پیاروں کی رخصتی کا غم

پیاروں کی رخصتی کا غم
 پیاروں کی رخصتی کا غم

  

دنیا کی سب سے بڑی حقیقت کا نام موت ہے جو اس دنیا میں آیا اس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ دنیا کے حوالے سے میرے دوست راجہ منور نے ایک فقرہ جاری کیا جس میں کہا گیا تھا ”جدید تحقیق کے مطابق دنیا گول نہیں مطلبی ہے“ میں نے اسی فقرے کو سوشل میڈیا پر جاری کیا تو دلچسپ تبصرے دیکھنے کو ملے یہ زندگی کی حقیقت ہے اس کو ظالم کہنے والے بھی موجود ہیں اس کو رخت سفر کرنے والے بھی موجود ہیں زندگی کو فرمان رسولﷺ کے مطابق گزارنے اور اللہ کی بارگاہ میں سربسجود ہونے والے بھی موجود ہیں، زندگی کو سب کچھ سمجھ کر اوڑنا بچھونا سمجھنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ دنیا اور زندگی پر کئی کالم ہی نہیں کتابیں لکھنے والے بھی موجود ہیں اگر مختصر کہا جائے دنیا ایسا گورکھ دھندہ ہے زندہ لوگوں سے ہی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں زندہ افراد کی چاپلوسی اور خوشامد کی جاتی ہے اگر حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے، مطلبی دنیا ہو یا خود غرضی کی، رضائے الٰہی اک سفر ہو، البتہ ابدی نیند سونے والے کا اپنے زندہ لوگوں سے اتنا تعلق ضرور ہوتا ہے اس کی ہمیشہ والی زندگی کے سفر کو یادگار بنایا جائے۔

میت کو کندھا دیا جائے نماز جنازہ پڑھی جائے اور منوں مٹی کے نیچے دفن کرنے کے بعد دعائے مغفرت کی جائے ”حق تو یہ ہے حق ادا نہ ہوا“ بہت ہی پیاروں راج دلاروں کی اچانک موت کی وجہ سے غم زدہ ہوں خون کے آنسو رو رہا ہوں اللہ کی طرف سے آنے والی کورونا کی آزمائش کی وجہ سے چاروں اطراف موت کے سائے منڈلا رہے ہیں ہمارے ساتھ زندگی کی رونقوں کو چار چاند لگانے والے میرے پیارے احباب دوست ایک ایک کرکے جا رہے اور ہمیں پیغام دے رہے ہیں اب آپ کی باری ہے۔ دنیا بھر میں 4لاکھ 20ہزار لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ 75لاکھ افراد متاثرہو چکے ہیں پاکستان میں ہر گھنٹے میں 4اموات ہونے لگیں ہیں صورت حال اتنی خوف ناک ہو گئی ہے جو موت کا مذاق اڑاتے تھے۔ سینٹی ٹائزر اور ماسک کو مذاق سمجھتے تھے وہ اب اپنے ساتھ رہنے والوں کے جنازے کو بھی فرض کفایہ قرار دے کر موت سے دور بھاگنے کی کوشش میں ہیں۔ کیا اس طرح موت سے بچا جا سکتا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑکا واقعہ ہماری عبرت کے لئے کافی ہے۔ موت کا فرشتہ جان نکالنے آیا تو حضرت موسیٰ ؑنے فرشتے کو تھپڑ جڈ کر کہا جاؤ میرے رب کو کہہ دو میں نے ابھی نہیں مرنا فرشتہ رب کے پاس واپس چلا گیا رب نے فرمایا موسیٰ ؑ سے پوچھو اور کتنے سو سال چاہئیں فرشتے اور حضرت موسیٰؑ کے ڈائیلاگ تاریخ کا حصہ ہیں۔

حضرت موسیٰ ؑ کے آخری فقرات ہیں اتنے سو سال کے بعد پھر کیا ہو گا تو فرشتے نے کہا پھر موت، اگر موت نے آنا ہی ہے تو ہم کیوں حقیقت کو جھٹلا رہے ہیں موت سے بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ سے رجوع کرنے، اس کی بارگاہ میں سربسجود ہونے کی ضرورت ہے۔ آج کا کالم گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں جدائی کا غم دینے والوں کی یادوں کو تازہ کرنے کے نام کرنا چاہتا تھا۔ رخصت ہونے والوں کی فہرست اتنی طویل ہو رہی ہے ایک کالم بہت کم لگنے لگا ہے۔ گزشتہ ماہ حج و عمرہ سے وابستہ افراد سلسل سے جدا ہوئے جن میں فیصل آباد عابد مدنی، حاجی داؤد، ندیم اقبال کی والدہ محترمہ کراچی سے منیر انصاری، کے پی کے سے مسعود شنواری کی والدہ اور لاہور سے میرے بڑے ہی محترم بھائی مشتاق چودھری کی اہلیہ اور اخبار فروش یونین لاہور کے سرپرستی اور اخبار فروشوں میں یکسان مقبول روزنامہ خبریں کے چیف نیوز ایجنٹ محمد رفیق مغل کی اچانک رخصتی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا حالانکہ چودھری مشتاق کی اہلیہ کے جنازے میں ہم صدر اخبار فروش یونین چودھری نذیر احمد کی قیادت میں چودھری مبشر، چودھری مصدق، چودھری مشرف اور دیگر معززین کے ساتھ شریک ہوئے اور جنازہ رفیق مغل صاحب کے ساتھ پڑھا ایک گھنٹہ سے زائد وقت تک دفن کرنے تک جنازگاہ رفیق مغل کی خوبصورت شخصیت کے سحر میں گرفتار رہے،رفیق مغل ایک نیوز ایجنٹ ہی نہیں تھا ایسی دلکش اور اخلاص والی شخصیت تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے 1997ء میں ”زندگی“ اور ”قومی ڈائجسٹ“ کی وجہ سے اخبار مارکیٹ سے واسطہ شروع ہوا اور چودھری نذیر احمد، چودھری عاشق علی، ملک تنویر، ارشد، ملک الیاس، جاوید اقبال، رانا جاوید،رانا منیر اور بہت سے دوسری مہربانوں سے واسطہ پڑھا25سال میں تسلسل سے سرپرستی اور شفقت کا رویہ رفیق مغل صاحب کا خاصا رہا۔ شائد دوسرا کوئی ایسا نہ کر سکے۔

