اثاثہ جات ،منی لانڈرنگ کیس، حمزہ شہباز کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اثاثہ جات ،منی لانڈرنگ کیس، حمزہ شہباز کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اثاثہ جات ،منی لانڈرنگ کیس، حمزہ شہباز کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اورمنی لانڈرنگ کیس میں گرفتارحمزہ شہبازکے جسمانی ریمانڈ کی نیب کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا، عدالت نے حمزہ شہباز کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈپر نیب کے حوالے کردیا اور26 جون کو احتساب عدالت پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثہ جات اورمنی لانڈرنگ کیس میں گرفتارحمزہ شہبازکے جسمانی ریمانڈ کی نیب کی درخواست پرسماعت ہوئی،دوران سماعت نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہبازکوکل ہائیکورٹ سے گرفتارکیاگیا،جج نے استفسار کیا کہ کیاملزم عدالت میں ہے؟وکیل نیب نے کہا کہ حمزہ شہبازکمرہ عدالت میں موجودہیں،جج نے استفسار کیا کہ کیاحمزہ شہبازکوگرفتاری کی وجوہات بتائی گئیں؟وکیل نیب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہبازکوگرفتاری کی وجوہات بتادیں،تفتیشی نے حمزہ شہباز کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہبازکے بینک اکاؤنٹس سے مشکوک ٹرانزیکشنزہوئیں،2003 میں حمزہ شہبازکے اثاثے سوا 2 کروڑروپے تھے،حمزہ شہباز کے اکاوَنٹس میں 500ملین سے زائد جمع ہوئے ،حمزہ شہباز کے اثاثے ان کے ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں ،تفتیشی نے کہاکہ حمزہ شہباز نے آج تک نہیں بتایا کہ باہر سے پیسے کون اور کن ذرائع سے بھجوایا جا رہا ہے ؟

وکیل حمزہ شہباز نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جس قانون کے تحت ریمانڈ عمل میں لایا گیا وہ منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات ہیں ،منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کاایکٹ 2010 میں آیا ہے،منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں آیا جس کا اس سے پہلے کے معاملات پر اطلاق نہیں ہوتا ، وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ نیب کا نمائندہ ٹی وی پر بھی پہلے بات منی لانڈرنگ کی اورپھر اثاثوں کی بات کرتا ہے،منی لانڈرنگ کا لفظ صرف سیاسی طور پر شریف خاندان کو بدنام کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے ، وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ عدالت حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرے ۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہائی کورٹ میں ضمانت کیس میں تمام میٹریل فراہم کر دیا گیا ،جو نوٹس جاری کیے ان میں بھی حمزہ کے خلاف بہت سا مواد منسلک کیا جاتا رہا ،بینک اکاوَنٹ ، ٹرانزیکشن اور جن لوگوں نے رقوم بھیجی وہ تمام تر تفصیل فراہم کر چکے ہیں ، قانون میں گرفتاری کی وجوہات کا کہا گیا ہے جو فراہم کر چکے ہیں ۔عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پرمحفوظ فیصلہ سناتے ہوئے حمزہ شہباز کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈپر نیب کے حوالے کردیا اور26 جون کو احتساب عدالت پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور