جڑواں شہروں میں شدید گرمی میں معمولی کمی، سیاسی موسم اور زیادہ گرم ہو گیا

جڑواں شہروں میں شدید گرمی میں معمولی کمی، سیاسی موسم اور زیادہ گرم ہو گیا

  

جڑواں شہروں راولپنڈی و اسلام آباد میں گرمی کی دو روزہ شدید لہر کے بعد ایک رات قبل ہلکے پھلکے طوفانِ بادو باراں سے موسم قدرے بہتر ہو گیا،لیکن دارالحکومت کے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہی دیکھنے میں آیا۔ لگتا ہے کہ کم از کم جون کے مہینہ کی گرمی کی شدت کی مانند سیاسی حدت میں اضافہ برقرار رہے گا۔ اپوزیشن مسلسل عتاب کا شکار ہے جس کی وجہ سے سیاسی گرما گرمی میں اضافہ یقینی ہے۔ حکومت اور احتساب کے اداروں نے ایک طرف اپوزیشن کو نشانے پر رکھا ہوا ہے تو دوسری طرف عوامی حکومتی کارکردگی بالخصوص ملک کی خراب اور مسلسل گرتی ہوتی معاشی صورتِ حال عوام کو احتجاج کے لئے اُکسانے کے لئے کافی ہے۔ وفاقی دارالحکومت شاید اپنی تاریخ کے بدترین معاشی و سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب وفاقی مشیر خزانہ حفیظ شیخ قوم کو بری معاشی خبریں سُنا رہے ہیں، بلکہ ملک کے معاشی دیوالیہ ہونے کے خطرات سے آگاہ کر رہے ہیں تو دوسری جانب ملک کی اپوزیشن کی ایک اہم جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے کو چیئرپرسن و سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، جبکہ بلاشبہ پاکستان پیپلزپارٹی ملک کی سیاسی تاریخ میں احتجاجی سیاست کے حوالے سے ایک طویل جدوجہد کی تاریخ سے مالا مال ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حسن ِ اتفاق سے سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری مالی بجٹ2019-20ء سے ایک روز قبل اس وقت عمل میں آئی جس روز وفاقی مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے اقتصادی سروے پیش کیا۔ اگرچہ اقتصادی سروے کے پیش کرنے کا مقصد حکومت کی کارکردگی بیان کرنا ہوتا ہے جس کی روشنی میں بجٹ کے آئندہ اہداف مقرر کئے جاتے ہیں، لیکن وفاقی مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے ایک پُرہجوم پریس کانفرنس میں اپنی حکومت کی معاشی و سماجی میدان میں کارکردگی بیان کرنے کے بجائے سابقہ حکومتوں کے ادوار کی کارکردگی بیان کرنے پر توجہ مرکوز رکھی۔ صحافیوں کی جانب سے اس امر پر ان کی توجہ مبذول کروانے کی بھرپور کوشش کی گئی،لیکن انہوں نے یہ کہہ کر اسے نظر انداز کر دیا کہ اکنامک سروے میں سب کچھ شائع ہو چکا ہے۔اگرچہ یہ الگ معاملہ ہے کہ اکنامک سروے آف پاکستان میں گزشتہ ایک سال میں غربت میں کمی یا اضافہ کے اعداد و شمار شامل نہیں کئے گئے۔

