چوکیدار پابند،چور آزاد

چوکیدار پابند،چور آزاد
 چوکیدار پابند،چور آزاد

  

کورونا وائرس اور ٹڈی دل کے حملوں کے دوران آٹا،چینی،ادویہ اور پٹرول کے دھماکوں نے قوم کے اکثریتی طبقہ کیلئے سانس لینا محال کر دیا ہے،معلوم نہیں ہماری کوتاہ اندیشی ہے یا آسمان والا ہم سے ناراض کہ بحران اور حادثات،سانحات ہمارا مقدر بن چکے ہیں،ابھی ایک مسئلہ سے نبٹنے کیلئے ہاتھ پاوں مار رہے ہوتے ہیں کہ دوسرا مسئلہ سر اٹھا لیتا ہے پہلے کو ادھورا چھوڑ کر ہم نئے مسئلہ کے حل میں مگن ہو جاتے ہیں نتیجے میں کسی مسئلہ کو بھی جڑ سے ختم نہیں کر پاتے،حکمرانوں کی ناہلی ہے حکام کرپٹ ہیں، پالیسیوں میں عدم تسلسل ہے کہ ہم کسی مشکل سے نبرد آزما ہونے کیلئے غلط افراد پر تکیہ کر لیتے ہیں مگر افسوس جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے کہ بحران ہمارا پیچھا ہی نہیں چھوڑتے۔

عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19کے حوالے سے ایک اور دھماکہ خیز رپورٹ دیکر قوم کی نیند حرام کر دی ہے،عالمی ادارہ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران بھی کورونا کے روزانہ ایک ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوتے تھے عید کے موقع پر لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے دوران یہ تعداد دو ہزار ہوئی اور اس وقت پاکستان میں روزانہ 4ہزار مریض رپورٹ ہو رہے ہیں،معلوم نہیں حکومت متاثرین کی تعداد کو کم اور ہلاکتوں کی تعداد کو زیادہ بنا کر کیوں پیش کر رہی ہے،یہ اطلاعات بھی گردش میں ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں مرنے والے ہر مریض کو کورونا کا شکار قرار دیدیا جاتا ہے لواحقین کی مرضی کے بغیر کورونا سے ہلاکت کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے،وجہ حکومت جانے یا متعلقہ محکمے یا ڈاکٹر صاحبان،تاہم کسی حکومتی ذمہ د ار نے اس اطلاع کی تردید نہیں کی جو اس کی تصدیق کے مترادف ہے۔

کورونا کی تباہ کاری سے نبٹنے کے صرف دو راستے ہیں، بہت پہلے میں نے لکھا تھا ،کرفیو طرز کا سخت لاک ڈاؤن یا سخت ترین حفاظتی اقدامات،لاک ڈاؤن پر وزیر اعظم رضامند نہیں اور ان کا موقف درست بھی ہے کہ سخت لاک ڈاؤن کے نتیجے میں بھوک کا بحران جنم لے گا جس کے بطن سے مزید بحران جنم لے سکتے ہیں جن میں لوٹ مار اور امن و امان جیسے مسائل سر فہرست ہو سکتے ہیں جب کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر ہماری قوم کا بڑا طبقہ تیار نہیں،جس کے باعث رمضان کے آخری دنوں،چاند رات اور عید کے موقع پر وہ بے احتیاطی کی گئی کہ کورونا وائرس بھی پناہ مانگنے لگا،ہماری نوجوان نسل نے کورونا کو پھلنے پھولنے کے وافر مواقع فراہم کئے جس کا نتیجہ آج ہمارا نظام صحت بھگت رہا ہے،ہسپتالوں میں عملہ،ادویہ،بیڈ،حفاظتی لباس،ماسکس،وینٹی لیٹرز ٹیسٹ کی سہولیات دستیاب نہیں،نجی ہسپتالوں پرائیویٹ کلینکس کی اس صورتحال میں عید ہو گئی اور انہوں نے دونوں ہاتھوں سے مریضوں،متاثرین کو لوٹنا شروع کر دیا،اس حوالے سے بھی مرکزی اور صوبائی حکومتیں خاموش تماشائی ہیں،ان کو سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ کیا کیا جائے،ہماری قوم بھی بھوک کے مقابلہ کیلئے موت خریدنے پر تیار ہے،حکومت نے اس سلسلہ میں ایس اوپیز تشکیل دئے ہیں تو ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا جو اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات ہے،اگر قوم کو بچانا ہے تو سخت ترین حفاظتی اقدامات اور ان پر بے رحمی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے ورنہ تباہی مقدر ہوگی پھر قسمت یا تقدیر سے شکوہ بھی بے سود ہو گا۔

ادھر تیار فصلوں اور باغات پر ٹڈی دل حملہ آور ہے،اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق اگر اس کا ازالہ نہ ہواء تو کرونا سے زیادہ نقصان ہو گا،شعبہ زراعت ملکی معیشت کا بنیادی جز ہے،ملک کی اکثریتی آبادی کا روزگاراس شعبہ سے وابستہ ہے،اگر رواں سال فصلیں تباہ ہو گئیں تو گندم بھی درآمد کرنا پڑے گی جس کی قلت کے باوجود گندم آٹے کی سمگلنگ بھی جاری ہے اور گزشتہ دنوں بر آمد کی اجازت بھی دے دی گئی تھی جو اپنی جگہ ایک جرم اور بڑا سکینڈل تھا،جس کی اب تک کی انکوائری سے کچھ برآمد نہیں ہو سکا،ملزم جانے پہچانے مگر کسی پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا،شوگر ملز مالکان کو چینی بر آمد کرنے کی اجازت دیدی گئی نتیجے میں اندرون ملک چینی مہنگی بھی ہو گئی اور قلت کا بھی سامنا ہے،اس سکینڈل میں حکومتی اور اپوزیشن کی اہم شخصیات نے سبسڈی کے ذریعے کروڑوں اربوں کمائے،یہ اب تک اچنبھا ہے کہ برآمد پر سبسڈی دینے کی کیا ضرورت تھی اور کس کے حکم پر دی گئی۔

محتاط اندازہ کے مطابق چینی کی فی کلو تیاری پر لاگت 45سے48روپے ہے مگر مارکیٹ میں 72روپے کلو فروخت ہو رہی تھی،اس پر طرفہ تماشا یوٹیلیٹی سٹورز کو82روپے کلو میں خریداری کی اجازت دے دی گئی اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریڑن نے اپنی تاریخ کی سب سے زیادہ خریداری کر لی اب چینی کو سٹاک کرنا کارپوریشن کیلئے مسئلہ بنا ہوا ہے،یہ سب کیا ہو رہا ہے کون کر رہا ہے؟اب تک اس پر سوالیہ نشان ہے،متعلقہ وزارت خاموش،ایک اطلاع کے مطابق سابق کین اور شوگر کمشنر بھی ملوث،اب تک انکوائری کیلئے فائلیں بھی نہیں کھلیں،جو شکوک و شبہات کو جنم دینے اور حکومتی کارکردگی پر انگلی اٹھانے کو بہت مواد فراہم کرتا ہے،وزیراعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر کیخلاف نیب نے انکوائری کا حکم دیدیا ہے مگر چینی سکینڈل کے اہم ملزم جہانگیر ترین پورے پروٹوکول کیساتھ لندن روانہ ہو چکے ہیں،ڈریپ اور اوگرا کے حکام بھی پٹرولیم مصنوعات اور ادویہ کے سکینڈل میں پوری طرح ملوث ہیں،نیب نے ان کو بھی طلب کیا مگر جیسے شہباز شریف اپنے سات ارب کے اثاثوں کی خریداری کیلئے آمدن کے ذرائع نہ بتا سکے اسی طرح ان ریگولیٹری اداروں کے سربراہ بھی نیب کو مطمئن نہ کر سکے،ادویہ کے سکینڈل میں تو بھارت سے بھی ممنوعہ کیمیکلز اور ادویہ منگوانے کی خبریں ہیں، لگتا ہے ڈاکٹر ظفر کے ساتھ کچھ اور حکومتی شخصیات بھی ملوث ہیں،مگر کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

عالمی منڈی میں کروڈ آئل سستا ہونے پر وفاقی حکومت نے دو مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی پہلی مرتبہ اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا دوسری مرتبہ آئل کمپنیوں نے قلت پیدا کر دی،تین کمپنیوں کے ملوث ہونے کے شواہد ہیں،شہری پٹرول حاصل کرنے کیلئے در بدر ہیں،اول ملتا نہیں ملتا ہے تو پرانے نرخ پر پمپ مالکان قیمت میں کمی پر تیار نہیں،ڈریپ دواؤں کے سکینڈل اوگرا پٹرول سکینڈل میں ملوث،نگرانی کون کرے گا جب چوکیدار ہی چور سے مل جائے،آئل کمپنیاں کم از کم تین ہفتے کا سٹاک رکھنے کی پابند ہیں مگر یہ قانونی تقاضا بھی پورا نہ کیا گیا،جبکہ عالمی منڈی میں تیل انتہائی سستا ہو چکا ہے،یا یہ ادارے منافع خور مافیا سے مل کر پرانے نرخوں پر خریدا تیل نئے نرخ پر بیچنے کو تیار نہیں،کون ہے جو عوام کو تحفظ،ریلیف دے گا،کون صارفین کے حقوق کی نگہبانی کرے گا،حکومت میں اتنا بل بوتا دکھائی نہیں دیتا،اور بیوروکریسی کے تجربے کار،اہل، دیانتدار، تربیت یافتہ افسروں پر حکومت اعتماد کرنے اور ان سے کام لینے کو تیار نہیں،دودھ کی رکھوالی پر بلے بٹھا دئیے گئے ہیں،چوکیدار کو پابند کر کے چوروں کو کھلی چھٹی دیدی گئی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -