رمضان گزر گیا، بجٹ آ گیا، مہنگائی کم نہ ہوئی، اشیاء مزید مہنگی ہو گئیں!!

رمضان گزر گیا، بجٹ آ گیا، مہنگائی کم نہ ہوئی، اشیاء مزید مہنگی ہو گئیں!!

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

اللہ کے کرم سے رمضان المبارک کے روزے پورے ہوئے عیدالفطر بھی گزر گئی تاہم جہاں قدرت کی طرف سے سورج نے آگ برسانا شروع کی اور لوگ توبہ کرنے پر مجبور ہوئے وہاں گرانی میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہوئی اور عوام کی بدستور چیخیں نکل رہی ہیں۔ آج عید کی چھٹیاں ختم ہوئے دو روز ہو گئے اور بازار منڈیاں کھل گئیں لیکن یہاں سبزی اور فروٹ کے نرخ بھی کم نہیں ہو سکے حالانکہ عید کے بعد نہ صرف خریداری بہت کم ہو جاتی ہے اور رسد و طلب کے معاملہ میں خود کار طریقہ سے طلب کم اور رسد زیادہ ہو جاتی ہے اور قیمتوں پر اثر پڑتا ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہوا اور اتوار بازاروں میں بدستور مہنگائی رہی۔ پیر اور منگل کو بھی نرخ جوں کے توں تھے۔ کریلے 80روپے فی کلو اور ٹینڈے 160روپے فی کلو (پرچون) میں بک رہے تھے اور لوگ پریشان ہی ہیں، اوپر سے بجٹوں کا سیزن ہے۔ وفاقی بجٹ کے بعد اب صوبائی کی آمد ہے۔ وفاق کی طرف سے عام آدمی کو ریلیف دینے کی تسلی دے کر 5500ارب سے بھی زیادہ کے ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں۔ یہ سب ٹیکس بالآخر عام آدمی کو ہی متاثر کریں گے کہ جس جس شعبہ پر ٹیکس لگایا یا اس میں اضافہ کیا گیا وہ بالآخر خریدار کی جیب سے جائے گا اور بجٹ بنانے والوں کی نظر میں وہ عام آدمی نہیں۔

میزانیوں اور موسم کی سختی سے بے حال عوام کے لئے سیاست بھی گرم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ(ن) کے صدر محمد شہباز شریف ملک سے باہر لندن تھے تو اعتراض اور تنقید کی نوعیت مختلف تھی اور اب اور ہو گئی ہے۔ قائد حزب اختلاف اتوار کو دو ماہ کے بعد لاہور پہنچے تو مسلم لیگ (ن) والوں نے ان کا استقبال کر لیا، انہوں نے بھی آنے سے قبل ہی سیاسی نوعیت کی سرگرمیوں کا مکمل پروگرام بنا لیا ہوا ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ(ن) کے زعماء سے ملاقات اور مشاورت کی تو پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی بلایا جبکہ ان کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کا اجلاس بھی بلایا جائے گا۔ اس سے قبل بلاول بھٹو کی افطار پارٹی پر یہ فیصلہ ہو چکا ہوا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اے پی سی بلائیں گے اور انہوں نے رابطے بھی شروع کر رکھے ہیں۔

محمد شہبازشریف کی واپسی نے مختلف نوعیت کی افواہوں کے راستے کھول دیئے اور کہا جا رہا ہے کہ محمد شہباز اپنے بڑے بھائی کی پالیسی سے مختلف راہ اختیار کریں گے، ایسے اختلاف کی باتیں عرصہ سے کی جا رہی ہیں لیکن ابھی تک بھائیوں کی راہیں جدا نہیں ہوئیں، حتیٰ کہ بلاول کی افطار دعوت میں بھی مریم نواز اپنے کزن حمزہ شہباز کے ساتھ شریک ہوئیں اور انہوں نے مل کر ہی مذاکرات میں حصہ لیا اب چچا آئے تو جہاں باپ اور بھابھی کے ساتھ بھائی کی قبر پر فاتحہ خوانی کی وہاں مریم نواز سے بھی ملاقات کی اور تبادلہ خیال کیا وہ بھائی محمد نوازشریف سے بھی ملیں گے۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق لاہور ہائی کورٹ سے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت کی توثیق نہیں ہوئی، وہ حراست میں لے لئے گئے ہیں۔

اس اثناء میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد ہو گئی اور سہ پہر کے وقت آصف علی زرداری گرفتار کر لئے گئے اس پر پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا۔لاہور میں نو مقامات پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کی گئی، تاہم کارکنوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ البتہ سندھ میں احتجاج پر زور ہے۔

سپریم کورٹ کے جج مسٹر جسٹس فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج مسٹر جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں سرکاری ریفرنس کے بعد وکلاء کا جو شدید ردعمل سامنے آیا اس میں کچھ موڑ آ گیا ہے اور پنجاب بار کونسل کی ایکشن کمیٹی نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کے فیصلہ سے اختلاف کیا ہے، ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ 14جون والے احتجاج کی کال واپس لی جائے اور ریفرنس کی سماعت ہونے دیں۔ یوں یہ اختلاف سامنے آیا جو غیر معمولی نہیں، ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اختلاف کیا رنگ لاتا ہے کہ دھرنا اور احتجاج والے اپنے پروگرام پر قائم ہیں۔

لاہور میں گزشتہ دنوں دو اہم اموات ہوئیں، ڈرامہ نگار، فنکار، ادیب، تنقید نگار، شاعر، ادیب اور ترقی پسند سیاسی کارکن ڈاکٹر انور سجاد انتقال کر گئے اور ان کو سپردخاک کر دیا گیا اب ان کی ذات سے متعلق لکھا تو بہت کچھ جا رہا ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ بعض اختلافی پہلو بھی سامنے لائے جا رہے ہیں۔ ردعمل افسوسناک ہے۔ دوسری وفات پیپلزپارٹی کے صوبائی نائب صدر چودھری اسلم گل کے جیالے لیاقت گل کی آپریشن کے بعد وفات تھی وہ ایک ٹریفک حادثے میں زخمی ہوئے، علاج ہوا تاہم آپریشن کے بعد جانبر نہ ہو سکے۔ ان کے انتقال پر پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے بھاری تعداد میں تعزیت کی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -