اکابرین کے مشن کے امین خطیب اسلام حضرت مو لا نا محمد اجمل خان

اکابرین کے مشن کے امین خطیب اسلام حضرت مو لا نا محمد اجمل خان

  

خان مسعود خان نیازی

خطیب اسلام مجاہد ملت بطل خریت حضرت مو لا نا محمد اجمل خان ؒ نے خطابت اور سیا ست کے میدان میں نصف صدی سے زائد عرصہ تک خد مات سر انجام دیں اللہ پاک نے آپ کو لسان و قلم کی بہترصلاحیتوں سے نوازا تھا۔آپ نے خطابت حق گوئی اور شعلہ نوائی کے ذریعہ جگہ جگہ ایمان وایقان،جذبہ جہاد،علم وعمل اور توحید و سنت کے چراغ روشن کیئے۔دین اسلام کی ترویج واشاعت نا مو س رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیئے زندگی وقف کر رکھی تھی۔خطابت کے میدان میں جب گفتگو کرتے تو اجتماع عظیم میں سناٹا چھا جا تا تھا۔بقول بزرگ الفاظ غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے آپ کے سامنے کھڑے ہوتے تھے آپ کی خطابت اور سامعین کے دلوں کے درمیان پردہ نہ تھا۔ بقول حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ آپ کی خطابت صرف پھیپھڑوں کے زور پر نہ تھی بلکہ علم وعمل کے سانچے میں ڈھل کر نکلتی تھی جو دلوں پر اثر کر تی تھی اور لوگو ں کی زندگیوں میں تبدیلی رونما ہوتی تھی اور زبان سے نکلے الفاظ لو گو ں کے دلوں پر نقش ہو جاتے۔خطیب اسلام حضرت مو لا نا محمد اجمل خان ؒ اپنے اکابر کے سچے وارث اور جا نشین تھے۔شیخ الہند حضرت مو لا نا محمود حسن ؒ جب ما لٹا کی جیل سے رہا ہو کر آئے تو آپ نے اعلان فر ما یا کہ اب ساری عمر قرآن کی تبلیغ کے لیئے وقف کر تا ہوں اور اتحاد امت کے لیئے کام کروں گا۔اس شخصیت نے ما لٹا کی جیل میں اسیری کے ایام میں قرآن پاک کا تر جمہ اور تفسیر لکھی،رہائی کے باعث تفسیر کا کام رک گیا۔اس تفسیر کی تکمیل شیخ الاسلام حضرت مو لا نا شبیر احمد عثمانی نے فر مائی جنہیں پا کستان کا پرچم لہرانے کا اعزاز حاصل ہے حضرت شیخ الہند نے زندگی کا اوڑھنا بچھونا قر آن بنا لیا۔اسی قافلے کے ایک امین اور شیخ الہند کے شاگرد شیخ التفسیر حضرت مو لا نا احمد علی لا ہوریؒ نے قران کے پیغام کو عام کر نے کے لیے چالس برس تک جیل اور ریل میں درس قرآن دیا۔خطیب اسلام کو اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے حضرت احمد علی لاہوری ؒ کی امارت میں جمعیت علماء اسلام کو فعال اور منظم بنانے کے لیئے کا م کیا۔اس طرح بانیان جمعیت میں آپ کا شمار ہو تا ہے۔وہاں حضرت لا ہو ری ؒ کے ساتھ ملکر قر آن پھیلاؤ اورامت میں وحدت کے لیئے کام کیا اور خوب کیا۔

خطیب اسلام کا سب سے بڑا کا رنامہ یہ تھا کہ انہوں نے مسٹر اور مو لو ی کی جنگ کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

لاہور جسے حضرت مجدد الف ثانی نے قطب البلاد قرار دیا کے رو حا نی مر کزی جا مع مسجد رحمانیہ میں بیٹھ کر آپ نے تین وقت درس قر آن کا سلسلہ شروع فر ما یا بعد نماز فجر عوالناس کے لیئے درس قر آن دیتے۔بعد نماز ظہر سر کاری افسران،سرکاری ملا زمین اور کا لج سکول کے اساتذہ کے لیئے درس ہو تا تھا اور بعد نماز عشاء درس قر آن میں ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شریک ہوتے تھے اس درس کا یہ انقلاب آیا کہ مسٹر اور عالم کی تفریق ختم ہو گئی دونوں طبقات کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملا سامراج نے عالم اور مسٹر کے درمیان جو دوری کا مشن شروع کیا تھا اس کے خاتمے کے لیے حضرت مو لا نا احمد علی لا ہوری ؒ،حضرت مو لا نا عبد اللہ در خواستی،مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مو لا نا محمد اجمل خان ؒ نے شب روز محنت کی۔ خطیب اسلام عالم باعمل تھے بات کہنے سے پہلے عمل کے میدان میں کھڑے ہو تے تھے انہی کے درس کے فیض حاصل کر نے والے لوگ آج بھی اعلی پوسٹوں پر مو جو د ہیں۔

ان کے مشن سے کیا انقلاب بر پا ہو ایک واقعہ قارئین کی نظر کر تا ہو ں۔ہمارے ایک ساتھی عدالت کی کرسی انصاف پر تھے لیکن کسی دوست کی کھانا یا چائے کی دعوت کو قبول نہیں کرتے تھے۔احباب کے اصرار کے باوجود چائے یا کھانے کی دعوت کی تو انکار کر دیتے۔ایک دن دوستوں کے شدید اصرار پر انہوں نے کہا کہ میں اکثر روزے میں رہتا ہوں تاکہ میرے حلق سے حرام کا قطرہ یا لقمہ نہ اتر جائے ان سے پو چھا یہ کمال کہا ں سے ملا تو جواب میں کہا کہ یہ کمال خطیب اسلام کے درس قر آن سے ملا۔خطیب اسلام نے مو لا نا احمد علی لاہوری ؒ کے ساتھ سیا ست کے میدان میں جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے سیا ست کا اغاز کیا تھا اور زندگی کے آخری سانس تک اسی قافلے کے روح رواں رہے۔

جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے چلنے والی تحریکا ت میں حضرت احمد علی لاہوری ؒ، حضرت مو لا نا عبد اللہ درخواستی ؒ،حضرت مو لا نا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مو لا نا مفتی محمود ؒ کے ساتھ شانہ بشانہ نظر آئے۔جمعیت علماء اسلام کے اغراض و مقاصد میں شامل تھا اور ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں کلمے کا نظام نافذ کرایا جائے ریکارڈ گواہ ہے کہ خود مسلم لیگ کے رہنماؤں نے کئی موقعوں پر کہا تھا کہ ہمارا منشور اور دستور چودہ سو سال پہلے کا مو جو د ہے ہم اسے ہی اس ملک میں نافذ کریں گئے۔اور جمعیت کے اکابرین مو لا نا شبیر احمد عثمانی ؒ،مو لا نا احمد علی لاہوری ؒ،مو لا نا عبد اللہ درخواستی،ؒمولانا مفتی محمودؒ،مولانا غلام غوث ہزارویؒ،مو لا نا محمد اجمل خان ؒ اور ان کے کئی رفقاحاجی محمد اکرم مرحوم،حاجی محمد ابراہیم،حاجی محمد شہباز خان نیازی مر حوم نے نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کے لیئے قریہ قریہ بستی بستی گاؤں گاؤں نگر نگر پہنچے اور عوام کو اس مشن کے لیئے تیار کیا اور پھر یہ نعرہ ہر ایک کی زبان پر تھا کہ یہ دھرتی اللہ کی ہے نظام بھی اسی کا چلے گا۔خطیب اسلام فر ما یا کرتے تھے کہ وہ وقت ضرور آئے گا جب اس دھرتی پر آمنہ کے لعل ؐکا نظام آئے گا۔جامعہ قاسم العلوم ملتان میں جلسہ میں خطا ب کرتے ہوئے خطیب اسلام نے اس دور کے حکمران سکندر مرز ا سے کہا تھا کہ اسلام ہمارا مقصد ہے جمعیت علماء اسلام اسی مشن کے لیئے کام کر رہی ہے۔اگر یہ کام حکمران کر دیں ہم تمھارے ساتھ ہوں گے ورنہ پر امن جدو جہد جا ری رہے گی لیکن اسلام نافذ نہیں کرو گے تو مو جو دہ اور آنے والے حکمرانوں سے ہمارا مقا بلہ ہو گا اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیئے جان کی بازی لگا نا ہم فخر سمجھتے ہیں۔اس جلسہ سے امیر جمعیت حضرت مو لا نا احمد علی لاہوری ؒ نے خطاب فر ما تے ہوئے کہا کہ میں امیر جمعیت کی حیثیت سے اعلان کرتا ہو ں کہ مو لا نا محمد اجمل خان ؒ نے درست فر ما یا کہ اگر حکمران اسلام نافذ کر دیں تو ہمارا کام مکمل ہو جا ئے گا۔

53ء اور74ء کی تحریک ختم نبوت یا 77ء کی تحریک نظام مصطفی ﷺ میں حضرت خطیب اسلام ؒ کا قائد انہ کر دار تاریخ کا حصہ ہے ہر آمریت کے خلاف جدو جہد میں بھی آپ کا نمایا کر دار ہے قید وبند کی صعوبتیں بر داشت کیں اس مرددرویش نے جیل میں پہنچ کر بھی آواز حق کو بلند کیا جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی خطیب اسلام ؒ نے عشق رسالت ؐ کی روح پھونکی اور انکی تاریخی الفاظ آج بھی اہلیان پا کستان کے کانوں میں بھی گونج رہے ہیں کر سی صرف آیت الکرسی والے کی مضبوط ہے سیا ست کے میدان میں علماء کو کرسی کی خواہش نہیں ہے ممبر کیا حیثیت رکھتا ہے علماء کے پاس تو منمبر رسول ﷺ ہے۔

ارکین اسمبلیاں تمہاری منمبریاں عارضی ہیں منمبر رسول ؐ تا قیامت قائم رہے گا۔ ہم اسلام آباد میں اسلام چاہتے ہیں جس اثرات ملک بھر میں مرتب ہوں گے۔ اور خطیب اسلامؒنے زندگی بھر سرکاری مراعات لیں نہ ہی سرکاری پیشکشوں کو قبول کیا۔قومی اتحاد اسلامی جمہوری اتحادجمہوری،محاذ ملی یکجہتی کونسل دیگر اتحادوں میں جماعت کی نمائندگی اور قیادت کا حقیقی حق ادا کیا اور مختلف ادوار میں وزارت اسلامی نظریاتی کو نسل کے چیئر مین شپ اور دوسری پیشکشوں کو اپنے اکا برین کا امین بن کر ٹھکرادیا۔خطیب اسلام مو لا نا محمد اجمل خان ؒنے ساری عمر در ویشی کی گذاری اور جنازہ اٹھا تو لا ہور کے تاریخی جنازوں میں ایک تھا مرددروش کا جناز ہ مسجدکے ساتھ حجرے سے اٹھا۔حضرت مو لا نا محمد اجمل خان ؒ کا مشن آگے بڑھ ہے اور خوب بڑھ رہاہے۔ اللہ رب العزت جمعیت علماء اسلام کے ذمہ داران اور کارکنان کو مو لا نا شبیر احمد عثمانی ؒ،مو لا نا احمد علی لاہوری ؒ،مو لا نا عبد اللہ درخواستی ؒ، مو لا نا مفتی محموؒ،مو لا نا غلام غوث ہزاروی، مو لا نا محمد اجمل خانؒ اور دیگر اکابرین کے مشن پر عمل کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ پیغام حق کو پھیلانے کی توفیق دے۔ امین

مزید :

ایڈیشن 1 -