وزیر اعظم عمران خان کا گذشتہ دس سال میں لئے گئے قرضوں پر کمیشن بنانے کا اعلان ،ریحام خان نے بھی چبھتا ہوا سوال پوچھ لیا

وزیر اعظم عمران خان کا گذشتہ دس سال میں لئے گئے قرضوں پر کمیشن بنانے کا اعلان ...
وزیر اعظم عمران خان کا گذشتہ دس سال میں لئے گئے قرضوں پر کمیشن بنانے کا اعلان ،ریحام خان نے بھی چبھتا ہوا سوال پوچھ لیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گذشتہ رات گئے قوم سے خطاب کی باز گشت سارا دن ٹی وی چینلز اور سیاسی و عوامی حلقوں میں سنائی دیتی رہی ،اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم کے خطاب کو  شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتیں عمران خان کے خطاب کو  قوم کے دل کی آواز قرار دے رہی ہیں ،ایسے میں وزیر اعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کیسے پیچھے رہ سکتی تھیں ،انہوں نے لندن میں بیٹھ کر وزیر اعظم کی جانب سے گذشتہ دس سالوں میں لئے جانے والے قرضوں پر انکوائری کمیشن بٹھانے کے اعلان پر ایسا سوال پوچھ لیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت بھی خوش ہو جائے گی ۔ 

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور معروف اینکر ریحام خان نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ کل پچھلی حکومتوں نے جو دس سال میں قرضے لیے ہیں اس پر انکوائری کمیشن بنانے کا تو اعلان کیا گیا ہےمگر جو 10 ماہ میں 3 ہزار ارب روپے سے زیادہ قرضے لیے گئے ان کے لیے انکوائری کمیشن کون بنائے گا؟؟۔اپنے ایک اور ٹویٹ میں ریحام خان کا کہنا تھا کہ ’’جس پی ٹی وی پر حملہ کیا گیا تھا اس نے بھی کل وزیراعظم سے خوب بدلہ چکایا ‘‘جبکہ اپنے تیسرے ٹویٹ میں ریحام خان کا کہنا تھا کہ ’’اینکرز کو پہلے میوٹ کیا جاتا ہے ،کل تو ملکی تاریخ میں پہلی بار سرکاری ٹی وی پر وزیراعظم کے الفاظ کو بھی میوٹ ہوتے دیکھا ہے،ویسے تو وزیراعظم قول و فعل میں تضاد کے بادشاہ تھے۔مگر کل تو حد ہی ہو گئی ،کل سرکاری ٹی وی میں بھی زبان اور الفاظ ساتھ دے نہیں رہے تھے۔

یاد رہے کہ گذشتہ رات گئے وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا ، اپنے گھر میں رہتا ہوں ، مجھے کسی کا ڈر نہیں ، میری جان بھی چلی جائے ، چوروں کونہیں چھوڑوں گا ، ہائی پاور کمیشن بنایا ہے جو تحقیقات کرے گا کہ دس سال میں 24ہزارارب روپے کا کیا کیا گیا ؟ اس میں آئی ایس آئی سمیت ملک کے تمام ادارے شامل ہونگے ، 30جون کے بعد بے نامی اثاثے اور جائیدادیں ضبط ہوجائیں گی ، اپوزیشن نے ملک کوتباہ کیا اب شور مچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ  میں ہائی پاور کمیشن بنا رہا ہوں جس میں آئی ایس آئی ، ایف آئی اے  اور ملک کے سارے ادارے ہونگے کہ تاکہ پتہ چلے کہ اس ملک کو اس حال تک پہنچایا کیسے گیا ہے؟ میں ان سے جواب مانگوں کا کہ ان کی جانب سے اس ملک پر 24ہزار روپیہ کیسے چڑھایا گیا ہے ؟یہ سن لیں کہ میں کسی بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا کہ جی ہم سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں اور ہم حکومت گرادیں گے ، میں کسی صورت دباؤ میں آکر بلیک میل ہوکر اپوزیشن کو این آر او نہیں دوں گا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ میری جان بھی چلی جائے میں نے ان چوروں کونہیں چھوڑنا ، میں یہ اللہ سے وعدہ کرکے آیا تھا ، میں نے ان کو نہیں چھوڑنا ، ان کے گالیاں دینے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ، جس نے اس ملک کو نقصان پہنچایاہے ، ان میں سے ایک ایک کو نہیں چھوڑنا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد