ایڈورڈز کالج پشاور کی خودمختاری کیلئے گورنر کی سربراہی میں بورڈز کی بحالی کیلئے رٹ دائر

ایڈورڈز کالج پشاور کی خودمختاری کیلئے گورنر کی سربراہی میں بورڈز کی بحالی ...

  

پشاور(نیوزرپورٹر)خیبر پختون خوا کے قدیمی تعلیمی ادارے ایڈورڈز کالج پشاور کو خود مختار ادارہ قرار دینے اور گورنر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں بورڈآف گورنرز کی بحالی کیلئے پشاور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دی گئی ہے رٹ فیکلٹی ممبران نے علی گوہر درانی  ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایڈورڈز کالج کو خود مختار ادارہ قرار دیکر اس کے تمام اختیارات کا زمہ دار  بورڈ اف گورنرز کو قرار دیا جائے اور بشپ پشاور کی جانب سے ذاتی طور پر تشکیل کردہ بورڈ آف گورنرز اور اس کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جائے رٹ پٹیشن میں خیبر پختون خوا حکومت کو بذریعہ چیف سیکرٹری، بشپ آف پشاور،سیکرٹری ہائیرایجوکیشن، پرنسپل ایڈورڈز کالج اور  سیکرٹری فنانس کو فریق بنایا گیا ہے رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایڈورڈز کالج خیبر پختونخوا کا پرانا تعلیمی ادارہ ہے جو 1900 میں قائم ہوا تاہم 1972 میں ایک اعلامیہ کے زریعے حکومت نے ایسے تمام تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا اور اسی دوران ایڈورڈز کالج کو بھی قومی تحویل میں لیکر اس کے لئے گورنر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں بورڈ آف گورنرز تشکیل دیا جو اس کی تمام انتظامی اور مالی امور سمیت ملازمین کی پروموشن، تقرری کی ذمہ دار قرار پائی   بورڈز کے چیئرمین گورنر کے ساتھ ساتھ صوبائی وزیرتعلیم بحیثیت وائس پریزیڈنٹ، بشپ آف پشاور وائس پریزیڈنٹ جبکہ کمشنر پشاور، سیکرٹری تعلیم، ڈائریکٹر ایجوکیشن، سٹاف سے ایک ممبر ایڈورڈز کالج کے پرانے طالب علم جس کی نامزدگی چیئرمین جبکہ ایک پرانے طالب علم کی بطور ممبر کی نامزدگی بشپ آف پشاور کو سونپ دی گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ  پرنسپل کو ممبر اور سیکرٹری بنایا گیا رٹ پٹیشن کے مطابق حکومت نے اس حوالے سے کالج کیلئے مختلف مواقعوں پر خطیر رقم مختص کی اور بلاکس کی تعمیر کیلئے ابتدائی طور پر 30 کروڑ روپے کی لاگت سے مختلف بلاکس تعمیر کئے گئے اس کے ساتھ ساتھ پرانے کمشنر ہاوس کی اراضی کو بھی کالج کیلئے مختص کیا گیا جس میں بھی مختلف بلاکس بنائے گئے رٹ میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالج کے تمام امور گورنر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں بورڈ تمام امور کو چلاتا رہا تاہم کچھ عرصہ قبل کالج کے پرنسپل پر اٹھنے والے اعتراضات پر اس حوالے سے کمیٹی بنائی گئی اور بورڈ کی زمہ داری تھی کی وہ اجلاس کا انعقاد کریں تاہم اسی دوران ایک رٹ پٹیشن دائر کی گئی جس میں پشاور ہائیکورٹ سے بہت سے حقائق کو چھپایا گیا اور اس ادارے کو پرائیویٹ ادارہ قرار دیا گیا حالانکہ یہ  پرائیویٹ ادارہ نہیں تھا اور اس حوالے سے باقاعدہ طور پر  1974 میں  جاری کردہ اعلامیہ  موجود ہے جس میں یہ واضح طور پر قرار دیا گیا ہے کہ ایڈورڈز کالج کو بورڈ آف گورنرز ہی چلائے گی جو کہ گورنر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں قائم ہے رٹ پٹیشن کے مطابق کالج کے پرنسپل پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی صاحبزادی، بیٹے اور بہو کو بغیر کسی منظوری کے تعینات کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کالج کی چار گاڑیاں بھی استعمال کررہا ہے رٹ کے مطابق کالج کا معیار روز بروز نیچے آ رہا ہے اور 500 کے قریب طلبا نے کالج سے اسی بنیاد پر مائیگریشن کی کہ کالج اپنی پرانی حیثیت پر بحال نہیں رہا اور کالج کا تعلیمی معیار بھی گر چکا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ پرنسپل کی جانب سے دھڑا دھڑ طلبا کو داخلے دینا اورصرف پیسے کمانا تھا  رٹ پٹیشن کے مطابق بشپ اور پشاور نے ایک خفیہ طریقے سے اپنا ہی بورڈ اف گورنر تشکیل دیا جس میں سے سارے ممبران کو نکال دیا گیا جو کہ غیر قانونی ہے اور اس حوالے سے یہ بات سامنے آئی کہ ایڈورڈز کالج ایک پرائیویٹ ادارہ ہے جس کیلئے گورنر کی کسی بھی حکم کی پابندی ضروری نہیں رٹ کے مطابق پرنسپل کو تنخواہ کالج دیتی ہے چرچ نہیں دیتی اور اس کے ساتھ ساتھ یہی بشپ 20 سال سے اس بورڈ کا ممبر ہے تو کس طرح وہ اس ادارے کو پرائیویٹ ادارہ قرار دے رہا ہے رٹ میں استدعا کی گئی ہے کہ بشپ کی جانب سے کئے گئے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیئے جائیں اوراس کالج کو خود مختار ادارہ قرار دیکر تمام امور نمٹائے جائیں رٹ پٹیشن میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ کالج کے تمام انتظامی امور یہی بورڈ چلائیں گے یہ کہ بشپ اف پشاور کی جانب سے بنایا گیا بورڈ لہذا گورنر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں قائم بورڈ کو برقرار رکھا جائے اور کالج کو پرائیویٹ کی بجائے خود مختار ادارہ قرار دیا جائے جبکہ بشپ اور پشاور کو کالج کے معاملات میں مداخلت سے روکا جائے رٹ کی سماعت ائندہ چند روز میں ہوگی۔

مزید :

صفحہ اول -