حمزہ شہباز لاہور،بانی ایم کیو ایم لندن میں گرفتار،زرداری 10روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے ،جیالوں متوالوں کا احتجاج

حمزہ شہباز لاہور،بانی ایم کیو ایم لندن میں گرفتار،زرداری 10روزہ ریمانڈ پر ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی،نمائندہ خصوصی ،کرائم رپورٹر)لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور مسٹر جسٹس محمد وحید خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواستیںواپس لینے کی بنیاد پر مسترد کردیں جس کے بعد نیب حکام نے انہیں گرفتارکرلیا۔حمزہ شہباز کے وکلاءنے عدالت سے بار بار استدعا کی کہ انہیںفنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کی رپورٹ اورانکوائری کی بابت چیئرمین نیب کی رائے کی نقول فراہم کی جائیں ،جن کی بنیاد پر آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا ریفرنس بنایا گیاہے ۔عدالت کی طرف سے یہ استدعا مسترد کئے جانے کے بعد وکلاءنے ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں اور کہا کہ ان نقول کی عدم فراہمی کی صورت میں ان درخواستوں پر بحث کرنا بے سود ہوگا۔حمزہ شہباز کےخلاف نیب صاف پانی کیس، رمضان شوگر ملز کیس اور آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے کیس کی انکوائری کررہاہے ،صاف پانی کیس میں نیب کے اس بیان کے بعد کہ اس کیس میں حمزہ شہباز کی گرفتاری مطلوب نہیں ، صاف پانی کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پہلے ہی نمٹائی جاچکی ہے ۔گزشتہ روز رمضان شوگرملز کیس اور آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے کیس میں حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت ہوئی ، حمزہ شہباز اپنے تینوں وکلاءسلمان اسلم بٹ، اعظم نذیرتارڑاور امجد پرویز ملک کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نیب کی طرف سے ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیئے ۔حمزہ شہباز کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ یہ ریفرنس فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو )کی رپورٹ پر بنایا گیاہے ،ایف ایم یو کی رپورٹ پر نیب کو کارروائی کا اختیار ہی نہیں، ایف ایم یو کی رپورٹ اس کیس کا دل ہے اور میں اپنی درخواستوں کے حالات وواقعات پربحث نہیں کررہا،مجھے ایف ایم یو کے لیٹر کی نقل فراہم کی جائے ،اس سلسلے میں میں نے متفرق درخواست دائر کررکھی ہے ،پہلے اس کا فیصلہ کیا جائے ،نیب کا کیس ایف ایم یو کی رپورٹ کی بنیاد پر قائم کیا گیاہے ،جس پر بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ نے آئینی درخواست کے تحت ضمانت طلب کررکھی ہے ،اس درخواست پر ایف ایم یو کی رپورٹ کی نقل فراہم کرنے کا حکم نہیں دیا جاسکتا،جس پر سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ آپ نے میرا موقف سنے بغیر ہی میری متفرق درخواست خارج کر دی ہے،جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ بنیادی درخواست پر دلائل دیں۔سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اب بنیادی درخواست ضمانت پر بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا،میں سپریم کورٹ جاﺅں گا، عدالت نے نیب کے وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت کی تو حمزہ شہباز کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ اگر مجھے نہیں سنا جائے گا تو میں اپنی درخواستیں واپس لیتا ہوں،جس پر فاضل بنچ نے درخواستیں واپس لینے کی بنا پر مسترد کردیں۔اس سے قبل کیس کی سماعت شروع ہوئی تو نیب کی طرف سے حمزہ شہباز کےخلاف رپورٹ پیش کرتے ہوئے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے موقف اختیار کیا کہ 2015ءمیں 36 کروڑ روپے سے مقامی آبادیوں کے نام پر رمضان شوگر ملز کےلئے نالہ تعمیر کیا گیا، حکومتی محکموں نے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی خوشنودی کےلئے مقامی آبادیوں کے فنڈز رمضان شوگر ملز کےلئے استعمال کئے،قانون عوامی نمائندوں کو اختیار ات سے تجاوز کی اجازت نہیں دیتا ۔ حمزہ شہباز کے ہاتھ کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں، وہ ملک سے فرار ہونے یا منظر عام سے غائب ہونے کی کوشش کررہے ہیں، حمزہ شہباز نے 12 کمپنیز کرپشن سے بنائیں اورجعلی اکاو¿نٹس کا جال بنا، حمزہ شہباز نے 2 ارب روپے کرپشن سے حاصل کئے اور اسی رقم سے اپنی کمپنیز بنائیں، حمزہ شہباز اپنی کرپشن سے خوفزدہ ہیں، غیر قانونی طور پر عبوری ضمانت میں توسیع چاہتے ہیں، حمزہ کی درخواست ضمانت ناقابل سماعت ہے، جرمانہ عائد کرکے یہ درخواستیںمسترد کی جائیں ، حمزہ شہباز کی طرف سے سلمان اسلم بٹ ایڈووکیٹ نے دلائل شروع کئے اور کہا کہ عدالت عالیہ کے 2 رکنی بنچ نے 8 اپریل کو حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت منظور کی، انہوںنے کہا کہ ایف ایم یو کا لیٹر اس کیس کا دل ہے، ہم نے متفرق درخواست دائر کررکھی ہے ،جس میں چیئرمین نیب کے انکوائری پر رائے دینے سے متعلق دستاویزات فراہم کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے ،نیب آرڈیننس کی دفعہ 18 (سی) کے تحت کسی بھی ملزم کے خلاف انکوائری اور تفتیش پر چیئرمین نیب رائے دینے کا پابند ہے،جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپ آئینی درخواست میں عبوری ضمانت مانگ رہے ہیں، یہ دفعہ ٹرائل پر لاگو ہوتی ہے، سلمان اسلم بٹ ایڈووکیٹ نے کہا عدالت دلائل سن لے، باقی فیصلہ کرنا عدالت کا اختیار ہے، عدالت نے کہا کیااس کیس میں وارنٹ گرفتاری چیئرمین نیب نے خود جاری کئے؟ حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ جی ہاں!چیئرمین نیب نے حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ اس معاملے کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتاہے یانہیں،یہ امر متنازعہ ہے ۔آپ اپیل میںنہیں بلکہ آئینی درخواست لےکر یہاں آئے ہیں، سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ کیا نیب نے اپنے چیئرمین کی رائے کے بغیر ہی انکوائری شروع کردی ،کیا ایسا ہوسکتاہے،عدالت نے کہا ہم سے سوال نہ کریں جو پوچھا ہے اس کا جواب دیں، کیا یہ قابل دست اندازی جرم ہے؟حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا یہ ناقابل ضمانت جرم ہے، میری استدعا ہے کہ چیئرمین نیب کی رائے کی کاپی فراہم کی جائے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا ابھی یہ موقع نہیں ہے کہ آپکو کاپی فراہم کی جائے، آپ آگے چلیں، سلمان اسلم بٹ ایڈووکیٹ نے کہا کہ آپ اس پر فیصلہ کر دیں، جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ آپکی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فاضل جج نے نیب کے وکیل سے کہا کہ آپ یہ بتائیں حمزہ شہباز کےخلاف کیا مواد ہے؟ ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ حمزہ شہباز کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں، منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کو طلبی کے نوٹسز بھیجے گئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کتنے نوٹس بھیجے؟نیب کے وکیل نے کہا ملزم کو طلبی کے 7 نوٹس بھیجے گئے مگر ملزم حمزہ شہباز پیش نہیں ہوئے ،نیب کی رپورٹ میں تمام تفیصلات بتائی گئی ہیں، ملزم کے قرضوں، انویسٹمنٹس، بینک اکاﺅنٹس کی تفصیلات موجود ہیں، فاضل جج نے کہا کہ جو بھی فیصلہ ہوگا،قانون کے مطابق ہو گا تسلی رکھیں، ہمیں صرف یہ بتائیں ملزم کےخلاف آپکے پاس کیا ثبوت ہیں؟ نیب کے وکیل نے کہا حمزہ شہباز نے 2.11بلین کی بیرون ملک سے ترسیلات موصول کیں، جس پر جسٹس وحید خان نے کہا کہ آپ یہ کہاں سے پڑھ رہے ہیں، آپ کی رپورٹ میں تواس کا ذکر نہیں ہے، جس پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں گرفتاری کی وجوہات سے پڑھ رہا ہوں اور رپورٹ کے پیرا گراف نمبر3 میں بھی اس کاذکر ہے، ابھی جو بھی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ ملزم نے 388 ملین روپے 2001 ءسے 2017 ءتک غیر قانونی طور پرحاصل کئے، عدالت نے استفسار کیا کیا ملزم تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوا؟ نیب کے وکیل نے کہاجی حمزہ شہباز پیش ہوئے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے پوچھاملزم کتنی بار پیش ہوا، نیب کے وکیل نے کہاحمزہ شہباز 4 بار پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیاحمزہ شہباز نے بیرون ملک ترسیلات پر کیا جواب دیا،نیب کے تفتیشی افسر نے کہا کہ انہوںنے بیرون ملک ترسیلات کا کوئی جواب نہیں دیا، کہتے تھے جواب عدالت میں دیں گے، جعلی لوگوں کے نام سے بیرون ملک سے ترسیلات منگوائی گئیں، عدالت نے پوچھاکیا اس پر حمزہ شہباز نے کوئی جواب دیا کہ باہر کیا کاروبار تھا،اس کیس میں کتنے لوگوں کو شامل تفتیش کیا گیا؟تفتیشی افسر نے کہا کہ اس کیس میں 40 افراد کو شامل تفتیش کیا گیا، ان تمام 40 افراد کے بیانات ریکارڈ کئے گئے ، انہوں نے رقوم بھجوانے سے لاعلمی کا اظہار کیا، حمزہ شہباز نے بیرون ملک کاروبار سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا، حمزہ شہباز کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ میں نے ابھی ضمانت کی درخواست پر دلائل ہی نہیں دیئے،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ہم نے آپ کو تمام نکات اٹھانے کا کہا تھا، سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ ہمیں ایف ایم یو کے خط کی نقل نہیں دی جارہی ،عدالت نے کہا کیا یہ ٹرائل کورٹ ہے؟ آپ ایف ایم یو کی رپورٹ ٹرائل کورٹ سے جا کر لیں۔11بجکر 45منٹ پر حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑنے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ کمرہ عدالت میں رش کی وجہ سے بہت حبس ہو گیا ہے ،انہوںنے استدعا کی کہ کچھ دیر کےلئے وقفہ کرلیا جائے جس پر فاضل بنچ سماعت سوا12بجے دوپہر تک ملتوی کردی ،وقفہ کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو حمزہ شہباز کے وکیل نے ایک مرتبہ پھر ایف ایم یو اور چیئرمین نیب کی رائے سے متعلق رپورٹ فراہم کرنے کی استدعا کی جو عدالت نے مسترد کردی جس پر حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواستیں واپس لے لی گئیں ،فاضل بنچ نے درخواستیں واپس لینے کی بنا پر مسترد کردیں جس کے بعد نیب حکام نے کمرہ عدالت میں ہی حمزہ شہباز کو حراست میں لے لیا،بعدازاں انہیں نیب ہیڈ کوارٹر لاہور منتقل کردیا گیا۔انہیں آج 12جون کو احتساب عدالت میں پیش کر کے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے رہنماحمزہ شہباز نے اپنے کیس کی پیشی کے موقع پر لاہور ہائی کورٹ کے احاطہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کوئی کرپشن نہیں کی، میں نے نیب کو چیلنج کیا تھا ،ایک دھیلے کی کرپشن کا ثبوت بھی لے آئیں تومیںسیاست چھوڑ دوں گا،انہوںنے کہا کہ میرے لئے یہ جیلیں نئی نہیں ہیں،دوسری طرف ان کی گرفتاری پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے کمرہ عدالت ، ہائی کورٹ کے احاطہ اور مال روڈ جی پی او چوک میں زبردست احتجاج کیا اور نعرے بازی کی ۔حمزہ شہباز نے اپنی گرفتاری کے حوالے سے ایک شعر بھی پڑھا کہ ،،جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے ،،،یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں،،،حمزہ شہبا زنے مزید کہا کہ میں پہلے بھی کہ چکا ہوں یہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے ،فردوس عاشق اعوان ایک دن پہلے ہی زرداری صاحب کی گرفتاری کا بتا دیتی ہیں، میرے بارے میں چیئرمین نیب فرما چکے ہیں کہ حمزہ کوگرفتار کرنا ہے،آج قوم دیکھے گی چیئرمین نیب کی خواہش کی تکمیل ہوتی ہے یا انصاف کی جیت، حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کی بنا پر مستردکرنے کے بعد فاضل جج اٹھ کر چیمبر میں گئے تو کمرہ عدالت میں موجود مسلم لیگ (ن) کے وکلاءاور کارکنوں نے نعرے بازی شروع کردی ، انہوں نے شیر ،شیر کے نعرے لگائے ،یونہی یہ اطلاع کمرہ عدالت سے باہر عدالت عالیہ کے احاطہ میں موجود کارکنوں تک پہنچی ،انہوںنے بھی نعرے بازی شروع کردی ، انہوں نے گو نیازی گو ،شیر ،شیر ،ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے ،جیسے نعرے لگائے ۔نیب حکام کی طرف سے حمزہ شہباز کی گرفتاری پر لاہور ہائیکورٹ کے باہر بھی مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی جس کے باعث جی پی اوچوک مال روڈ پر ٹریفک معطل ہوگئی ، حمزہ شہباز کی گرفتاری کے موقع پر کمرہ عدالت میں وکلاء،مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان دھکم پیل ہوئی جس سے کمرہ عدالت کے مرکزی دروازے کو نقصان پہنچااور شیشے ٹوٹ گئے ۔کارکن کمرہ عدالت میں کرسیوں اور میزوں پر چڑھ گئے ،کمرہ عدالت میں لگا پنکھا بھی ٹوٹ کر نیچے جا گرا۔کارکن خواتین نے حمزہ شہباز کے بازو پر امام ضامن باندھا،اس سے قبل دوران سماعت کمرہ عدالت میں ہجوم کے باعث ایک لیگی کارکن کی طبیعت خراب ہوگئی،جس پر فاضل بنچ نے اسے پانی پلانے کی ہدایت کی اور بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ غیر متعلقہ افراد کمرہ عدالت سے چلے جائیں، گرمی کافی ہے، انہوںنے مزید کہا کہ آپ لوگ کمرہ عدالت میں رہ کر کیس میں کچھ بھی اضافہ نہیں کر رہے۔حمزہ شہباز کی آمد کے پیش نظر لاہور ہائی کورٹ میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے ، درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے باہر رینجرز بھی تعینات کردی گئی ۔علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما وپنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاںحمزہ شہباز کی گرفتار ی کے خلاف لاہور کے 18 سے زائد مقامات پر لیگی ممبران اسمبلی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے اورحکومت مخالف نعرے بازی کی گئی،گونیازی گونیازی،مک گیاتیراشو نیازی، نیب نیازی گٹھ جوڑنامنظور،نامنظور،، مہنگائی سے توجہ ہٹانے کے لئے اپوزیشن رہنماوں کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں،اب حکمرانوں کا جانا ٹھہر گیا ہے، لیگی اررکان اسمبلی اور رہنماوں نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خسرو بختیار ، علیمہ خان، فیصل واڈا،جہانگیر ترین سے بھی سوالنامے کئے جائیں اور ان سے پوچھیں، یہاں سے اثاثے باہر بھیجے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں، احتساب سب کا کریں لیکن وہ معیار سب کے ساتھ ہونا چاہیے، جو سوالنامہ ہمیں دیا گیا وہ عمران خان بھی بھرکر عوام کے سامنے رکھیں، بتائیں عوام کو، حمزہ نے کون سا جرم کیا ہے۔گذشتہ روز لاہور میں حمزہ شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف مختلف مقامات پراحتجاجی مظاہرے کئے گئے ، حمزہ شہبازکی فوری گرفتاری کے بعد وکلا اورلیگی کارکنان کی بڑی تعدادجی پی او چوک جمع ہوگئی، ٹائرجلاکرٹریفک بندکردیا اور حکومت کے خلاف خوب نعرے بازی کی،شاہدرہ موڑپر سمیع اللہ خان، شاہدچندا،حشمت شاہ،بادامی باغ میں غزالی سلیم بٹ، مشتاق مغل، یتیم خانہ چوک پرمہرمحمود، چوہدری باقر،اچھرہ موڑ پر توصیف شاہ، میاں طارق، مغل پورہ چوک پرملک وحید، گڑھی شاہوچوک پر کرنل