معاشی مبصرین کا خیال ہے کہ گزشتہ ایک سال میں غربت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے اور آئندہ ایک سال میں غربت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔اگرچہ دارالحکومت اس بار عید کی تعطیلات کے باعث تقریباً دس دن عملاً بند رہا،لیکن عید سے قبل پٹرول کی قیمتوں میں بے رحم اضافے سے طویل تعطیلات کے باوجود عید کی خوشیاں پھر بھی دوبالا نہیں ہو سکیں،جبکہ عید کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پر بھی سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری سے ملک میں سیاسی و معاشی بے یقینی میں اضافہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اگرچہ سابق صدر کی گرفتاری کے لئے راولپنڈی و اسلام آباد کی سڑکوں پر کوئی بڑا احتجاجی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا تاہم بعض علاقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالوں نے ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کی تاہم اس سے یہ تاثر نہیں لیا جا سکتا کہ آئندہ آنے والے دِنوں میں کوئی بڑا احتجاجی مظاہرہ نہیں ہو گا، کیونکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بھی پابند ِ سلاسل ہیں، جبکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما میاں محمد شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف بھی احتساب کی زد میں ہیں۔ اگرچہ میاں محمد شہباز شریف کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ ڈیل کرنے باہر چلے گئے ہیں اور واپس نہیں آئیں گے۔ ان کی واپسی سے ڈیل کی باتیں دم توڑ گئی ہیں۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ اپوزیشن حکومت کے خلاف ایک نئی صف بندی کرے گی، جس میں پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے علاوہ جمعیت علما ئے اسلام کا بھی کلیدی کردار ہو گا۔

بجٹ2019-20ء کے نتیجہ میں عوام کو درپیش شدید مالی مشکلات کے باعث اپوزیشن جماعتیں اس صف بندی کے ذریعے ایک بڑی احتجاجی تحریک چلانے کی پوزیشن میں آ سکتی ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی دونوں ماضی کی حریف جماعتیں کس قدر اتفاق اور قربت اختیار کر پاتی ہیں۔ کیا دونوں جماعتیں حکومت کے خلاف بقول مرحوم نوابزادہ نصر اللہ خان کسی کم سے کم ایجنڈے پر اتفاق کرتی ہیں کہ نہیں؟سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری پر قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان نے تو شدید احتجاج کیا اور سپیکر قومی اسمبلی کے ڈائس کا بھی گھیراؤ کیا،لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) اس احتجاج میں شامل نہیں ہوئی تاہم قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما میاں محمد شہباز شریف نے سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ سپیکر قومی اسمبلی سابق صدر آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔ اب دیکھنا ہے کہ دونوں اپوزیشن جماعتیں گاجر اور چھڑی کے لالچ اور خوف سے باہر آ پائیں گی کہ نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مستقبل کی سیاست کے خدوخال واضح ہوں گے۔ اگر پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) گاجر اور چھڑی کے کھیل کا شکار رہیں تو پھر حکومت کی ناقص کارکردگی کے باوجود بھی اس کے لئے شاید کوئی بڑا سیاسی خطرہ نہ ہو، کیونکہ حکومت تاحال عوام کے سامنے اپنی کارکردگی پیش کرنے کے بجائے تمام خرابیوں کا ملبہ سابقہ ادوار پر ڈالنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت اپنے تمام معاشی و اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں مکمل ناکام ہوئی ہے۔ملک کی معاشی شرح نمو گزشتہ مالی سال کی نسبت نصف رہ گئی ہے۔

بجٹ پیش کرنے کے موقع پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا،لیکن سب بے سود نظر آ رہا ہے، ڈالر نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے، سٹاک مارکیٹ مسلسل پستیوں کی جانب گامزن ہے۔ ملک کی صنعت و حرفت، زراعت، تجارت اور سروس سیکٹر سب زوال کا شکار ہیں۔ حکومت نے نئے بجٹ میں بھاری ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی بھرمار کر دی ہے، حکومت کا معاشی پہیہ چلانے والے تمام شعبے سراپا احتجاج ہیں۔ عوام کی مہنگائی سے چیخیں نکل رہی ہیں،لیکن اپوزیشن جماعتوں کی اعلیٰ سیاسی شخصیات کی گرفتاری کی ٹائمنگ نہایت دلچسپ ہے، کیونکہ عوام اور میڈیا بجٹ 2019-20ء کی صعوبتوں کے بجائے اپنی توجہ سیاسی شخصیات کی گرفتاریوں پر مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ حکومت نے اپنی خراب معاشی کارکردگی پر عوامی غیظ و غضب سے بچنے کے لئے ان بڑی سیاسی گرفتاریوں کے مناظر کے پیچھے پناہ لی ہوئی ہے، آنے والے دن پاکستان کی سیاست اور حقیقت کے حوالے سے نہایت اہم ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -