہ وہ بوجھ ہے جو نئے پاکستان میں اس محکمے کے کرتا دھرتاؤں نے لوئر سٹاف پر ڈال دیا ہے۔ میری مراد اس تخفیف (Retrenchment) سے ہے جو کلریکل سٹاف میں کی گئی ہے جس کے باعث ایک اہلکار پر اپنے تخفیف شدہ ساتھی کے کام کا لوڈ بھی پڑ گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر کلرک کے کاونٹر کے سامنے Clients کی لمبی لمبی قطاریں لگی دیکھی جا سکتی ہیں۔ ایسے میں کوئی پوسٹ مین اگر عام ڈاک (Un-registered) مکتوب الیہان کو تقسیم نہیں کرتا اور کسی کوڑے دان میں پھینک دیتاہے تو یہ قصور ”ڈاکیے“ کا نہیں ان صاحبانِ اختیار کا ہے جنہوں نے اس غریب کے ساتھیوں پر ”ڈاکہ زنی“ کر کے ان کو فاضل عملہ قرار دیا اور فارغ کر دیا!

احتراماتِ فائقہ کے ہمراہ

آپ کا مخلص

غلام جیلانی خان

مزید : رائے /کالم