کوشش ہوگی کہ ٹیکس وصولیوں کو ممکن بنایا جائے،مشیر خزانہ

کوشش ہوگی کہ ٹیکس وصولیوں کو ممکن بنایا جائے،مشیر خزانہ
کوشش ہوگی کہ ٹیکس وصولیوں کو ممکن بنایا جائے،مشیر خزانہ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ملکی معیشت مشکل حالات سے گزررہی ہے،کل موجودہ حکومت کا پہلا بجٹ پیش کیا گیا، ملکی معیشت کو سیاست سے دور رکھا جائے،اختلاف رائے رکھا جائے جو بحیثیت جمہوری حکومت قبول کریں گے،کوئی بھی بجٹ کو کسی بھی انداز سے پیش کر سکتا ہے،کوئی بجٹ کو آئی ایم ایف کا کہے یا کسی اور کا وہ ان کی مرضی،کوشش ہوگی کہ ٹیکس وصولیوں کو ممکن بنایا جائے۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے پوسٹ بجٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اقتدار میں آئی تو31ہزار ارب کا قرضہ ورثے میں ملا،ڈالر میں لئے گئے قرض ڈالر میں ہی واپس کئے جاتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ایکسپورٹ سیکٹر کو برآمدات بڑھانے کیلئے مراعات دی گئیں ،پاکستان کے عوام کو ملک کےلئے سچاہوناہوگا،اہداف کے حصول کیلئے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا ہوا تو تیار ہیں ،2900ارب ماضی کے قرضوں کی ادائیگی پر سود کیلئے رکھے جا رہے ہیں ،مسلح افواج نے پچھلے سال کا 1150ارب کا بجٹ اسی سطح پر منجمد کیا ،بڑھایا نہیں ،ہم دنیا کو پیغام دے رہے ہیں کہ ہائی لیول لیڈر شپ اکٹھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو غیر ملکی قرض ورثے میں ملا،قرضے اوروں نے لئے لیکن ادا ہمیں کرنے ہیں،ماضی کے قرضوں کا سود دینے کےلئے مزید قرضے لے رہے ہیں،مجموعی محصولات کی آمدن کا نصف قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہوتا ہے،سابق حکومتوں سے پوچھنا چاہیے 31ہزار ارب ڈالر کا قرض کہاں خرچ کیا،3ہزارروپے تک سود دینا ہوگا اس لئے مزید ٹیکس حاصل کرناہوگا، انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے کے امرا ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن پاکستان کے امرا ٹیکس ادا نہیں کرتے،کوئی بھی ٹیکس دینا نہیں چاہتالیکن ٹیکس دینا پڑتاہے۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ کوئی نان فائلر کچھ بھی خریدے گا وہ فائلر بنے گا،20لاکھ کی گاڑی خریدنے والے کو ذرائع آمدن بتانا ہوگا، نان فائلرچند منٹ میں فائلر بن سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نہ بننے والے خام مال پر ٹیکس ڈیوٹی ختم کردی،اگر کوئی مینو فیکچرر بیرون ملک چیز فروخت کررہا ہے اس سے ٹیکس نہیں لیا جائے گالیکن جومصنوعات پاکستان میں فروخت ہوگی اس پر ٹیکس دینا ہوگا، انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائیل کی فروخت 12 سو ارب روپے اور ٹیکس 6 سے 8 ارب روپے ملتا ہے،ٹیکسٹائیل سیکٹر کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی،مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ برآمدات میں شرح نموصفر فیصد ہے،ٹیکس کی شرح میں ردوبدل سے کم آمدن والوں پر اثرنہیں پڑے گا،کم ٹیکس دینے والے شعبوں سے مزید ٹیکس لے کر اہداف حاصل کریں گے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ چھوٹے صارفین کی سبسڈی کےلئے216ارب روپے رکھے ہیں،غریب طبقے کےلئے بجٹ100ارب سے بڑھا کا191ارب کر دیا،تیل کی عالمی قیمتیں بڑھنے پر چھوٹے صارفین کےلئے216ارب روپے رکھے ہیں ،انہوں نے کہا کہ برآمدات میں واضح کمی سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا،ریفنڈ نظام کےلئے بنگلہ دیش یا چین کے ماڈل کو اپنائیں گے،ریفنڈ کے سلسلے کو بہتر کرنے کی گنجائش ہے،عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ کمزور طبقے کو احساس دلاناچاہیے حکومت ان کے ساتھ ہے،ترقیاتی منصوبوں میں ڈیمز،سڑکوں کی تعمیر،کراچی اور کوئٹہ کے اضلاع شامل ہیں،کمزور اور غریب طبقے کےلئے اخراجات پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا،غریب طبقے کےلئے بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیاجائےگا۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد