جرمنی میں مسلمانوں کو دھمکی آمیز خطوط،2مساجد پر پتھراؤ،قرآنی نسخے شہید

جرمنی میں مسلمانوں کو دھمکی آمیز خطوط،2مساجد پر پتھراؤ،قرآنی نسخے شہید

  

بریمین(مانیٹرنگ ڈیسک،صباح نیوز) جرمنی کی دو مساجد انتہا پسندوں کے نشانے پر،نارتھ ویسٹ بریمین میں واقع مسجد میں شرپسندوں نے حملہ کر کے 50 کے قریب قرآن پاک کے نسخوں کو شہید کر دیا جبکہ دوسرا واقعہ کیسل شہر میں پیش آیا،جہاں شر پسندوں نے سنگ باری کی۔ کیسل شہر کی مرکزی مسجد ترکی اسلامی یونین برائے مذہبی امور کے زیر اہتمام چلائی جاتی ہے،مسجد فاؤنڈیشن کے چیئرمین نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے مسجد پر پتھر پھینکے جس سے اس کی کھڑکیوں کو نقصان پہنچا تاہم کوئی بھی مسجد میں موجود نہ تھا جس کے باعث کوئی زخمی نہیں ہوا۔ سنگ باری کے متعلق کہا گیا وہ نامعلوم ملزمان کی جانب سے کی گئی ہے۔ جرمنی کے شہر بریمین میں زیادہ تر پاکستانی اور افغان باشندے آباد ہیں۔ شہر میں پیش آنے والے واقعہ پر وہاں موجود مسلمان برادری اپنے ردعمل اور افسوس کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کی روک تھام ہونی چاہئے۔پولیس کی جانب سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے،واضح رہے کہ پچھلے ماہ 31 مئی کو انتہا پسندوں نے ایک 16 سالہ نوجوان کی گردن میں چاقو مار کر اسے شدید زخمی کر دیا تھا،پولیس نے 3 روزقبل حملہ آورکو گرفتار کر لیا تھا،حملوں کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔بتایا گیا ہے کہ جرمنی میں گزشتہ برس مسلمانوں سے نفرت پر مبنی 813 واقعات ریکارڈ کئے گئے جبکہ 54 مسلمان ان حملوں میں زخمی ہوئے۔بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے متعدد ترکی نژاد افراد کو نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے تھے جن پر لھا تھا کہ ”تم بھی یہودیوں کی مانند ہو،جلد تم پر حملہ کیا جائیگا“۔جرمنی میں اس وقت 47 لاکھ مسلمان آباد ہیں اور ان میں 30 لاکھ ترکی نژاد ہیں۔

ترکی حملہ

مزید :

علاقائی -