مبشرجاوید،رانااحسن شرافت،چوبرجی چوک میں میاں غوب احمد،جی ٹی روڈ مناواں پر سہیل شوکت بٹ، بھاٹی چوک میں مجتبی شجاع الرحمن، دستگیرشاہ، صبغت اللہ سلطان، چونگی امرسدھو،داروغہ والا چوک میں چوہدری علی عدنان، حاجی امداد،شیخ روحیل اصغر،،رانامبشراقبال،راناخالدقادری، جنرل ہسپتال رمضان صدیق بھٹی، اسلام پورہ چوک سیدمحمدعظمت، شوکت خانم چوک سیف الملوک کھوکھر، میاں پلازہ جوہرٹاﺅن میں ملک افضل کھوکھر، اکبرچوک ٹاﺅن شپ میں میاں محمدسلیم، شالیمارچوک میں خواجہ عمران نذیر، چوہدری شہبازاحمد،سمن آباد موڑپر ،گوالمنڈی چوک پر ندیم وائیں، عرفان بٹ،رانامشہوداحمدکی قیادت میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے، ٹائرجلاکرٹریفک کو بلاک کیاگیا، حکومت کے خلاف شدیدنعرے بازی کی گئی، گونیازی گو،مک گیاتیراشو نیازی،نیب نیازی گٹھ جوڑ نامنظور،نامنظور جیسے نعرے لگائے گئے۔بعدازاں مظاہریں سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ عمران نذیر،میاں مرغوب،غزالی سلیم بٹ، ملک وحید نے کہا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم احتساب سے نہیں گھبراتے، الزام لگائیں لیکن ثبوت عوام کے سامنے رکھیں، جو الزام حمزہ شہباز پر لگایا ہے یہ پاکستان کے ہر اس شخص پر لگتا ہے جس کو باہر سے پیسہ آتا ہے۔ یہ صرف عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ایسا کیا گیا ہے لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اب نیازی حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے،انہوں نے کہا کہ یہ کیس2005 سے 2008 تک کا ہے جب ملک میں مشرف کی حکومت تھی اور حمزہ شہباز کسی اسمبلی کے رکن نہیں تھے، وہ ایک عام شہری تھی، جن 18 کروڑ کی بات کی گئی وہ ملک سے باہر جانے والے نہیں بلکہ ان کے ملک کے اندر آنے کا الزام ہے، کیا منی لانڈرنگ ملک سے اندر آنے والے پیسے پر ہوتی ہے؟ یہ وہ پیسہ ہے جو حمزہ نے ہر سال اپنے تمام ٹیکس ریٹرن میں دکھایا، یہ رقم چھپی ہوئی نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ ہم احتساب سے نہیں ڈرتے، یہ گرفتاریاں ہماری لئے نئی نہیں، اس حکومت کے پاﺅں اکھڑ چکے ہیں، اس لئے وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے، اب گلی گلی محلے محلے احتجاجی شرو ع ہوں گے،دمادم مست قلندرہوگا،یہ حکومت اب چند ماہ کی مہمان ہے۔مال روڈ پر لیگی کارکنوں کے احتجاج کے باعث ٹریفک کا شدید دباو¿رہاگاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے شہری اذیت سے دوچار رہے۔

حمزہ شہباز 

لندن،کراچی،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں ) سکاٹ لینڈ یارڈ نے ایم کیو ایم کے بانی کو لندن میں گرفتار کر کے مقامی پولیس سٹیشن منتقل کردیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق سکاٹ لینڈ یارڈ نے صبح سویرے بانی ایم کیوایم کے گھر پر چھاپہ مارا جسکے بعد انہیں گرفتار کر کے مقامی پولیس سٹیشن لے جایا گیا۔شمالی لندن میں بانی ایم کیو ایم کی رہائش گاہ پر چھاپے میں 15پولیس افسروں نے حصہ لیا۔بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری ممکنہ طور پر 2016 ءکی نفرت انگیز تقریر پر کی گئی ہے۔ ایم کیو ایم کے ذرائع نے بھی گرفتاری کی تصدیق کی ہے، بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کے بعد ان کے گھر کی تلاشی لی گئی ۔سکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے حکومت پاکستان کو اس حوالے سے پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا جبکہ بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کے بعد بھی پاکستانی حکام کو آگاہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم لندن میں بانی ایم کیو ایم سے تفتیش کرے گی۔دوسری طرف لندن میں گرفتار ی کے بعد کراچی شہر کے تمام علاقوں میں سکیورٹی انتظامات فول پروف کرنے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے کراچی کے تمام ضلعوں میں ایس ایس پیز کو احکامات دیتے ہوئے کہاکہ ایس ایس پیز اور ایس ایچ اوز اپنی حدود میں پٹرولنگ پر نکلیں۔انہوں نے قانون کی خلاف ورزی پر پولیس کو ایکشن کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کا امن خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔علاوہ ازیں وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ بانی ایم کیوایم کو برطانوی حکومت نے گرفتار کیا ہے ہمارا اس سے کیا تعلق ؟ بانی ایم کیو ایم برطانوی شہری ہیں کس نے کہا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں،بانی ایم کیو ایم کو برطانوی اداروں نے گرفتار کیا ہے انہیں تفتیش کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹرپول سے رابطہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ 

بانی ایم کیوایم گرفتار

 اسلام آباد،کراچی،لاہور،باجوڑ(اسٹاف رپورٹر‘ مانیٹرنگ ڈیسک، نمائندہ خصوصی،نیوز ایجنسیاں ) احتساب عدالت نے جعلی اکاو¿نٹس کیس میں گرفتار سابق صدر مملکت آصف زرداری کو 10 روز ہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔قومی احتساب بیورو نے گزشتہ روز سابق صدر کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔دورانِ سماعت پراسیکیوٹر نیب مظفر عباسی نے مو¿قف اختیار کیا کہ بینک حکام کی معاونت سے جعلی بینک اکاو¿نٹس کھولے گئے، ملزم کو گرفتار کیا ہے، تفتیش کےلئے ریمانڈ کی ضرورت ہے۔جج ارشد ملک نے استفسار کیا آصف زرداری کو کن بنیادوں پر گرفتار کیا پہلے یہ بتائیں جس پر پراسیکیوٹر نیب نے تفصیلات سے عدالت آگاہ کرتے ہوئے احتساب عدالت سے آصف زرداری کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔احتساب عدالت نے تقریباً ایک گھنٹہ بعد فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر کا 10 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں نیب کے حوالے کرتے ہوئے آصف زرداری کو 21 جون کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ۔سابق صدر کی احتساب عدالت پیشی کے موقع پر پولیس کے 300 اہلکار نیب راولپنڈی کے دفتر اور 500 اہلکار احتساب عدالت کے باہر تعینات تھے جبکہ رینجرز اہلکار بھی گشت پر ہیں تھے۔احتساب عدالت میں میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری نے اپنی گرفتاری سے متعلق کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو کچھ بھی پتہ نہیں ، سب وزیر داخلہ کرا رہا ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ گرفتاری تیسری دنیا کے ممالک میں سیاست کا حسن ہے، میری گرفتاری پیپلز پارٹی کو دباﺅ میں لانے کی تدبیر ہیں، میں نے کہا تھا چیئرمین نیب کی کیا مجال، سب حکومت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف منتخب نہیں تھے اس لیے جیل جانے کو تیار نہیں، مشرف نے ووٹ نہیں مانگنے جانا ہمیں ووٹ مانگنے جانا ہے۔ صحافی نے سابق صدر سے سوال کیا کہ جیسے نواز شریف کو پارلیمنٹ سے آو¿ٹ کیا گیا، کیا آپ پر بھی وہی فارمولا اپلائی کیا جارہا ہے؟ اس پر آصف زرداری نے جواب دیا کہ فرق کیا پڑے گا؟ میں نہیں ہوں گا تو بلاول ہوگا، بلاول نہیں ہوگا تو آصفہ ہوگی۔سابق صدر نے کہا کہ میرے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا، ہم نے تو سزائے موت پر بھی پابندی لگا رکھی تھی۔ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ عمران خان کو لندن بھاگتے دیکھ رہا ہوں۔صحافی نے سوال کیا کہ نواز شریف نے میمو گیٹ پر اظہار افسوس کیا، آپ کو بلوچستان حکومت گرانے پر افسوس ہے؟ اس پر سابق صدر نے کہاکہ سیاست میں انسان کو پوزیشن لینا پڑتی ہے۔ قبل ازیںنیب نے جعلی اکاﺅنٹس کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری کو احتساب عدالت پہنچا یا تو سابق صدر جوڈیشل کمپلیکس داخل ہوتے ہی مسکرانا شروع ہو گئے اور مسکراتے ہوئے کمرہ عدالت پہنچے۔آصف علی زرداری نے جج کی آمد سے قبل کمرہ عدالت میں سگریٹ سلگا کر ٹینشن کو دھوئیں میں اڑا دیا اور اس دوران بھی وہ مسکراتے رہے۔بعدازاں سابق صدر نے سگریٹ اپنی سیکرٹری رخسانہ بنگش کو دی اور انہوں نے سگریٹ بجھائی۔ سابق صدرنے پھر دوسراسگریٹ بھی سلگا لیا،آصف زرداری کے ساتھ والی نشست پر وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ موجود تھے ۔سابق صدرنے سگریٹ کے کش کے بعد موبائل فون پر خوشگوار موڈ میں گپ شپ بھی کی۔دوسری طرف پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف علی زرداری کی گرفتاری کےخلاف جیالوں نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے۔سندھ میں سکیورٹی بھی ہائی الرٹ رہی جبکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کےلئے پولیس اور رینجرز کی جانب سے حیدرآباد میں مشترکہ فلیگ مارچ اور گشت کیا گیا۔باجوڑ میںمظاہرین نے پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت انتقامی کارروائیوں پر اتر آئی ہے اور اس کے باوجود ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ ٹنڈو محمد خان میں پیپلز پارٹی کے کارکنان نے پھلیلی پ±ل پر مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑک کو بلاک کردیا جبکہ گھوٹکی میں بشیر آباد سے مین چوک اوباڑو تک جیالوں کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ٹھٹھہ میں ٹاو¿ن کمیٹی سے مین شاہراہ تک کارکنوں نے ریلی نکالی ۔بدین میں آصف زرداری کی گرفتاری خلاف ٹنڈو باگو میں جیالوں نے پریس کلب کے سامنے احتجاج اور مہران چوک سے ایوان صحافت تک مارچ کیا جبکہ میرپور خاص میں سٹی آفس کے سامنے احتجاج کیا گیا۔مظفر گڑھ میں کچہری چوک پر بھی مظاہرین کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں نیئرحسین بخاری،سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر اورپیپلزپارٹی خیبر پختونخوا کے صدر محمد ہمایوں خان نے اپنے بیانات میں کہا کہ آصف علی زرداری کو لگنے والی ہتھکڑی عمران نیازی کی سیاسی موت کا پھندا ثابت ہوگا،حکمران اپنے منہ پر جتنی کالک مل سکتے ہیں مل لیں۔انہوں نے کہا کہ گرفتاریاں ثبوت ہیں کہ سلیکٹڈ سرکار اپوزیشن سے ڈر گئی ہے جبکہ ہم گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے لہٰذا اب ایسے دریا جھوم کر اٹھیں گے جو تنکوں سے ٹالے نہیں جاسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم تو چاہتے تھے کہ حکومت وقت اور وعدے پورے کرے، لگتا ہے خان صاحب کو خود جانے کی جلدی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری بھاگنے والے لیڈر نہیں،قیادت نے کال دی تو جیالے سڑکوں پر نکل کر حکومت کا پہیہ جام کردیں گے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف لاہور پریس کلب کے باہر بھر پور احتجاج اور دھرنا دیا گیا ۔ جیالے حکومت مخالف اور آصف علی زرداری کی حمایت میں نعرہ بازی کرتے رہے ۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی خواتین ونگ پنجاب کی صدر بیگم ثمینہ گھرکی ،صدر شعبہ خواتین لاہور نرگس خان‘ جنرل سیکرٹری لاہور شعبہ خواتین سونیا خان‘ سابق ایم پی اے فائزہ ملک ، صغیرہ شاہ ، پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی ، لاہور کے نائب صدر اشرف بھٹی ، جنرل سیکرٹی لاہور اسرار بٹ ، و قا ص منشا ءپر نس ، نصیر احمد‘ خرم فاروق ایڈووکیٹ ‘ شیخ عرفان ایڈووکیٹ ‘ امجد علی جٹ‘ حافظ اشرف اور حمزہ شکور سمیت کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔

زرداری/ریمانڈ

مزید :

صفحہ اول -