مہنگائی اور موسم، آصف علی زرداری کی گرفتاری پر متوقع ردعمل نہیں ہو گا

مہنگائی اور موسم، آصف علی زرداری کی گرفتاری پر متوقع ردعمل نہیں ہو گا

  

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی گرفتاری اگر محض قومی احتساب بیورو کی کارروائی ہے تو پھر وفاقی حکومت اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کیوں کر رہی ہے۔وزیراعظم عمران خان سمیت ان کی منتخب اور غیر منتخب کابینہ دن رات ایک ہی راگ کیوں الاپ رہی ہے اور ایک قانونی گرفتاری کو سیاسی رنگ کیوں دیا جا رہا ہے،جو ایک طرف تو خوف و ہراس پیدا کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ایک ایسی اپوزیشن جو دھڑے بندی کا شکار تھی اس کو متحد ہونے کا موقع کیوں دیا جا رہا ہے کیا سیاست کے نام پر حکومت حاصل کرنے والے سیاسی سمجھ بوجھ سے عاری ہیں یا پھر تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ایک بڑی تحریک چلانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ بات روز اول کی طرح روشن تھی کہ اگر آصف علی زرداری سمیت کرپشن کے الزام میں بڑوں کی گرفتاری پر نہ پہلے کوئی رد عمل آیا تھا اور نہ اب اس کی کوئی توقع ہو سکتی ہے اس کی وجہ مہنگائی کا وہ طوفان ہے جو اس حکومت نے عوام کے خلاف برپا کر رکھا ہے اس پر مستزاد یہ ہے کہ موسم کا درجہ حرارت ریکارڈ توڑ بڑھ رہا ہے، جس سے عوام کی رہی سہی کسر بھی ختم ہوتی نظر آ رہی ہے البتہ اسمبلی اور سینیٹ کے اندر حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے پہلے بھی جگ ہنسائی ہوئی اور اب بھی ایسا ہی ہو گا لیکن اس پر کون توجہ دیتا ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں سیاسی بالادستی کی ضر ورت کے تحت کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگانا مشکل نہیں کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان جو پیپلز پارٹی کی حکومت کی میڈیا منیجر رہیں اور اس وقت ان کے تمام عوامل کا دفاع کرتی رہیں آج انہی الفاظ میں وہ اپنے ہی پرانے سیاسی استادوں کے خلاف بات کر رہی ہیں یہ صرف اور محض یہی محترمہ ہی نہیں تعداد زیادہ ہے اور کیا وزیراعظم عمران خان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کل جو اپنے سیاسی استادوں کے لئے دفاع کا کام کر رہے تھے آج ان کے خلاف ہیں تو کیا، جب تحریک انصاف اپوزیشن میں ہو گی تو کیا یہ لوگ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے؟اگر وہ یہ سمجھتے ہیں تو یہ ان کی ایک بہت بڑی سیاسی بھول ہو گی اور سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ صرف گرفتاریاں کر کے ہی سونامی“ لانا ہے یا پھر ان سے کوئی ریکوری کا بھی کوئی پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔

بلوچستان‘ سندھ‘ خیبر پختونخوا اور پنجاب سمیت نیب نے جن جن سیاسی اور سرکاری عہدیداران کو گرفتار کر رکھا ہے ان سے ریکوری کی کیا کارکردگی ہے کیونکہ اس حوالے سے ”راوی“ خاموش ہے جس سے عوام کا حکومت اور نیب دونوں پر اعتماد متزلزل نظر آ رہا ہے اس اعتماد کو بحال رکھنے کے لئے ضروری ہے ریکوری کی طرف دھیان دیا جائے اور بقول وزیراعظم اگر ریکوری ہوتی ہے تو شاید وطن عزیز میں دودھ کی نہیں تو کم از کم صاف پانی کی نہریں ہی چل پڑیں ادھر سینئر سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی بھی ایک مرتبہ پر حکومت پر برس پڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ غریب مہنگائی میں کچلے جا رہے ہیں حکومت ہر روز پیدا ہونے والے نئے بحران سے نمٹنے میں ناکام ہو چکی ہے عدلیہ بھی مسائل میں گھری ہوئی ہے انہوں نے نیب کو عیب قرار دیا اور قوم کو متحد ہونے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ہماری افواج نے بہت قربانیاں دے کر ملک کو بچایا ہوا ہے جن لوگوں نے ہمارے جوانوں کو شہید کیا ان کے لئے کوئی معافی نہیں ہے سینئر سیاست دان نے سید یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شاہ محمود حسین قریشی کو جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کے لئے مل کر کام کرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کیں اور خواہش ظاہر کی کہ تینوں مل کر لاہور میں اس حوالے سے پریس کانفرنس کر کے مثبت جدوجہد کا آغاز کریں، کیونکہ موجودہ حکومت جنوبی پنجاب صوبہ نہیں بنا سکتی، کیونکہ ان کے پاس آئین میں ترمیم کے لئے مطلوبہ تعداد نہیں ہے تاہم انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ تحریک انصاف کی حکومت پنجاب میں جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی کی وجہ سے کھڑی ہے اور اگر یہ الگ ہو گیا تو ان کی حکومت دھڑام سے گر جائے گی،جو پی ٹی آئی برداشت نہیں کر پائے گئے البتہ تمام سیاسی جماعتیں الگ صوبہ بنانے کا دعویٰ کر کے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں اگر حقائق کو دیکھا جائے تو مخدوم جاوید ہاشمی کی یہ بات درست نظر آتی ہے، کیونکہ اس سال کے بجٹ میں الگ صوبہ اور الگ سیکرٹریٹ کے لئے رقم مختص کرنے کا دعویٰ کرنے والے اچانک بیانیہ تبدیل کر چکے ہیں اور اب کر رہے ہیں کی جگہ کریں گے کا بیانیہ استعمال ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا بیانیہ وہی ہے اتنے سارے بیانیے تبدیل اور سیاسی معاشی دھوکوں کے باوجود ان کا اصرار ہے کہ ہم ماضی کی طرح عوام کو دھوکا نہیں دیں گے کام کیا جائے گا عوام کی قیمت بدلنے کا عزم کیا ہے اب معلوم نہیں، انہوں نے عوام کی قسمت مثبت انداز میں تبدیل کرنے کا عزم کیا ہے یا پھر زمینی حقائق نظر آ رہے ہیں موصوف وزیراعلیٰ پنجاب ہونے کے باوجود عید کے دنوں میں اپنے آبائی علاقے تونسہ جانے کے لئے ملتان تشریف لائے اور دو دن مسلسل یہی رہے، لیکن کسی سیاسی کارکن یا عہدیدار سے ملاقات مناسب نہیں سمجھی معلوم نہیں وہ دو دن یہاں کیا کرتے رہے ان کے اس عمل سے ماضی کے ایک وزیراعلیٰ پنجاب کا قصہ یاد آتا ہے،جو تقریباً ہر ہفتے میں ایک دن کم از کم اپنے آبائی علاقے میں ”آرام“ کیا کرتے ہیں ویسے جنوبی پنجاب کے اس ”سپوت“ سے یہاں کے عوام کو یہ توقع نہیں تھی۔

وفاقی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کے اکٹھا ہونے پر سخت تنقید کی اور انہیں ملک لوٹنے والا قرار دیا اور کہا کہ احتساب سے بچنے کے لئے اکٹھے ہو رہے ہیں، لیکن احتساب کے بغیر ملک نہیں چل سکتا چیلنجز سے نمٹنے کے لئے قوم کو ساتھ دینا ہو گا ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے اور نئے پاکستان کے سفر کی جانب چل پڑے ہیں دُنیا ہمیں ترقی کرتا ہوا دیکھے گی دوسری طرف ملتان کے نواحی علاقے جلالپور پیر والا میں عین عید کی نماز کے بعد علاقائی بالادستی قائم رکھنے کے لئے کافی عرصہ سے متحارب دو گروپوں میں سے ایک نے دوسرے پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے دونوں پارٹیوں کے دس افراد موقع پر ہی قتل ہو گئے، جبکہ 20سے زیادہ زخمی ہوئے یہی نہیں،بلکہ اس وقوعہ سے دو دن قبل ایک گھر کے چار افراد کو چکوال کے ایک نوجوان نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ حسب ِ سا بق آئی جی پنجاب نے فوری طو رپر رپورٹ طلب کر لی ہے روایتی انداز میں ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو معطل کر دیا گیا ہے، 20افراد پر مقدمہ قائم کر دیا گیا اب کیا ہو گا یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن عید والے وقوعہ میں مقامی پولیس اور سیاسی وڈیروں کو بخوبی اس دشمنی کا علم تھا، لیکن کسی نے انسانیت کی خاطر اس مسئلے کو حل کرنے کی طرف توجہ نہیں دی،حالانکہ اس گروپ میں پہلے بھی لڑائیاں ہوئیں اور قتل بھی ہوئے، مگر سیاست دانوں اور پولیس نے ذاتی مفاد کی خاطر انہیں متحارب ہی رہنے دیا،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب 20سے 25خاندان تباہ و برباد ہو گئے اب اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟

مزید :

ایڈیشن 1 -