پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا متمنی ہے،سیکرٹری خارجہ

پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا متمنی ہے،سیکرٹری خارجہ

  

اسلام آباد (آئی این پی ) سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ قریبی برادرانہ تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے، افغانوں کوقابل قبول اور افغانوں کی اپنی قیادت میں ہونے والے اجتماعی مفاہمتی عمل کے ذریعے سے ہی پائیدار امن اور استحکام کا مقصد حاصل کیاجاسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اورافغانستان میں امن واخوت کی حکمت عملی(اے پی اے پی پی ایس )کا پہلا جائزہ اجلاس اسلاآباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکریڑی خارجہ سہیل محمود نے پاکستانی وفد کی قیادت کی جبکہ نائب وزیر خارجہ ادریس زمان نے مختلف اداروں کے نمائندوں پر مشتمل افغان وفد کی نمائندگی کی۔ یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مئی 2018 میں اے پی اے پی پی ایس کا قیام عمل میں آیا تھا جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں جامع اور ادارہ جاتی فریم ورک کے نظم میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا تھا۔ یہ طریقہ کار پانچ ورکنگ گروپس کے ذریعے کام کرتا ہے جن میں سیاسی وسفارتی، فوج کے فوج کی سطح پر تعاون، انٹیلی جنس تعاون، معیشت اور مہاجرین سے متعلق امور کا گروپ شامل ہے۔ سیکریٹری خارجہ نے اجلاس میں پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان باہمی اعتماد اور دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں افغانستان کے ساتھ قریبی برادرانہ تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔ اس عزم کو دہرایاگیا کہ پاکستان پرامن، مستحکم، متحد اور خوشحال افغانستان کا مطمنی ہے جو داخلی سطح پر بھی پرامن ہو اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ بھی امن وآشتی کا حامل ہو۔ پاکستان نے اس امر پر بھی زوردیا کہ افغانوں کوقابل قبول اور افغانوں کی اپنی قیادت میں ہونے والے اجتماعی مفاہمتی عمل کے ذریعے سے ہی پائیدار امن اور استحکام کا مقصد حاصل کیاجاسکتا ہے۔ اجلاس میں پانچ ورکنگ گروپس کے سربراہان نے اپنے اپنے شعبہ جات میں ہونے والی پیشرفت پر روشنی ڈالی۔ مستقبل میں تعاون کو مزید بڑھانے بالخصوص متعلقہ اداروں کے درمیان موجودہ تعاون میں وسعت کے لئے ایکشن پلانز پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس ضمن میں سیاسی، سفارتی، سلامتی، تجارت، معیشت، ثقافت، تعلیم، کھیل کے شعبوں اور عوامی سطح پر روابط میں اضافے کی اہمیت کو اجاگرکیاگیا۔ اتفاق کیاگیا کہ اے پی اے پی پی ایس ایک بہترین فورم ہے جس کے ذریعے درپیش چیلنجوں پر قابو پایاجاسکتا ہے اور دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت سے ہمکنار کیاجاسکتا ہے۔

سیکریڑی خارجہ

مزید :

علاقائی -