جس چور کو تحفظ چاہئے وہ پی ٹی آئی میں چلا جائے ،آئی ایم ایف کا تیار کردہ عوام دشمن بجٹ نا منظور ،مسلم لیگ(ن)

جس چور کو تحفظ چاہئے وہ پی ٹی آئی میں چلا جائے ،آئی ایم ایف کا تیار کردہ عوام ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی ) مسلم لیگ (ن)نے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیا جانے والا بجٹ مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ آئی ایم ایف کا تیار کردہ ہے اور عوام دشمن بجٹ منظور نہیں ہے،آئی ایم ایف حکومت قومی معاشی مفادات پر سودے بازی کر چکی ہے،عمران خان آپ خود چاہتے ہیں ملک میں افراتفری ہو تاکہ آپ کی ناکامیوں کا کوئی سوال نہ کرے،عمران صاحب کی مرضی کے عین مطابق نالائق اور جھوٹی حکومت کا بجٹ عوام کی مزید چیخیں نکالے گا ۔ منگل کو مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے نئے مالی سال کے بجٹ 2019-20 ءکے حوالے سے کہا ہے کہ عمران صاحب آج آپکی حکومت نے پہلی اقتصادی سروے رپورٹ کس بے شرمی سے پیش کی ، اس کے سو نمبر نالائق اور جھوٹے لوگ کہتے ہیں ہم نے اسلئے اقتصادی ترقی کے اہداف پورے نہیں کئے کہ مسلم لیگ (ن) نے بڑے اہداف رکھے تھے ،کوئی اِن نالائقوں اور جھوٹوں کو بتائے کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنی کارکردگی کے مطابق اہداف رکھے تھے ،ان نالائقوں کے مطابق نہیں۔ انہوں نے کہا عمران صاحب کوئی اپنی ناکامی کو اتنی بے شرمی اور ڈھٹائی سے پیش کرتا ہے ، آج تک نہیں دیکھا ، صرف آپ ہی یہ کر سکتے ہیں، عمران صاحب ترقی کرتے ہوئے ملک کی ترقی کی شرح کو آدھا کر دیا، آپ کس کے ایجنڈے پہ کام کر رہے ہیں ،عمران خان آپ خود چاہتے ہیں ملک میں افراتفری ہو تاکہ آپ کی ناکامیوں کا کوئی سوال نہ کرے ،پاکستان کی عوام آج کے بجٹ کے بعد مہنگائی کے بد ترین طوفان کی تیاری کرے۔ انہوں نے کہا آج جو بجٹ نالائق اور جھوٹی حکومت پیش کرے گی وہ بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے ، عوام دشمن بجٹ ہو گا، عمران صاحب کی مرضی کے عین مطابق نالائق اور جھوٹی حکومت کا بجٹ عوام کی مزید چیخیں نکالے گا، آج نالائق اور جھوٹی حکومت جو بجٹ پیش کرے گی، اس سے صرف عمران صاحب علیمہ باجی، جہانگیر ترین اور فیصل واڈا کو فائدہ ہو گا باقی سب کی چیخیں نکلیں گیں۔مریم اورنگزیب نے کہا عمران صاحب سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک کو معاشی طور پر مفلوج کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا عمران صاحب ماہ میں خوشحال ، ترقی کرتا ، پر امید ملک پہ مایوسی کے بادل چھا گئے ہیں۔دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کرپٹ لوگ اس وقت وزیراعظم کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں اور جس چور نے تحفظ حاصل کرنا ہے وہ پی ٹی آئی میں چلا جائے اسے نیب سمیت کوئی نہیں پوچھے گا۔اسلام آباد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب نے حمزہ شہباز کو جتنے سوالنامے دئیے وہ بھردئیے، وہ نیب کی ہر پیشی پر گئے، ایک دن کی بچی کا آپریشن چھوڑ کر آئے اور شامل تفتیش رہے، جب یہ کیس شروع ہوا تو نیب نے پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ 87 ارب کی منی لانڈرنگ ہوئی ہے، پھر وہ 33 ارب کی ہوگئی اور آج بالآخر 18 کروڑ پر جا پہنچی ہے، یہ حقیقت ہے جو نیب کے حالات ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کیس 2005 ءسے 2008 ءتک کا ہے جب ملک میں مشرف کی حکومت تھی اور حمزہ شہباز کسی اسمبلی کے رکن نہیں تھے، وہ ایک عام شہری تھی، جن 18 کروڑ کی بات کی گئی وہ ملک سے باہر جانے والے نہیں بلکہ ان کے ملک کے اندر آنے کا الزام ہے، کیا منی لانڈرنگ ملک سے اندر آنے والے پیسے پر ہوتی ہے؟ یہ وہ پیسہ ہے جو حمزہ نے ہر سال اپنے تمام ٹیکس ریٹرن میں دکھایا، یہ رقم چھپی ہوئی نہیں تھی۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ سیاست اور سیاست دانوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے، ہم احتساب سے نہیں گھبراتے، الزام لگائیں لیکن ثبوت عوام کے سامنے رکھیں، جو الزام حمزہ شہباز پر لگایا ہے یہ پاکستان کے ہر اس شخص پر لگتا ہے جس کو باہر سے پیسہ آتا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ خسرو بختیار سے بھی سوال کرلیے جائیں، علیمہ خان اور فیصل واڈا سے پوچھیں، یہاں سے اثاثے باہر بھیجے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں، احتساب سب کا کریں لیکن وہ معیار سب کے ساتھ ہونا چاہیے، جو سوالنامہ ہمیں دیا گیا وہ عمران خان بھی بھرکر عوام کے سامنے رکھ دیں، بتائیں عوام کو حمزہ نے کون سا جرم کیا ہے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج وزیراعظم خوش ہیں کہ لوگ کرپشن میں گرفتار ہوئے، کرپٹ لوگ ان کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں، ان کو بھی گرفتار کریں، جس ملک کا وزیراعظم ٹیکس چور ہو، ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا ہو، پھر وہ صبح تقریر کرکے ہمیں کہے ٹیکس ادا کرو، معیشت تباہ اس لیے ہوئی ہے کہ دوہرے معیار ہیں، حکومت اعتماد کھوچکی ہے، لوگ سرمایہ کاری کو تیار نہیں۔لیگی رہنما نے دعویٰ کیا کہ بطور وزیراعظم ہمارا ریکارڈ حکومت کے پاس ہے، حکومت نیب کو لکھے کہ کس وزیر نے محکمے میں کرپشن کی، احسن اقبال نے ہزاروں ارب کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا ایک روپے کی کرپشن سامنے نہیں آئی۔

مسلم لیگ (ن)

مزید :

علاقائی -