پاکستان بار اور خیبرپختونخوا بار کونسل کا 14جون کا عدالتی بائیکاٹ کا فیصلہ مسترد

پاکستان بار اور خیبرپختونخوا بار کونسل کا 14جون کا عدالتی بائیکاٹ کا فیصلہ ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے پاکستان بار کونسل اور خیبرپختونخوا بار کونسل کے ممبران نے 14تاریخ کو ہونے والی عدالتی بائکاٹ کو مسترد کر دیا ہے اور وکلاء  کی تحریک کو جعلی قرار دیا ہے جبکہ پاکستان بار کونسل اور خیبر پختونخوا کونسل نے وکلاء ممبران کو کالائسنس منسوخ کرنے کی دھمکیوں اور وکلاء کو احتجاج پر مجبور کرنے کے حربوں کو مسترد کر دیا ہے۔گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں پاکستان بار کونسل ک ممبر عبدالستار خان ایڈوکیٹ اور خیبرپختونخوا کونسل ممبران شاہ فیصل اتمانخیل ایڈوکیٹ،اعجاز علی خان ایڈوکیٹ،اظہر رحیم ایڈوکیٹ،نجیب اللہ خان ایڈوکیٹ،طاہر وسیم،سردار حثمت نواز،محمد شرین،ملک شاہد رضااور سید شاہ فیصل نے ان خیالات کا اظہار مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔وکلاء ممبران کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی لیڈران وکلاء کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہے اور ایک قانونی مسلے کو پیچدہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے ججز اور صوبائی ججز قابل عزت ہیں تاہم بعض سیاسی لیڈر وکلاء کو اپنی منشاء کیلئے استعمال کرنے کے لئے ملک کے استحکام کو خراب کرنا چاہتے  ہے جس سے وکلاء برادری کوباز رہنا چاہئے جبکہ ملکی حالات بھی اس وقت اس بات کا تقاضہ نہیں کرتی کہ وکلاء برادری اور حکومت کے درمیان عدم استحکا م ہو۔انہوں نے کہا کہ ریفرنس قانونی تقاضوں کے عین مطابق ہے جبکہ اسکو قانون کے مطابق ہی اسکی کارروائی ہونی چاہئے بعد ازاں اگر متعلقہ ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلہ میں کوئی بھی ایسی بات سامنے ائی کہ ریفرنس بد نیاتی یا کسی سازش کے تحت تھا تو ریفرنس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔پاکستان بار کونسل اور خیبرپخونخوا بار کونسل کے ممبران نے حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک قانونی ریفرنس کواپنی سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے والوں سے باز رہے اور وکلاء برادری کو ہڑتالوں اور احتجاج پر مجبور کرنے والے ہر قسم کے ہتکھنڈوں کی مزمت کرتے ہے  

مزید :

صفحہ اول -