حضر ت با با جی محمد یحییٰ رسولنگری ؒ

حضر ت با با جی محمد یحییٰ رسولنگری ؒ

  

اساستاد القرا والمجودین بابا قرآت قاری المقری حضرت بابا جی محمد یحیی رسولنگری رحمتہ اللہ علیہ بات نصیب کی ہے اور قبولیت کی ہے۔1945 میں کیورتھلہ فیروز پور میں ننھیال کے ہاں پیدا ہونے والا یہ بچہ آسمان علم پر یوں چمکے گا کہ ایک زمانہ ان کی خدمات کا معترف رہے گا۔زبان میں لکنت بھی تھی اور ماں کا جلد اٹھ جانا بھی زندگی میں ساتھ تھا۔لیکن مالک نے وہ نوازا کہ ہر کوئی دنگ ہے۔امام القرآ بھی بنے اور استاد القرآن بھی۔جب بات کرتے تو اکثر کو سمجھ نہیں آتی جب قرآن پڑھتے تو زبان بھی صاف اور سمجھ بھی سب رہے ہوتے۔یہ قرآن کا معجزہ ہے۔سکول اس لیے چھوڑ دیا کہ لباس ساتر نہیں ہوتا تھا۔مدرسے اس لیے بدلے کہ استاذہ میں سختی کا عنصر تھا۔درس ڈھلیانہ سے شروع ہونے والا سفر خیر بحر العلوم سعودیہ کراچی میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔عالم تو بہت سارے تھے لیکن قاری عالم کا تصور نہ تھا یہ کام پہلے خود کیا اپنے استاد شیخ المشائخ قاری اظہار احمد تھانوی رحمتہ اللہ علیہ سے کسب فیض کیا۔پھر اس کو لے کر پورے عالم میں پھیلا دیا۔ تعلیمی سفر کی روداد کچھ یوں ہے۔حفظ جامعہ عثمانیہ گول چوک اوکاڑہ سے،تجوید و قرات قاری اظہار احمد تھانوی سے،درس نظامی جامع قدس چوک دالگراں سے جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور پھر کراچی میں جامعہ بحر العلوم سعودیہ سے اور تجوید و قرات عشرہ استاذ الشیخ قاری حبیب اللہ افغانی رحمتہ اللہ علیہ سے مکمل کی۔طالب علم متوسط تھے لیکن اپنے اساتذہ کے مؤدب بہت تھے جس کی وجہ سے یہ سلسلہ خیر رب نے جاری کروایا۔سلسلہ تدریس بھی کراچی میں بحر العلوم سعودیہ سے ہی جاری ہوا اور 50 سال تک جاری رہا۔1977 پنجاب کے بڑے ہی نفیس اور نستعلیق شہر ساہیوال میں پڑاؤ دالقرآ جامعہ عزیزیہ کے نام سے ڈالا اور اب وہ ایک تحریک قرآن کی شکل اختیار کر گیا ہے۔اساتذہ میں ڈاکٹر حافظ عبدالرحمان مدنی حفظہ اللہ،مولانا ابو البرکات،مولانا یحیی بھجیانوی،علامہ سعید کلکتوی اور دیگر شامل ہیں۔علم قرآت کے اساتذہ جو علم ان کی پہچان بنا شیخ المشائخ قاری اظہار احمد تھانوی،قاری المقری حبیب اللہ افغانی رحمتہ اللہ علیہ شامل ہیں۔ہم عصر علما کرام میں مولانا حفیظ الرحمان لکھوی،مولانا عبدالعزیز علوی،مولا نا عبدالعزیز حنیف شامل تھے۔باقاعدہ تدریس کا سلسلہ 1970 میں جامع مسجد لسوڑی والی لاہور سے شروع ہوا اور جو 2020 تک جاری رہا اب بھی جاری ہے مگر جنت میں ان شااللہ۔آپ نے شاگرد نہیں اولاد پالی ہے۔اس لیے ہر عزیزی اپنے استاد کے فراق میں مغموم ہے۔آنکھیں بہہ رہی ہیں دل مغموم ہے لیکن ہم مالک کی رضا پر راضی ہیں۔آپ کا فیض صرف پاکستان میں ہی نہیں عرب میں بھی جاری رہا امام کعبہ الشیخ سعود بن ابراہیم الشریم نے آپ سے باقاعدہ کسب فیض کیا۔وہ آپ کو اپنے گھر لے جایا کرتے اور علم قرآت سیکھتے۔ریاض کی معروف علمی شخصیت عادل بن سالم کلبانی امام تراویح حرمین الشریفین معروف سعودی قاری ناصر القطامی،الشیخ ابراہیم بن جبریل الجبریل، الشیخ عبدالعزیز السلیم،سعد بن عبداللہ الحمید،الشیخ الدکتور سعد بن عبداللہ السعدان نے آپ علامہ قرآت کے لقب سے یاد فرمایا اس کے علامہ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ،الشیخ ابن باز رحمہ اللہ اور الشیخ ابن عثیمین سے بھی آپ کی ملاقاتیں تھی۔فللہ الحمد اہم شاگرد قاری ابرہیم میر محمدی،قاری حمزہ مدنی،قاری عبدالسلام عزیزی،قاری بشیر احمد عزیزی،قاری سرور عزیزی،قاری عبید اللہ غازی،قاری محمودالحسن بڈھیمالوی،قاری محمد،اور اشرف رسولنگری،اور قاری شکیل احمد رسولنگری اور دیگر نامور قرآ شامل ہیں۔اپنی پسماندگان میں دو بیویاں اور 9 بیٹے اور 4 بیٹاں شامل سارے کے سارے دین کے ساتھ منسلک ہیں۔اور خدمت دین سر انجام دے رہے ہیں۔ سب سے بڑے بیٹے قاری سالم رسولنگری اور قاری اظہار احمدرسولنگری وہی جامعہ عزیزیہ کے ناظم ہیں اور سب سے چھوٹا بیٹا قاری منصور عزیزی ہیں۔اپنے سوگواران میں لاکھوں شاگرد ہیں جو ان کے لیے ہمہ وقت دعا گو ہیں۔زندگی کا اہم واقعہ آپ کراچی پڑھتے تھے تو بہت بیمار ہو گے۔اپنے گھر آنے کے لیے ٹرین کا انتظار کر رہے تھے کہ ایک سفید داڑھی سفید لباس والے بزرگ بھی وہاں پہنچے۔ان کے اردگرد ان کے مریدین تھے۔آپ کو شوق ہوا کیوں نا ان سے دعا خیر کروائی جائے۔ آپ قریب ہوئے اور بڑی لجاجت سے اپنا تعارف کروایا۔وہ اس وقت جلال میں تھے انہوں نے سینے سے بھی لگایا اور دعا بھی کی۔جا تیرا فیض بھی جاری ہو گا اور تو بیمار بھی نہیں ہوگا۔اس دعا کا کمال دیکھیں ساری زندگی شہزادوں سی گزاری اور فیض بھی خوب عام ہوا۔اور آپ کو میں نے ساری زندگی کبھی ٹیکہ انجکشن لگواتے نہیں دیکھا۔اپنی وفات سے ایک دن پہلے خودنئے قبرستان کا بورڈ لگوانے کا حکم صادر کیا۔اور عبارت بھی لفظ لفظ خود لکھوائی،،زیر سرپرستی حسب حکم فقیر قاری محمد یحیی رسولنگری حفظہ اللہ،،کس کو معلوم تھا اتنی جلدی میں اپنے قبرستان کا بورڈ لکھوانے والا خود اس کا مکین بن جائے گا آپ نے ساری زندگی سفید شلوار قمیض،سفید پگ اور سفید رومال اوڑھا اور اسی سفید میں یہ سفید پوش اپنی منزل کو روانہ ہوا گیا۔ اللہ ان کے درجات کو بلند فرمائے اور لواحقین اور شاگردوں کو صبر جمیل عطا فرمائے 31 مئی بروز اتوار 2020؛کو یہ آفتاب قرآن منزل کو پہنچا۔ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو آبائی گاؤں چک نمبر 15 ون آر رسولنگر اوکاڑہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔آپ کے شاگردوں نے اپنے۔ ہاتھوں سے قبر میں اتارا۔میرے لیے اعزازیہ ہے آپ میرے خالو اوروالد سسر تھے۔عبدالباسط بلوچ

مزید :

ایڈیشن 1 -