مہمند ضلع میں انتخابات کے التواء کی مخالفت کی جائیگی:سیاسی رہنما

مہمند ضلع میں انتخابات کے التواء کی مخالفت کی جائیگی:سیاسی رہنما

  

مہمند (نمائندہ پاکستان) قبائلی ضلع مہمند میں صوبائی الیکشن کے التواء کی بھر پور مخالفت کرینگے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے اُمیدواروں نے الیکشن کی تیاریاں مکمل کی ہیں۔ 2018 ء کی نسبت موجودہ وقت میں امن مکمل طور پر بحال ہو چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مہمند پریس کلب میں سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں عوامی نیشنل پارٹی کے صدر نثار مہمند، جمعیت علمائے اسلام ف کے امیر مولانا مفتی محمد عارف حقانی، پاکستان پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری فضل ہادی، پی ٹی آئی کے رہنماء ملک سلیم خان مہمند نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام پارٹیاں بشمول حکمران پارٹی اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ صوبائی حکومت مقررہ وقت 2 جولائی کو آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات منعقد کریں۔ کیونکہ اُمیدواروں نے دن رات ایک کر کے مشکل حالات میں الیکشن کی تیاریاں شروع کر رکھے ہیں۔نثار مہمند، مولانا محمد عارف حقانی اور فضل ہادی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے الیکشن کمیشن کو 20 روز کے التواء کا جو مراسلہ بھیجا ہے اس میں درج خدشات پہلے والے الیکشنوں کی نسبت انتہائی کم ہے۔ صوبائی حکومت بد امنی کا بہانہ بنا کر الیکشن سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔اور اگر الیکشن کو التواء کا شکار بنایا گیا تو ہم اس کے خلاف کسی قسم کے احتجاج سے گریزنہیں کرینگے۔ کیونکہ ضلع مہمند میں تحریک انصاف بھی صوبائی انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے۔ تمام پارٹیوں اور الیکشن کمیشن نے اپنی تیاریاں مکمل کر رکھی ہے۔ اگر قبائلی ضلع وزیر ستان میں موجودہ حالات صوبائی انتخابات کیلئے ساز گار نہیں تو دوسرے قبائلی اضلاع میں شیڈول کے مطابق الیکشن کا انعقاد قومی ادارے کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کا مہینوں التواء منظور نہیں ہوگا کیونکہ اس سے قبائلی اضلاع کے عوام میں مایوسی پھیلے گی۔ 

مزید :

صفحہ اول -