جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس پرسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن تقسیم

جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس پرسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن تقسیم

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر احتجاج کے معاملہ پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں میں بھی پھوٹ پڑ گئی ۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری عظمت اللہ چودھری ، پنجاب سے نائب صدر ملک کرامت اعوان اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران لیاقت علی ،ثمینہ فیض درانی ، جاوید چودھری اور رانا غلام سرور نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی ریفرنس کے خلاف جو بیانات دے رہے ہیں،وہ ان کی ذاتی رائے ہے ، ہم جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کاجائزہ لے رہے ہیں،امان اللہ کنرانی نے متعدد ٹی وی شوز کئے اور جس رائے کا اظہار کیا،اس سے تاثر یہ جا رہا ہے کہ احتجاج کے فیصلے میں بار کے تمام عہدیداروں کی رائے شامل ہے،انہوںنے کہا کہ اس سلسلے میں نہ کوئی قرار داد اور نہ ہی کوئی ایگزیکٹو کمیٹی سے مشاورت کی گئی، یہ ملک احتساب کے عمل سے گزر رہا ہے، عام عوام، سیاستدان اور بیورو کریٹ بھی احتساب کے عمل سے گزر رہے ہیں، فوج میں بھی احتساب کا عمل جاری ہے، آج اگر احتساب کا عمل رک گیا تو شاید کبھی دوبارہ احتساب کا موقع نہ ملے، سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری نے کہا کہ مسٹرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے انتہائی قابل احترام اور قابل جج ہیں، ان کے خلاف ریفرنس پر ابھی سماعت ہوناہے اور معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ہے جوآئینی ادارہ ہے، سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التواء تمام ریفرنسسز نمٹا دینے چاہئیں، چند لوگ ذاتی مفادات کی خاطر اس معاملہ کو اٹھا رہے ہیں، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی کا موقف سپریم کورٹ بار کا موقف نہیں ہے، صدر سپریم کورٹ بار کی زبان انتہائی توہین آمیز ہے جس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے، انہوںنے کہا کہ امان اللہ کنرانی کے خلاف اگر 150 ممبران نے قرار داد پیش کی تو اسے جنرل ہاﺅس میں ضرور پیش کی جائے گا۔

مزید :

علاقائی -