کھاد ڈیلر کو کاروبار سے  روکنے کیخلاف ڈی سی اور  اے سی سے جواب طلب

کھاد ڈیلر کو کاروبار سے  روکنے کیخلاف ڈی سی اور  اے سی سے جواب طلب

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور عبدالشکور پر مشتمل دو رکنی  بنچ نے اورکرزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والے کھاد ڈیلر کو کاروبار سے روکنے کے خلاف دائر رٹ پر ڈپٹی  کمشنر کرم اور اے سی اپر کرم سے جواب مانگ لیا عدالت عالیہ کے فاضل  بنچ نے عرفان علی ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست گزار مصطفی حسین کی رٹ کی سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ نیشنل فرٹیلائزر کمپنی کے ساتھ باقاعدہ ایک رجسٹرڈ ڈیلر ہے جو کرم ایجنسی میں مصنوعی کھاد کی سپلائی کا کام کرتا ہے مئی 2019 میں دو بڑے ٹرالر اسی کھاد کے لائے گئے تاہم وہاں کی ضلعی انتظامیہ نئے درخواست گزار کو ان ٹرالر کو کرم ایجنسی میں خالی کرنے سے روکتے ہوئے واپس کوہاٹ بھیج دیا انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے اس اقدام سے درخواست گزار کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا کیونکہ ان ٹرالر اور کھاد کی ترسیل پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ درخواست گزار کو ضلعی انتظامیہ نے بغیر کسی وجہ کہ اس کے موکل کو کاروبار سے روک رہی ہے جو کہ ائین کی خلاف ورزی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بعض لوگ ضلعی انتظامیہ سے ملکر ان ڈیلروں کی راہ میں روکاوٹ پیدا کرتے ہیں حالانکہ یہ ڈیلر کمپنی کے ساتھ باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ہیں اور ان کے پاس باقاعدہ سرٹیفیکیٹ بھی موجود ہیں جس پر عدالت نے وہاں پر موجود ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل وقار احمد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کرم ایجنسی کے انتظامیہ سے اس حوالے سے معلومات کریں کہ کیوں ایک شخص کو اس کے قانونی کاروبار سے روکا جا رہا ہے عدالت نے مزید سماعت 27 جون تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے ڈپٹی کمنشر کرم اور اسٹنٹ کمشنر اپر کرم کو جواب جمع کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -