پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت ملنے کے بعد مودی نے بشکیک جانے کیلئے وہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا کہ آپ کو بھی ذہنیت پر ہنسی آجائے گی

پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت ملنے کے بعد مودی نے بشکیک جانے ...
پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت ملنے کے بعد مودی نے بشکیک جانے کیلئے وہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا کہ آپ کو بھی ذہنیت پر ہنسی آجائے گی

  

نئی دلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت ملنے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس مقصد کیلئے متبادل راستہ اختیار کریں گے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے وزیر اعظم نریندر مودی کے طیارے کے راستے کے بارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بشکیک جانے کےلئے وزیراعظم کے طیارے کےلئے دو متبادل راستے تلاش کیے تھے، اب یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ وزیراعظم کا طیارہ عمان ، ایران اور وسط ایشیائی ریاستوں کے فضائی علاقوں سے گزرتا ہوا بشکیک پہنچے گا۔

خیال رہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے پیر کے روز پاکستانی حکومت کو ایک درخواست موصول ہوئی تھی جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے طیارے کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کیلئے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ فروری 2019 میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے بعد پاکستان نے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہے۔ بھارت کی درخواست پر وزیر اعظم عمران خان نے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشورہ کرکے نریندر مودی کے طیارے کیلئے فضائی حدود کھولنے کا حکم دیا تھا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 13 اور 14 جون کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک روانہ ہوں گے ، جہاں ان کی روس کے صدر ولادی مر پیوٹن اور چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقاتیں ہوں گی۔

مزید : بین الاقوامی