کورونا کی وبا کی تباہ کاریاں اپنی جگہ کورونا نے زندگی کی اوقات سے بھی آگاہ کیا ہے۔ رشتوں کی حقیقت بھی بتائی ہے۔ ایک دوسرے پر جان دینے والے جینے مرنے کی قسمیں کھانے والے گلے ملنا تو دور کی بات دور سے سلام کو ہی افضل ترین نیکی قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ بدھ کا دن بھی میرے لئے قیامت سے کم نہیں، منگل کی سہ پہر مین نے ہوپ کے واٹس اپ گروپ میں حج و عمرہ کی معروف ترین شخصیت فیصل صابر بٹ کی علالت کی خبر سنی،تصدیق کی تو پتہ چلا دونوں ٹانگوں کے درمیان پھوڑے کے آپریشن کے لئے حمید لطیف ہسپتال میں 10روز سے داخل ہیں گزشتہ روز ڈاکٹرز ہسپتال منتقل ہو گئے ہیں آج آپریشن ہو گا شام کو چھ بجے میں نے واٹس اپ کیا صحت یابی کے لئے دعائیں دیں تو جواب آیا بات نہیں کر سکتا SMS فیصل بھائی نے خود کیا۔نماز فجر سے پہلے حسب روایت احباب تک خبروں کی آگاہی کے لئے اٹھا تو فیصل صابر بٹ کی اچانک رحلت کی ہولناک خبر میرے لئے موجود تھی۔ فیصل صابر بٹ یاروں کا یار مخلص دوست ڈٹ جانے والا، دوٹوک موقف کے ساتھ دکھ درد میں شریک ہو کر فخر کرنے والا، مکہ مدینہ کا ساتھی بڑی دیر تک رلاتا رہا گزشتہ 4سال تک ہم سابق ڈائریکٹر حج سعید ملک کی محبت کی وجہ سے فیصل صابر بٹ عمران بٹ کے ساتھ نماز جمعتہ المبارک حاجی کیمپ لاہور میں ادا کرتے رہے یہ سلسلہ ملک سعید صاحب کی ریٹائرمنٹ تک جاری رہا۔ شاہ عالم مارکیٹ میں ان کی ضیافتیں، ہر سال حج ٹریننگ پروگرام میں لازمی شرکت، مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد اعوان جیسے شفیق دوست اور مہربان کا تحفہ فیصل صابر بٹ کے احسانات ہیں جو میں اتار نہیں سکوں گا۔

فیصل صابر بٹ ایک انجمن تھا جو اپنے خاندان کا کوارڈینیٹر ہونے کے ساتھ ساتھ حج آرگنائزر کے حقوق کا تحفظ بھی آخر تک کرتا رہا۔ اللہ ان کی آخری منزل آسان بنائے اور ان کے والدین اور بچوں اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ فیصل صابر بٹ کی یادیں اپنے گھر والوں سے شیئر کر رہا تھا کہ روزنامہ ”پاکستان“ کے بزنس سیکشن کے روح رواں اکاؤنٹ منیجر غلام مصطفی بھائی کی رحلت کا ایس ایم ایس آ گیا ان سے بھی احترام اور بھائی چارے کا تعلق تھا۔ بڑا ملنسار،سادہ اور نفیس انسان تھا۔ ایک دن میں دو احباب کے جنازے پڑھ کر فارغ ہوا تو حرمت رسول ٹریول کے جاوید اقبال شیخ کی ہمشیرہ اور سٹی 42 کے ایڈیٹر اور بڑے بھائی نوید چودھری کی ہمشیرہ کی اموات کی اطلاع ملی ان سے صرف واٹس اپ تک ہی تعزیت کی جا سکی۔جنگ کے نیوز ایجنٹ رانا منیر بھی اچانک دکھ دے گئے۔ نفسانفسی کی زندگی کا یہ پہلو مختلف نظر آتا ہے جہاں ہر بندہ بظاہر فارغ ہے مگر محبت، تعلق، اخلاص کی رسم زبان سے وہ بھی دور رہ کر ادا کرنا چاہتا ہے اللہ اس نئے فتنے سے محفوظ رکھے اور ہم سے پہلے خالق حقیقی سے ملنے والوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے اور میرے اور میرے احباب جو عزیز اقارب کی رخصتی کی وجہ سے کرب کا شکار ہیں ان کو صبر عطا فرمائے اللہ سے دعا ہے کورونا کی وبا سے پوری امت مسلمہ کو نجات دے اور ہمیں ہمارے بچوں اور دوستوں اور ان کے خاندان کو اس وبا سے محفوظ رکھے اور ہم سے راضی ہو جائے میرے محسن صدر اخبار فروش یونین چودھری نذیر احمد بھی شدید علیل ہیں ان کے لئے بھی خصوصی دعا کی درخواست ہے۔

مزید :

رائے -کالم -