مضبوط معیشت کیلئے 10سال میں کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی،آئی پی آر

مضبوط معیشت کیلئے 10سال میں کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی،آئی پی آر

  

لاہور(لیڈی رپورٹر) تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمزنے اکنامک سروے پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اس سال کوئی بھی معاشی اشاریہ حاصل نہیں کیا لیکن یہ حیرانگی کی بات بھی نہیں ہے کیونکہ ستمبر 2016کے آئی ایم ایف کے پروگرام کی تکمیل کے بعد سے ملک کے اندر بنیادی طور پر معیشت کمزور ہوئی تھی۔2019میں جی ڈی پی گروتھ 3.3فیصد ٹارگٹ کی نسبت بہت کم ہے بڑے پیمانے پر صنعت کاری منفی 2اور کنسٹرکیشن7.6 فیصد سے کم رہی۔اہم زرعی فصلوں کی پیدوار بھی 6.6فیصد،کاٹن وغیرہ کی مصنوعات کی برآمدات بھی13فیصد تک کم رہیں۔بچت اور سرمایہ کاری کی کم شرح بھی معیشت کیلئے بھی ایک بنیادی اور پریشان کن بات ہے۔حال ہی میں قرضوں میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہو ا،کل قرضہ جی ڈی پی کا 85فیصد ہو گیا۔تاہم جاری اکاوئنٹ خسارے میں کمی واقع ہوئی کیونکہ پچھلے سال کرنٹ اکاوئنٹ خسارے کی پاکستانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔آئی پی آر نے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دس سال میں ملک کے اندر کوئی ایسی معاشی پالیسی نہیں بنائی گئی جس کی وجہ سے معیشت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا جاسکے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -