حکومت ایس او پیز کے تحت مدارس کھولنے کی اجازت دے،راغب نعیمی

حکومت ایس او پیز کے تحت مدارس کھولنے کی اجازت دے،راغب نعیمی

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ وممبراسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہاہے کہ حکومت ایس او پیز کے تحت مدارس تعلیم وتدریس کی اجازت دے،مدارس سے کرونا نہیں پھیلے گا۔انسداد کرونا مہم مذہبی لوگوں کاکردار دیگر طبقات کے لئے رول ماڈل ہے۔حکومت مدارس سے امتیاز ی سلوک بند کرے۔ دینی فرائض کی ادائیگی کے لئے سب سے سخت ایس او پیز بنائے گئے جبکہ دیگر طبقات کے آگے حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔صحت،تعلیم ا ورمعاشی محاذ پر حکومت کی کارکردگی قابل تشویش ہے۔مہنگائی نے بھی عوام کی زندگیاں اجیرن بنادیں ہیں۔سخت حالات میں بھی دینی اقدار کے تحفظ،مدارس کی آزادی کے لئے ڈ اکٹرسرفراز نعیمی شہید کاکردار تاریخ کاروشن باب ہے۔ ڈاکٹرسرفراز نعیمی شہیدؒکی شہاد ت سے حق وباطل کافرق واضح ہوگیا ہے۔مساجد اور مدارس کے ایک سال کے لئے تمام بجلی،گیس دیگر بل کومعاف کیا جائے۔

کرونا مریضوں کی جانیں بچانے کیلئے ڈاکٹرز،پیرا میڈیکل سٹاف دیگر اداروں کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔کرونا وائر س سے جاں بحق ڈاکٹرز کو شہید کادرجہ دیاجائے۔گستاخانہ مواد پر مبنی کتابوں پر پابندی پر ارکان پنجاب اسمبلی کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روزڈاکٹرسر فراز نعیمی شہیدؒ کے 11واں یوم شہادت کے موقع پر جامعہ نعیمیہ میں منعقدہ شہیدپاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کی صدارت شیخ الحدیث مفتی عبدالعلیم سیالوی،شیخ الحدیث مفتی انور القادری نے فرمائی۔ تقریب سے تحفظ ناموس رسالت محاذ کے صدر صاحبزادہ رضائے مصطفی نقشبندی،دارالعلوم جامعہ نظامیہ کی نمائندہ تنظیم مجلس علماء نظامیہ مولانا عمران الحسن فارقی،پاکستان سنی تحریک کے رہنمامولانا شریف الدین قذافی،نعیمین ایسو سی ایشن پاکستان کے صدرڈاکٹرمفتی حسیب قا دری،مولانا محمدعلی نقشبندی ودیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ معروف مذہبی سکالر علامہ محمدقاسم علوی،مفتی قیصر شہزاد نعیمی دیگر نے قراددایں پیش کیں۔ تقریب میں تحریک منہاج القرآن علماء کونسل کے رہنمامولانا امداد اللہ نعیمی،مولانا شفقت علی یوسفی،مولانا حفظ اظہر،مفتی ندیم قمر،ڈاکٹرسلیمان قادری،مولانا غلام مرتضی نقشبندی،پروفیسر ارشد اقبال نعیمی،محمدعاطق نعیمی،قاری محمدرفیق نقشبندی،پیر محمدارشد نعیمی،مفتی انتخاب احمد نوری،قاری مختار احمد، مفتی ابوبکر قریشی،پروفیسر وارث علی شاہین،پیر سید شہباز احمد سیفی،مولانا مسعود احمدسیالوی،ماسٹر اشفاق احمد،پیر سید زین العابدین شاہ،مفتی محمدمدنی،مفتی بلال فارق نعیمی،مولانا ذوالفقا ر احمدسیفی،مولانا عمرفاروق صدیقی،مولانا راشد علی نعیمی،مولانا عابد علی نعیمی،حافظ محمدعبداللہ نعیمی،قاری محمدمبشر نعیمی،،مولانا علی رضا صابری،صوفی عثمان قادری،مولانا سعید احمدنقیبی،پیرفاروق احمدسمیت دیگر علماء کرام سمیت طلبہ کی کثیر تعداد شریک ہوئے۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہاکہ ڈاکٹرسرفراز نعیمی شہید ؒ نے جرأت وبے باکی کے ساتھ طالبان کے خلاف فکری محاذ کا آغاز کیا۔ آپ نے ”اسلامی ریاست“پاکستان کے خلاف طالبان کے گھڑے فکری مغالطوں کو دلیل سے رد کیا۔ تمام مکتبہ فکر کے علمائے کرام کو ان کے باطل نظریات کی بنیاد پر پھیلتی دہشت گردی کے خلاف اکٹھا کیا۔آپ کی شہادت نے ان لوگوں کی گومگو کی اس کیفیت کوختم کر دیا جو اسلام کے نام پر طالبان کی طرف سے کی جانیوالی دہشت گردی کے حرام ہونے کے بارے شش وپنج میں مبتلا تھے۔ ریاست وحکومت اب ان کے بارے میں راست اقدام اٹھانے کے لیے تیار ہو گئی اورسوات ودیگر علاقوں میں طالبان کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا آغاز ہو گیا۔ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی شہید سادگی کا مرقع، گفتگو میں چاشنی، چال میں وقار ومتانت، کام میں جہد مسلسل اور بغیر عہدے کے لالچ سے مل کر کام کرنے کے خوگر تھے۔ آپ نے دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کے پرنسپل، تحفظ ناموس رسالت محاذ کے سیکرٹری جنرل، اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر،متحدہ علماء بورڈ،پنجاب قرآن بورڈ اور اتحاد بین المسلمین کمیٹی کے ممبر کے طور پر لازوال خدمات پیش کیں۔تقریب کے اختتام پرشیخ الحدیث مفتی عبدالعلیم سیالوی نے ملک وقوم کی سلامتی کیلئے خصوصی دعاکرائی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -